Qarin par do dam kis surat mein hong
سوال
قارن پر دو دم کس صورت میں لازم ہونگے؟ سائل: علی محمد:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مسئولہ کے جواب سے قبل یہ جان لیں کہ حج کرنے والے تین طرح کے افراد ہیں :
مُفرِد:وہ شخص جو صرف حج کا احرام باندھے، عموما اہلِ مکہ اور حلی ( میقات اور حدودِ حرم کے اندر رہنے والا) حج اِفراد ہی کرتے ہیں ،لیکن انکے علاوہ دوسرے ملکوں سے آنے والے افراد بھی حج افراد کرسکتے ہیں ۔
مُتَمَتِّع:وہ شخص جو حج اور عمرہ دونوں کا الگ الگ احرام باندھے ،بایں طور کہ پہلے عمرہ کا احرام باندھےاور افعالِ عمرہ ادا کرنے کے بعد حلق یا قصر کرکے اس احرام سے نکل جائےاور پھر آٹھ ذی الحج یا اس سے پہلے حج کا احرام باندھے ۔
قارِن:وہ شخص جو حج و عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھے ،اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد حلق یا قصر کرکے احرام نہیں کھولتا بلکہ وہ بدستور حالت ِ احرام میں ہی رہتا ہے اور مناسکِ حج مکمل کرنے کے بعد احرام کھولتا ہے۔
نوٹ:ان تین اقسام میں سے یہ آخری قسم سب سے افضل ہے کہ اس میں مشقت زیادہ ہے کہ حاجی کئی روز تک حالتِ احرام میں گزارتا ہے ۔
سوال کا جواب یہ ہے کہ قارن پر دو دم اس وقت لازم ہونگے جب وہ احرام کی جنایت کرے۔اور وہ افعال جو حج و عمرہ سے متعلق ہوں ان میں جنایت سے صرف ایک دم لازم ہوگا۔
کیونکہ قارن بیک وقت حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھتا ہے لہذا اس کی حالتِ احرام کی جنایت حج و عمرہ دونوں کی جنایت ہے اسی لئے فقہاءِ کرام نے فرمایا کہ جہاں مُفرِد یا مُتَمَتِّع پر ایک دم لازم ہوتا ہے وہاں قارن پر دو دم لازم ہوتے ہیں۔( جبکہ قارن احرام کی جنایت کرے نہ کہ مطلقا۔)
اور یہ بات فقہاء کے اقوال سے مصرح ہے ، جیساکہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: (وكل ما على المفرد به دم بسبب جنايته على إحرامه) يعني بفعل شيء من محظوراته لا مطلقا، إذ لو ترك واجبا من واجبات الحج أو قطع نبات الحرم لم يتعدد الجزاء لأنه ليس جناية على الإحرام (فعلى القارن) ومثله متمتع ساق الهدي (دمان، وكذا الحكم في الصدقة) فتثنى أيضا لجنايته على إحراميه۔ترجمہ: ہر وہ کام جسے کرنے کی صورت میں مُفرِد پر ایک دم دینا لازِم آئے ،اور وہ دم احرام کی جنایت کے سبب لازم آئے۔یعنی احرام کے ممنوعات میں سے کسی کاارتکاب کرلے نہ کہ مطلقا ۔کیونکہ اگر کسی نے حج کے واجبات میں سے کچھ ترک کیا یا حرم کی پودے کاٹ دیئے تو جزاء(دم ) متعدد نہ ہوگا م کیونکہ یہ احرام کی جنایت نہیں ہے۔ تو(یعنی مُفرِد پر ایک دم ہو تو )قارن پر( اور جو اسکے حکم میں ہوجیسے وہ مُتَمَتِّع جو ہدی لے جائے ) دو دم لازم ہونگے یہی حکم صدقہ کا ہے تو اس میں بھی دو صدقے لازم ہونگے کیونکہ اس نے (حج اور عمرہ کے )دو احراموں پر جنایت کی ہے۔
اس کے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں: فإن القارن إذا لبس أو غطى رأسه للضرورة تعددت الكفارة كما في البحر ۔ترجمہ:کیونکہ قارن جب سلے ہوا کپڑا پہن لے یا اپنا سر ڈھانپ لے اگرچہ ضرورت کی وجہ سے ہو ، تو کفارے متعدد ہونگے جیساکہ بحر میں ہے۔
