pension ki raqam ka haqdar kon
سوال
ایک شخص کا انتقال 72 سال کی عمر میں ہوا۔ انتقال سے تین سال قبل وہ اپنی زوجہ کو طلاق دے چکے تھے۔ان کی اولاد میں 4 لڑکے ہیں ، لڑکیاں نہیں ہیں ،جو سب صاحب اولاد اور اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہیں۔معلوم یہ کرنا ہے کہ انکی جو پنشن بنتی ہے اس پر کس کا حق بنتا ہے ؟ انکی بیوی یہ پنشن لے گی؟یا اولادلے گی ؟ یا انکے نام سے صدقہ کی جائے گی۔
سائل:برہان:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر اس شخص کا جی پی فنڈ حکومت کے پاس تھا جو اسکی زندگی میں اس کی تنخواہ سے رضاکارانہ یا لازمی طور پر وضع کیا جاتا تھا تو یہ رقم انکے ترکہ میں شمار ہوگی اور ان کے تمام ورثاء یعنی بیٹوں میں شرعی طریقہ کار سے تقسیم ہوگی۔
اور اگر یہ رقم جی پی فنڈ کے بغیر ہی حکومت کی جانب سے پنشن کے طور پر ملی ہےتوحکومت سے اس رقم کا لینا جائز نہیں ہے کیونکہ پنشن حکومت کی جانب سے تبرع و احسان کی صورت ہے اور حکومت کے قانون کے مطابق پنشن کی رقم بیوہ کے نام جاری ہوتی ہے ۔ بیوہ کی وفات ،طلاق یا دوسری شادی کی صورت میں یہ رقم مرحوم کی نابالغ بیٹیوں کے نام جاری ہوتی ہے۔اور اگر مرحوم کی کوئی نابالغ بیٹی نہ ہو تو اب حکومت کی جانب سے یہ رقم کسی کو نہیں ملتی ۔
اگرحکومت یاادارہ جو پنشن دے رہا ہے،وہ خود ورثاء میں سےکسی فردکونامزد(Nominate)کردےتو وہ فرد اس رقم کامالک ہوگا اور اگرحکومت یاادارہ سب وارثوں کےلیےدےتوسب وارث اس میں شریک ہوں گےلیکن یہ تقسیم،میراث کی وجہ سےنہیں ہوگی،بلکہ یہ حکومت یاادارہ کی طرف سےانکوانعام دیناشمارہوگا۔
لہذا مذکورہ سوال میں بھی چونکہ مرحوم کی زوجہ طلاق یافتہ ہیں اس لئے وہ پنشن کی رقم کی حقدار نہیں ہوئیں نیز مرحوم کی کوئی نابالغ بیٹی بھی نہیں سو اب حکومت کی جانب سے پنشن کی رقم پر انکا استحقاق ختم ہوگیا۔اب اس پنشن کا تقاضا کرنا جائز نہیں ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریک اجراء:12رمضان المبارک 1441 ھ/06 مئی 2020 ء