زندگی میں حصہ دینا کیسا
    تاریخ: 4 مارچ، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 951

    سوال

    میرے ابو کی تین جائیداد ہیں جس میں دو چھوٹے اور ایک بڑا فلیٹ ہے ، دو چھوٹے فلیٹ ہم دونوں بھائیوں کے نام کردیئے ہیں (ہماری کوئی بہن نہیں ہے۔)اور بڑے فلیٹ میرے اور ابو کے نام ہے ، ابھی دو دن پہلے ابو نے کہا کہ چھوٹے فلیٹ میں سے جو دیا وہ رکھو اور باقی دونوں میں (ایک چھوٹااور بڑا) چھوٹے کے نام کرونگاتم یہ بڑے فلیٹ کے کاغذات پر سائن کردواب تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے اس میں ۔ میں نے ابو کو کہا کہ دونوں بھائیوں کو برابر کا دو ایک کو کم ایک کو زیادہ کیوں؟ مگر ابو غصہ ہوگئے کہ میری مرضی جو کروں۔ شرعی مسئلہ بتائیں کہ ابو کا ایسا کرنا ٹھیک ہے یانہیں ؟ میں دستخط کروں یا نہیں؟جبکہ ہم سب ساتھ رہتے ہیں کھانا میری بیوی بناتی ہے چھوٹا بھائی غیر شادی شدہ ہے۔

    سائل: انس نورانی : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر فلیٹس والدصاحب کے ذاتی ہیں تو زندگی میں اسکو اولاد کے مابین تقسیم کرنا شرعاً ضروری نہیں بلکہ جب تک بقیدِ حیات ہیں ،اولاد ان چیزوں کو لینے کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتی۔اور اگر مطالبہ کرے تو بھی اسے پورا کرنا لازم نہیں ہے۔

    البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے اولادکے درمیان تقسیم کرنا چاہیں توحرج نہیں لیکن یا رہے کہ یہ تقسیم از قبیل ِوراثت نہیں بلکہ ھبہ کے طور پر ہوگی، کیوں کہ وراثت یا ترکہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے مرنے بعد اسکے ورثا کو ملتا ہے۔اور زندگی میں اولاد کو جو چیز بلا عوض دی جائے وہ ہبہ (gift) ہے۔

    تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے لئے جتنا مال مناسب سمجھیں رکھ لیں اور اسکے بعد جو کچھ بچے وہ دونوں بیٹوں کے مابین برابر برابر تقسیم کر دیں۔(وراثت کی تقسیم کا طریقہ اس سے جداگانہ ہے۔) اور اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسرےکے مقابلے میں زیادہ دیں تو اس میں حرج نہیں جبکہ دوسرے کو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی زیادہ خدمت گزار ہے ،یا دوسری کے مقابلے میں زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔ صحیحین میں حدیث پاک ہے:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» ، قَالَ: لاَ، قَالَ ''فَارْجِعْهُ''۔ ترجمہ:نعمان بن بشیررضی اللہ عنہمانےکہاان کےوالدانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں لائےاورعرض کیاکہ میں نےاپنےاس بیٹےکوایک غلام بطورہبہ دیاہے۔آپﷺنےدریافت فرمایا،کیاایساہی غلام اپنےدوسرےلڑکوں کو بھی دیاہے؟انہوں نےکہانہیں،توآپ نےفرمایاکہ پھر(ان سےبھی)واپس لےلے۔(بخاری،باب الھبۃ للولد حدیث نمبر 2586،مسلم ،باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد حدیث نمبر 1623)

    ھبہ میں اولاد کو ایک دوسرے پر فضیلت کے حوالے سے بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)

    امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)

    البحر الرائق میں ہے: يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ۔ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔مگر کسی دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے تو جائز ہے۔ اور اگر سارا مال کسی ایک کو دیدے تو جائز ہے لیکن گنہ گار ہوگا۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ ج 7 ، ص:288 الشاملہ)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:21 ذوالحج 1444 ھ/10 جولائی 2023 ء