آگے لکھتے ہیں:(قوله يعني بفعل شيء من محظوراته إلخ) أي محظورات الإحرام: أي ما حرم عليه فعله بسبب نفس الإحرام لا من حيث كونه حجا أو عمرة، ولا ما حرم بسبب غير الإحرام وذلك كاللبس والتطيب وإزالة شعر أو ظفر، فخرج ما لو ترك واجبا؛ كما لو ترك السعي أو الرمي أو أفاض قبل الإمام أو طاف جنبا أو محدثا للحج أو العمرة فإن عليه الكفارة، ولا تتعدد على القارن لأن ذلك ليس جناية على نفس الإحرام بل هو ترك واجب من واجبات الحج أو العمرة وكذا لو طاف جنبا وهو غير محرم لزمه دم كما نص عليه في البحر، بخلاف نحو اللبس فإنه جناية على الإحرام مع قطع النظر عن كونه حجا أو عمرة ولذا حرم عليه ذلك قبل الشروع في أفعالهما، فيتعدد الجزاء على القارن لتلبسه بإحرامين. وخرج أيضا ما لو قطع نبات الحرم فلا يتعدد الجزاء به أيضا على القارن. قال في البحر لأنه من باب الغرامات لا تعلق للإحرام به۔ترجمہ:(مصنف کاقول یعنی اس کے ممنوعات میں سے کسی کاارتکاب کرلے ۔۔الخ)یعنی احرام کے ممنوعات یعنی نفسِ احرام کے سبب جن کاموں کا کرنا اس (مُفرِد)پر حرام ہے نہ کہ اسکے حج یا عمرہ ہونے کی حیثیت سے اور نہ ہی وہ کام کہ جو غیرِ احرام کی وجہ سے حرام ہیں ۔ اور وہ( یعنی جو نفسِ احرام سے سبب حرام ہیں ) جیسے سلا ہوا لباس پہننا، خوشبو لگانا، اور بال یا ناخن اتارنا تو اس سے وہ صورت نکل گئی کہ اگر حج کا کوئی واجب ترک کردیا مثلا سعی چھوڑ دی یا رمی ترک کردی اور امام سے قبل عرفات سے لوٹ آیا یا حالتِ جنابت یا حالتِ حدث میں حج یا عمرہ کاطواف کیا، تو اس(مُفرِد)پرایک کفارہ ہے ، اور (ان تمام صورتوں میں )قارن پر کفارہ میں تعدد نہیں ہوگا کیونکہ یہ نفسِ احرام کی جنایت نہیں ہیں بلکہ حج یا عمرہ کے واجبات میں سے کسی واجب کا ترک ہے۔اور اسی طرح اگر غیر محرم ہونے کی صورت میں قارن نے حالتِ جنابت میں طواف کرلیا تو بھی اس پر ایک دَ م لازم ہوگا ، جیسا کہ اس پر بحر میں نص ہے۔برخلاف سلے لباس پہننے کی صورت میں قطع نظر حج یا عمرہ ہونے کے اور اسی لئے اس پر یہ(سلا ہوا لباس وغیرہ ) افعالِ حج وعمرہ میں شروع ہونے سے قبل(محض احرام کی حالت میں ہوتے ہوئے ) بھی حرام ہے ، تو قارن پر سلا ہوا لباس پہننے کی صورت میں دو احراموں میں ہونے کی وجہ سے دو دم لازم ہوں گے۔یونہی وہ صورت بھی خارج ہے کہ اگر حرام کی گھاس کاٹی تو بھی قارن پر دو دم نہ ہونگے ،بحر میں فرمایا کہ کیونکہ یہ سب (مطلق) جنایات کی قبیل سے ہیں ، احرام (کی جنایت ) سے انکا کوئی تعلق نہیں ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار شرح تنویر الابصار ، باب الجنایات فی الحج ، جلد 2 ص 577)
علامہ کاسانی رحمہ اللہ تعالٰی نے اس مسئلے کی علت یوں بیان فرمائی :لأنه محرم بإحرامين فأدخل نقصا في إحرامين فيؤاخذ بجزاءين۔ ترجمہ:کیونکہ قارن دو احراموں کے ساتھ محرم ہوتا ہے تو(احرام کی جنایت کے سبب)اسکے دو احراموں میں نقص آیا لہزا اس سے دو جزائیں(دو دَم) لی جائیں گی۔(بدائع الصنائع ، کتاب الحج، جلد 2 ص 192)
