Mutamatti ka aik se zyada umray karna kaisa
سوال
حجِ تمتع کرنے والا شخص ایک سے زائد عمرے کر سکتا ہے یا نہیں ؟
سائل:عبداللہ : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
حج کا ارادہ کرنے والے تین طرح کے لوگ ہیں ۔ 1:حَرَمی۔ 2: حِلّی۔3:آفاقی۔
حَرَمی وہ جو حدود ِ حرم میں رہتا ہو۔ حلی وہ جو حدود حرم سے باہر مگر میقات کے اندر ہو۔ اور آفاقی وہ کہ جو میقات سے باہر ہو۔
حَرَمی،حِلّی اور وہ شخص جوانکے حکم میں ہے ،اگر یہ لوگ اسی سال حج کا ارادہ رکھتے ہیں توانکے لئے اشہر حج میں عمرہ کرناممنوع ہے۔کیونکہ ان لوگوں کے لئے حجِ تمتع جائز نہیں ہےتو اسی کے ضمن اور نتیجہ میں عمرہ بھی جائز نہیں ،لہذا س ان کے حق میں زائد عمرہ ووالی بات بے معنٰی ہے۔
لباب المناسک مع شرحہ میں ہے: (لیس لاہل مکۃ ) ای المقیمین بھا ( اہل المواقیت) ای نفسھا وماحاذاھا(ومن بینھا و بین مکۃ تمتع، فمن تمتع منھم کان عاصیا و مسیئا)۔ ترجمہ: اہل مکہ یعنی وہاں کے رہنے والے اور اہل مواقیت ور اسکےقرب و جور کے رہائشی اور جو مواقیت و مکہ کے مابین ہیں ان تمام لوگوں کے لئے حج تمتع کرنا جائز نہیں ہے۔ ان میں سے جس نے حجِ تمتع کیا تو وہ گنہ گار ہے۔( لباب المناسک مع شرحہ مناسک ملا علی قاری شرح ص 274، ادارۃ القرآن )
اسی میں آگے ہے:(ویکرہ فعلھا فی اشہر الحج لاہل مکۃ ومن بمعناھم) ۔ترجمہ:اور اشہرِ حج میں اہل مکہ کواور انکو جو انکے حکم میں ہیں عمرہ کرنا مکروہ ہے۔
اسکے تحت ملا علی قاری رقمطراز ہیں:ای من المقیمین ومن فی داخل المیقات ، لان الغالب علیھم ان یحجوا فی سننھم فیکونوا متمتعین وھم عن التمتع ممنوعون، والا فلا منع للمکی عن العمرۃ المفردۃ فی اشہر الحج اذا لم یحج فی تلک السنۃ ومن خالف فعلیہ البیان و اتیان البرھان۔ترجمہ:یعنی جو مکہ میں مقیم ہیں اور وہ جو میقات میں داخل ہیں ، کیونکہ غالب یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے سال میں حج کریں گے تو یہ متمتعین ہوگئے حالانکہ انکے لئے تمتع منع ہے۔ ورنہ مکی کو اشہر حج میں عمرہ مفردہ منع نہیں ہے جبکہ اس سال میں حج کا ارادہ رکھتے ہوں ۔ اور جو اس بات کی مخالفت کرے تو بیان و دلیل اسکے ذمہ ہے۔( لباب المناسک مع شرحہ مناسک ملا علی قاری شرح ص 466، ادارۃ القرآن )
پھر حجِ تمتع کرنے والے افراد دو طرح کے ہیں:
1: متمتع سائق للھدی یعنی جو اپنے ساتھ ھدی(قربانی کا جانور) لے جائے۔(یہ صورت فی زمانہ مفقود ہے۔)اس کے لئے ایک سے زائد عمرہ منع ہے، کیونکہ یہ قارن کے حکم میں ہوتا ہے۔اور قارن وہ شخص ہے جو حج و عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھے ،اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد حلق یا قصر کرکے احرام نہیں کھولتا بلکہ وہ بدستور حالت ِ احرام میں ہی رہتا ہے اور مناسکِ حج مکمل کرنے کے بعد احرام کھولتا ہے۔لہذا اس کے لئے حج کی ادائیگی سے قبل احرام کھولنا جائز نہیں تو ایک سے زائد عمرہ کیونکر جائز ہوگا؟
2:متمتع غیر سائق للھدی یعنی جواپنے ساتھ ھدی نہ لے جائے۔اس کے لئے ایک سے زائد عمرہ منع نہیں ہے۔(کما ھو مصرح فی کتب الفقہ)
المسلک المتوسط میں ہے:والظاہر ان المتمتع بعد فراغہ من العمرۃ لایکون ممتنعا من اتیان العمرۃ فانہ زیادہ عبادۃ وھو ان کان فی حکم المکی الا ان المکی لیس ممنوعا من العمرۃ فقط علی الصحیح وانما یکون ممنوعا من التمتع۔ ترجمہ :اور ظاہر یہ ہے کہ عمرہ سے فراغت کے بعد متمتع کے لئے عمرہ کی ادائیگی منع نہیں ہے کیونکہ وہ عبادت میں زیادتی ہے اور اب وہ اگر چہ مکی کے حکم میں ہے لیکن مکی کے لئے صحیح قول کے مطابق فقط عمرہ منع نہیں ہے بلکہ تمتع منع ہے۔ (المسلک المتوسط، ص 299 )
اس کے تحت ارشاد الساری میں ہے: انہ نص علٰی جواز عمرۃ التمتع۔ ترجمہ: یہ تمتع کے عمرہ کے جواز میں نص ہے۔(ایضا)
پھر ملا علی قاری المسلک المتوسط میں فرماتے ہیں : هذا بناء على أن المكي ممنوع من العمرة المفردة أيضا، وقد سبق أنه غير صحيح بل إنه ممنوع من التمتع والقران وهذا المتمتع آفاقي غير ممنوع من العمرة فجاز له تكرارها؛ لأنها عبادة مستقلة أيضا كالطواف۔ ترجمہ: اور یہ (متمتع غیر سائق للھدی کے لئے متعدد عمروں کا جواز )اس بات پر مبنی ہے کہ وہ مکی ہے اور مکی کے لئے قفط عمرہ منع ہے ، حالانکہ یہ ماقبل میں گزرا کہ یہ درست نہیں بلکہ مکی کے لئے تمتع اور قران منع ہے اور یہ متمتع تو آقافی ہے اس کے لئے عمرہ منع نہیں ہےسو اس کا تکرار بھی جائز ہے، کیونکہ یہ طواف کی طرح ایک مستقل اور علیحدہ عبادت ہے ۔ ( لباب المناسک مع شرحہ مناسک ملا علی قاری شرح ص 288،289 ادارۃ القرآن )واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہيب رضاقادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 03 جمادی الاولٰی 1443 ھ/08 دسمبر 2021 ء