پراویڈنٹ فنڈ جائز مد میں لگا کر نفع لینا کیسا؟

    Provident Fund jaiz mad mein laga kar nafa lena kaisa

    تاریخ: 27 اپریل، 2026
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 1239

    سوال

    السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میرا سوال پرویڈنٹ فنڈ کے حوالے سے ہے ۔ ہماری کمپنی اس کے لیے 3 طریقے دیتی ہیں 1۔ کوئی منافع نہیں 2۔ سود ی منافع 3۔ شریعہ کمپلینٹ (Sharia Complaint) منافع کیا ہم تیسرا طریقہ شریعہ کمپلینٹ کو منتخب کر سکتے ہیں ۔ کمپنی یہ disclos نہیں کر تی کے وہ کہا یا کس ادارے میں یہ انویسٹ کرتے ہیں۔ کیا یہاں investmen جائز ہو گی -

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر کمپنی سے عقدِ تجارت یا مضاربت کا اس طرح معاہدہ ہو کہ کمپنی ملازم کی رقم کو کسی غیر سودی ادارے میں انویسٹمنٹ کرے گی اور عقدِ اجارہ و مضاربت کے تمام شرائط کے ساتھ معاہدہ ہو،تو پھر اصل رقم کے اوپر ملنے والا نفع (Profit) )بھی لینا درست ہوگالیکن یہ صورت نادر ہے کہ ایسا ہوتا نہیں۔