علامہ ملا علی قاری لکھتے ہیں:کل شئی یفعلہ القارن مما فیہ جزاء واحد علی المفرِد فعلی القارن جزاءان ای احدھما لاحرام حجۃ ، والآخر لاحرام عمرتہ او جزاءان لاحرامی حجہ و عمرتہ وھذہ قاعدۃ کلیۃ من قواعد مذھبنا یبنٰی علیہ فروع جزئیۃ۔ ترجمہ:ہر وہ کام جسے کرنے کی صورت میں مُفرِد پر ایک جزاء (دم ) دینا لازِم آئے ، قارن پر اس کام کو کرنے کی صورت میں دو جزاء ( دو دم )لازم ہونگے یعنی ایک عمرے کے احرام کی وجہ سے اور دوسرا حج کے احرام کی وجہ سے ۔ اور یہ ہمارے مذہبِ حنفی کے قواعدِ کلیہ میں سے ہے جس پر اس جزئیہ کی فروع کی بناء کی جاتی ہے۔(مناسک ملا علی القاری، ص 406)
جن صورتوں میں قارن پر دو دم لازم نہیں ہونگےبلکہ ایک دم لازم ہوگا، اسکی تفصیل سے متعلق علامہ ملا علی قاری لکھتے ہیں:
1: جب حج یا عمرہ کرنے والا احرام کے بغیر میقات سے گزر جائے اور واپس لوٹنے کی بجائے وہیں سے حج قِران کا احرام باندھ لے تو اس پر ایک دَم لازم آئے گا کیونکہ اس نے جو ممنوع کام کیا ہے وہ حج قران کا احرام باندھنے سے پہلے کیا ہے۔
2: اگر قارن یا جو قارن کے حکم میں ہے اُس نے حَرَم کا درخت کاٹا تو اس پر ایک دم لازم ہے ۔کیونکہ درخت کاٹنے کا تعلق احرام کی جِنایت سے نہیں ہے ۔
3: اگر پیدل حج یا عمرہ کرنے کی نذر مانی پھر حج کے دنوں میں حج قِران کیا سوار ہو کر حج کے لئے گیا تو اس پر (سوار ہونے کی وجہ سے) ایک جزاء لازم ہے۔
4: اگر طوافِ زیارت جنابت کی حالت میں کیا یا وضو کے بغیر کیا تو ایک ہی جزاء لازم ہوگی، کیونکہ طوافِ زیارت کی جِنایَت صرف حج کے ساتھ ہی خاص ہے۔اسی طرح اگر صرف عمرہ کرنے والے نے عمرے کا طواف اسی طرح کیا تو اس پر ایک دم لازِم ہے ۔
5: اگر قارن یا جو قارن حکم میں ہے وہ کسی عُذْر کے بغیر امام سے پہلے عَرَفات سے لوٹ آیا اور ابھی سورج بھی غروب نہیں ہوا تو اس پر ایک دَم لازم ہے کیونکہ یہ حج کے واجِبات کے ساتھ خاص ہے اور عمرے کے اِحرام کا ساتھ ا س کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
6: کسی عذر کے بغیر مُزدلفہ کا وُقُوف ترک کر دیا تو قارن یا جو قارن کے حکم میں ہے اس پر ایک دَم لازم ہے۔7: اگراُس نے ذبح کرنے سے پہلے حلق کروا لیا تو اس پر ایک دَم لازم ہے۔8: اگراس نے ایام نحر گزرنے کے بعد حلق کروایا تو ا س پر ایک دَم لازم ہے۔9:اگراس نے ایام نحر گزرنے کے بعد قربانی کا جانور ذبح کیا تو اس پر ایک دَم لازم ہے۔10:اگر اس نے مکمل رَمی نہ کی یا اتنی رَمی چھوڑ دی، جس کی وجہ سے دَم صدقہ لازم آئے تو ا س پر ایک دَم یا ایک صدقہ لازم ہے۔11:اگراس نے عُمرے یا حج میں سے کسی ایک کی سعی چھوڑ دی تو اس پرایک دَم لازم آئے گا۔
12:اگراس نے طوافِ صدر(یعنی طوافِ وداع)چھوڑ دیا تو اس پر ایک دَم لازم آئے گا کیونکہ اس کا تعلق آفاقی حاجی کے ساتھ ہے ، عمرہ کرنے والے کے ساتھ مطلقا اس کا کوئی تعلق نہیں ۔(مناسک ملا علی القاری، ص 406تا 410)
خلاصہ یہ ہے کہ قارن پر دو دَم اس وقت لازم ہونگے جب وہ احرام کی جنایت کرے،مطلقا دو دَم لازم نہ ہونگے ۔ جن فقہاءِ کرام نے اس مسئلہ میں مطلق، دو دَم کا قول کیا ہے ان فقہاء ِکرام کی عبارات کواسی پر محمول کیا جائے۔یہی انسب و اعلٰی ہے۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 13 صفر المظفر 1443 ھ/21 ستمبر 2021 ء