aaq ki sharai haisiyat o hukm
سوال
کچھ وجوہات کی بنیاد پر میرے والدین نے مجھے عاق نامہ بنوایا تھا ۔ اب انکا وصال ہوچکا ہے انکی متروکہ جائیداد سے میرے لئے کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟
پہلے والدہ کا انتقال ہوا اسکے بعد والد کا انتقال ہوا ، ہم پانچ بھائی(ربنواز، حق نواز، احمد نواز، شبیر،اسماعیل) اور تین بہنیں(شہناز، شمشاد،آمنہ) ہیں، وراثت میں ایک گھر ہے جسکی مالیت 40 لاکھ روپے ہے۔
سائل:احمد نواز: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جائیداد سے عاق کرنا (بے دخل)شرعا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔جائیداد و وراثت میں ہر وارث کا حق خو د اللہ کریم نے ثابت فرمایا ہے تو بندہ کی کیا مجال کہ اللہ تعالٰی کے ثابت و مقرر کردہ حق کو اپنی رائے و اختیار سے ساقط کردے۔نیز والد کے عاق کردینے سے اس لئے بھی وراثت سے محرومی نہیں کہ وراثت کا سبب قرابت ہےاور بلاشبہ وہ یہاں موجود ہے کہ والد کے عاق کردینے سے یہ شخص اپنے والد کی کی ابنیت(بیٹا ہونے ) سے خارج نہ ہوجائے گابلکہ بیٹا ہی رہے گاسو قرابت حسبِ سابق موجود،لہذا شخصِ مذکور(احمد نواز ) کا والد کی وراثت میں اسی طرح حصہ ہے جیسے مرحوم کے دیگر ورثاء کا حصہ ہے۔
عاق کرنے کے حوالے سے سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں: عاق کردینا کوئی شے نہیں۔(فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 615)
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: عاق کردینا شرعا کوئی چیز نہیں، نہ اس سے ولایت(وراثت وغیرہ) زائل ہو۔(فتاویٰ رضویہ جلد 11 ص 648)
اسی میں فرماتے ہیں: اولاد کسی طرح اولاد ہونے سے خارج نہیں ہوسکتی سواکفرکے۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔ اور کسی طرح ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتی سوا موانع خمسہ معلومہ کے کہ دین مختلف ہو یادارمختلف یامملوک ہو یامعاذاﷲ مورث کو قتل کرے یادونوں کااس طرح انتقال ہو کہ معلوم نہ ہو ان میں پہلے کون مراان کے سوا وہی عام حکم ہے کہ: یوصیکم اﷲ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ اﷲ تعالٰی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ بیٹے کا حصہ دوبیٹیوں کے حصے کے برابرہے۔ (فتاوٰی رضویہ، کتاب لافرائض ، جلد 26 ص 349)
اب مالِ وراثت کی تقسیم کی صورت یہ ہے کہ کل مالِ وراثت (40 لاکھ) کو 13 حصص میں تقسیم کیا جائے گا۔ جس میں سے ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کا ایک حصہ ملے گا۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ،لڑکے اور لڑکیوں کے حصے کے بارے میں فرمایا، قال اللہ تعالیٰ:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء:11)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ۔ ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:12 صفر المظفر 1445ھ/ 30 اگست 2023 ء