alati behn ke hissay ka sharai hukm
سوال
عرض یہ ہے کہ بنیاد خان خانزادہ کی دو شادیاں ہیں پہلی شادی سے ایک بیٹی غلام فاطمہ ہے ،پہلی بیوی کا بنیاد خانزادہ سے پہلے ہی انتقال ہو چکا اورپھر دوسری شادی کالدہ پروین سے ہوئی ان سے انکا ایک بیٹا (نثار احمد) اور تین بیٹیاں ہیں ۔ بنیاد خانزادہ کے انتقال کے بعد غلام فاطمہ کو انکا شرعی حصہ دے دیا گیا تھا۔اب دوسری بیوی کی اولاد میں سے ایک بیٹا نثار احمد کا وصال ہوگیا سوال یہ ہے کہ
نثار احمد غیر شادی شدہ تھے انکی تین بہنیں اور والدہ موجود ہیں انکا شرعی حصہ کیا بنتا ہے؟نثار احمد کی وراثت میں تین سگی بہنوں کی موجودگی میں غلام فاطمہ جوکہ صرف باپ سگی ہے کا حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟
سائل: لیاقت خانزادہ : دوڑ ضلع شھید بے نظیر آباد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا اور نثار احمد کے انکے علاوہ دیگر ورثاء نہیں ہیں تو کلوراثت کے 15 حصے کئے جائیں گے جس میں سے نثار احمد کی والدہ کو 3حصے اور ہرسگی بہن کو 4،4 حصے ملیں گے جبکہ غلام فاطمہ جو کہ نثار احمد کی باپ سگی بہن ہے اسکو نثار احمد کی وراثت سے کچھ حصہ نہ ملے گا کیونکہ جب دو یا دو سے زائد سگی بہنیں ہو ں تو باپ سگی بہنیں محروم ہوجاتی ہیں۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق ہے:
ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالی وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو ۔
لڑکیوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالٰی فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ:ترجمہ: پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگردو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی۔
سراجی فی المیراث میں ہے:والثانی : اذا اجتمع فی المسئالۃ جنسان او ثلاثۃ اجناس ممن یرد علیھم عند عدم من لایرد علیہ فاجعل المسئالۃ من سھامھم اعنی ۔۔ ۔۔۔۔۔من خمسۃ اذا کان فی المسئلۃ ثلثان و سدس:ترجمہ:اور رد کا دوسرا قاعدہ یہ ہے کہ جب مسئلے میں دو یا دو سے زائد جنس کے لوگ جمع ہوں اور غیر مردود علیھم موجود نہ ہوں تو مسئلہ ان کے سھام سے بنے گا یعنی پانچ سے جبکہ مسئلے میں ثلثان اور سدس ہو۔(سراجی فی المیراث ص 70،مکتبۃ البشرٰی)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:06 شعبان المعظم 1440 ھ/11 اپریل 2019 ء