شوہر اور بیوی کا الفاظ طلاق میں اختلاف
    تاریخ: 24 جنوری، 2026
    مشاہدات: 20
    حوالہ: 655

    سوال

    بیوی کا بیان:

    میرا یہ بیان حلفی ہے،کہ میرے شوہر نے کچھ عرصہ قبل میری نند کے سامنے مجھے دو طلاقیں دی جس کے الفاظ یہ تھے ، یہ مجھ پر شک کرتی ہے ہاتھا پائی کرتی ہے اس لئے میں اسے طلاق دیتا ہوں ،میں اسے طلاق دیتا ہوں۔ان دو طلاقوں کے علاوہ ایک سال پہلے مجھے ایک طلاق دے چکے ہیں ، جس کے الفاظ یہ ہیں کہ میں تمہیں فارغ کرتا ہوں ۔جسکے بعد رجوع کرلیا تھا۔ اس وقت طلاق کے کوئی گواہ موجود نہیں تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمارا رشتہ ختم ہوگیا یا پھر گنجائش موجود ہے۔

    سائلہ: شازیہ : کراچی

    شوہر کا بیان :

    میرا یہ بیان حلفی ہے،کہ میری اہلیہ سے میرا جھگڑا ہوگیا جس پر میں نے اپنی بہن کے سامنے کہا'' یہ مجھ پر شک کرتی ہے ہاتھا پائی کرتی ہے اس لئے میں اسکو طلاق دیتا ہوں ،میں اسکو طلاق دیتا ہوں۔''واضح رہے کچھ عرصہ تقریبا ڈیڑھ سال پہلے کسی بات پر غصہ ہوکر کہا تھا کہ میں تمہیں فارغ کردونگا۔یہ الفاظ طلاق کی نیت سے نہیں کہے تھے بلکہ ڈرانے دھمکانے کے لئے کہا تھا۔ برائے کرم صورت حال کا شریعت کی روشنی میں فیصلہ فرمائیں۔

    سائل: احسن رؤوف: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت حال کے پیش نظر میاں بیوی کا آخری دو طلاقیں واقع ہونے میں اتفاق ہے ،اختلاف پہلی طلاق میں ہے شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے یہ الفاظ کہے '' کہ میں تمہیں فارغ کردونگا ''جبکہ عورت کا کہنا ہے کہ شوہر کے الفاظ یہ تھے کہ '' میں تمہیں فارغ کرتا ہوں''اس صورت حال میں مرد کے اعتبار سے حکم یہ ہے کہ عورت کو قضاء(یعنی قا ضی اور لوگوں کے نزدیک )پہلی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔کیونکہ اگرعورت دعوٰی کررہی ہے کہ مرد نے طلاق دی ہے تو اس پر گواہ دینا لازم ہے اگر عورت شرعی گواہ نہ دے سکے تو مرد پر حلف لازم ہوتا ہے مرد اگر حلف لے لے تو مرد کی بات مانی جائے گی،اور طلاق ثابت نہ ہوگی ۔جیساکہ سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :بحالتِ اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو گواہ عادل شرعی شہادت بروجہ شرعی اداکریں کہ اس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی طلاق ثابت ہوجائے گی، پھر اگر شوہر نفی کے گواہ دے گا یا اس بات کے کہ مطلّقہ بعد طلاق اس سے بولی کچھ اصلاً مسموع نہ ہوگا، ہاں اگر عورت گواہ بروجہ شرعی نہ دے سکے تو شوہر پر حلف رکھا جائے گا اگر حلف سے کہہ دے گا کہ اُس نے طلاق نہ دی طلاق ثابت نہ ہوگی اور اگر حاکم شرعی کے سامنے حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت مانی جائے گی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق ،جلد 12 ص 453،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    عورت کے اعتبار سے حکم یہ ہے کہ اگرعورت کو کامل یقین ہے کہ مرد نے اسکو یہی الفاظ کہے ہیں کہ'' میں تمہیں فارغ کرتا ہوں'' تو اس پر لازم و ضروری ہے کہ خود کو دیانۃ (یعنی اللہ تعالی اور بندے کے درمیان جو معاملہ ہےاس کے مطابق )تین طلاقیں والی سمجھے اوراپنے شوہرسے علیحدگی اختیار کرے کیونکہ عورت کے اپنے بیان کے مطابق پہلی طلاق میں اس کو شوہر نے میں تمہیں فارغ کرتا ہوں کہا ہے جو کہ طلاق کے باب میں صریح ہے۔لہذا اب اگر وہ علیحدگی اختیار نہیں کرتی اور میاں و بیوی والے تعلقات قائم رکھتی ہے تو سخت گنہگار ہوگی۔تبیین الحقائق میں ہے:إذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ طَالِقٌ طَالِقٌ، وَقَالَ إنَّمَا أَرَدْت بِهِ التَّكْرَارَ صُدِّقَ دِيَانَةً لَا قَضَاءً فَإِنَّ الْقَاضِيَ مَأْمُورٌ بِاتِّبَاعِ الظَّاهِرِ وَاَللَّهُ يَتَوَلَّى السَّرَائِرَ وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تُمَكِّنَهُ إذَا سَمِعَتْ مِنْهُ ذَلِكَ أَوْ عَلِمَتْ بِهِ؛ لِأَنَّهَا لَا تَعْلَمُ إلَّا الظَّاهِرَ ۔ترجمہ:جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا تو طلاق والی ہے ،تو طلاق والی ہے،تو طلاق والی ہے،اور کہا میں نے اس سے تکرار کاارادہ کی تھا تو اس کی دیانۃًتصدیق کی جائے گی نہ کہ قضاءًاس لیئے کہ قاضی کو ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم ہے ،اللہ تعالی ہی پوشیدہ رازوں کو جانے والا ہے ،اور عورت (اس معاملے)میں قاضی کی طرح ہے کہ اس کے لیئے حلال نہیں ہے کہ وہ (اس معاملے میں )اپنے اوپر شوہر کو اختیار دے جب اس نے (طلاق کے الفاظ )خود سنے ہو ں یا کسی اور (مضبوط )ذرائع سے اس کو معلوم ہوجائے کیوں وہ ظاہر ہی کو جانتی ہے۔ ( تبیین الحقائق ،اقسام الکنایۃ،ج:2،ص:218،طبع:المطبعۃالکبری الامیریۃ،مصر)

    اب عورت جیسے ممکن ہو شوہر سے خلع لے لے۔جیسا کہ ردالمحتارعلی الدرالمختار میں ہے:وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي إذَا سَمِعْته أَوْ أَخْبَرَهَا عَدْلٌ لَا يَحِلُّ لَهُ تَمْكِينُهُ وَالْفَتْوَى عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ لَهَا قَتْلُهُ، وَلَا تَقْتُلُ نَفْسَهَا بَلْ تَفْدِي نَفْسَهَا بِمَالٍ ترجمہ:اور قاضی کی طرح ہے جب وہ خود (طلاق کے الفاظ )سنے یا عادل گواہ اس کو خبر دیں تو اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے اوپر شوہر کو اختیار دے ۔اور فتوی اس پر ہے کہ عورت کے لئے مرد کو قتل کرنا جائز نہیں ہے ،اورنہ ہی عورت اپنے آپ کو قتل کرے بلکہ مال کے ذریعے اس سے خلع حاصل کرے ۔ (ردالمحتارعلی الدر المختار باب صریح الطلاق،ج:3،ص:251،طبع:دارالفکر )۔

    سیدی اعلٰی حضرت اسی طرح کے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :اگر خود زوجہ کے سامنے اُسے تین طلاقیں دیں اور منکر ہوگیا اور گواہ عادل نہیں ملتے تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے اگر چہ اپنا مہر چھوڑکر، یا اور مال دے کر، اور اگر وُہ یُوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بَن پڑے اس کے پاس سے بھاگے اور اُسے اپنے اُوپر قابو نہ دے۔ اور اگر یہ بھی نہ ممکن ہو تو کبھی اپنی خواہش سے اس کے ساتھ زن وشو کا برتاؤ نہ کرے نہ اس کے مجبور کرنے پر اس سے راضی ہو پھر وبال اس پر ہے، لایکلّف اﷲنفسا الا وسعھا(اﷲتعالی وسعت کے مطابق ہی کسی جان کو تکلیف دیتا ہے)واﷲ تعالٰی اعلم۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق ،جلد 12 ص 424،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:14 صفر المظفر 1441 ھ/14 اکتوبر 2019 ء