آن لائن پیسہ کمانا کا حکم

    online paisa kamana ka hukum

    تاریخ: 10 جون، 2026
    مشاہدات: 19
    حوالہ: 1419

    سوال

    آج کل بعض لوگ مختلف طریقوں سے آن لائن پیسے کماتے ہیں ،ایک طریقہ یہ ہے کہ بعض کمپنیوں کے ایڈز کو کلک کر کے پہلےآن لائن 10000روپے ناقابل واپسی ،اکاؤنٹ فیس کے طور پر جمع کیئے جاتے ہیں ،پھر مختلف ایڈز آتے رہتے ہیں اور ہر ایڈ کو کلک کرنے پر 5روپے ملتے ہیں اور روزانہ 100 ایڈز اوپن کیے جاسکتے ہیں،اور ایک ایڈ کو ااوپن کرنے کے 40سیکنڈ بعددوسرے ایڈ کو اوپن کیا جاسکتا ہے ،اور یہ معاہدہ6 مہینے کا ہوتا ہے ،تو یوں روزانہ500روپے کمایا جاسکتا ہے ۔اسی طرح کوئی دوسرا آپ کی ریفرینس سے اکاؤنٹ کھول لے تو اس کے ہر ایڈ کو5روپے ملنے کےساتھ آپ کو بھی 2 روپے ملیں گے ۔

    تو کیا ایسا کرنا شرعا درست ہےجبکہ ایڈزکمرشل ہوتے ہیں جن میں موسیقی، تصاویر(جو عام طور پر خواتین کی ہوتی ہیں )اور کچھ ایڈز جانور و دیگر چیزوں کے بھی آتے ہیں ؟

    سائل :مولانا جواد احمد: شاہ فیصل ٹاؤن،کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سوال میں کاروبار کی جو صورت بیان کی گئی وہ جائز نہیں ہےاس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہ ایک قسم کا اجارہ ہےاور اجارہ منفعتِ مقصودہ پر ہوتا ہے جبکہ یہاں منفعت کا حصول مقصود نہیں ہےاور دوسری وجہ یہ ہے کہ جس طرح کے ایڈز آئینگے ان کی اکثریت غیر شرعی ہے جس کی وجہ سے غیر شرعی کاموں میں ملوث ہوکر پیسہ کمانا اور ان کی ترویج واشاعت کرناہوگا جو کہ ناجائز وحرام ہیں لہذا اس طریقے سے پیسے کمانا جائز نہیں ہے ۔

    تفصیل اس کی یہ ہے:اکاؤنٹ کی جو فیس لی جاتی ہے وہ در اصل اکاؤنٹ کے چھ مہینے کا اجارہ(یعنی اجارۃ المنفعۃ) ہے اور شرعا اجارہ ایسی منفعت پر کرنا جا ئز ہے جو عرف میں مقصود ہو جب کہ یہاں ان ایڈز کا کھولنا اور ان کو دیکھنا مقصود نہیں ہوتا جس کی وجہ سے یہ اجارہ باطل ہے ،اور اکاؤنٹ کھولنے کے بعد بھی وہ آپ سے ایڈز پر کلک کرنے کا اجارہ (یعنی اجارۃ العمل )کرتے ہیں لیکن جن ایڈز پرکلک کر کے کھولناہوگا ،ان میں آپ کے بیان کے مطابق غیر شرعی امور ہونگے تو ان خرابیوں کی وجہ سے یہ عقد باطل بھی ہے اور فاسد بھی ہے لہذااس عقد کو ختم کرنا لازم ہے۔

    بدائع الصنائع میں ہے:أَنَّ الْإِجَارَةَ نَوْعَانِ إجَارَةٌ عَلَى الْمَنَافِعِ، وَإِجَارَةٌ عَلَى الْأَعْمَالِ۔ترجمہ:اجارہ کی دو قسمیں ہیں ایک اجارۃالمنفعت (یعنی کسی چیزکو باقی رکھ کرعوض کے ساتھ اس سے نفع اٹھا نا )اور ایک اجارۃ الاعمال ہے (عوض کے بدلے اپنی خدمات پیش کرنا )۔( بدائع الصنائع،کتاب الاجارۃ ، فصل فی رکن الاجارۃ ،ج:4ص:174،طبع:دارالکتب العلمیۃ)

    تنویر الابصار مع الدر المختارمیں ہے:وَشَرْعًا تَمْلِيكُ نَفْعٍ مَقْصُودٍ مِنْ الْعَيْنِ بِعِوَضٍ حَتَّى لَوْ اسْتَأْجَرَ ثِيَابًا أَوْ أَوَانِي لِيَتَجَمَّلَ بِهَا أَوْ دَابَّةً لِيَجْنُبَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ أَوْ دَارًا لَا لِيَسْكُنَهَا أَوْ عَبْدًا أَوْ دَرَاهِمَ أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ لَا لِيَسْتَعْمِلَهُ بَلْ لِيَظُنَّ النَّاسُ أَنَّهُ لَهُ فَالْإِجَارَةُ فَاسِدَةٌ فِي الْكُلِّ، وَلَا أَجْرَ لَهُ لِأَنَّهَا مَنْفَعَةٌ غَيْرُ مَقْصُودَةٍ مِنْ الْعَيْنِ۔ترجمہ:شرعا اجارہ کی تعریف یہ ہے کہ کسی بھی شی کی منفعتِ مقصودہ کاعوض کے ساتھ مالک بنانا ،تو اگر کسی شخص نے کپڑوں کو،یا برتنوں کو اجارہ پر لیا تاکہ ان کے ذریعے زینت حاصل کرے ،یا جانور کو اجارہ پر لیا تاکہ اپنے سامنے اس کو (باندھ کے )رکھے ،یا گھر کواجارہ پر لیا رہنے کے لیئے نہیں (بلکہ دکھانے کے لیئے )یا غلام، یا دراھم،یا اس کے علاوہ کچھ بھی اجارہ پرلیا استعمال کے لیئے نہیں بلکہ اس لیے کہ لوگ سمجھیں یہ اسی کے ہیں تو ان تمام صورتوں میں اجارہ فاسد (یعنی باطل)ہے اور اس کے لیئے کوئی اجرت نہیں ہوگی کیوں کہ یہ ایسی منفعت ہے جو شئی سے مقصود نہیں ہے ۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب الاجارۃ ،ج: 6،ص:4،طبع:دارالفکر )

    اسی میں ایک اور مقام پر ہے:لَا تَصِحُّ الْإِجَارَةُ لِأَجْلِ الْمَعَاصِي مِثْلُ الْغِنَاءِ وَالنَّوْحِ وَالْمَلَاهِي۔ترجمہ:گناہ کے کاموں پر اجارہ کرنا جائز نہیں ہے جیسا کہ گانا گانے ،نوحہ کرنے اور لھوو لعب کے کاموں پر اجارہ کرنا ۔(المرجع السابق، کتاب الاجارۃ ،مطلب الاجارۃ علی المعاصی،ج: 6،ص55، طبع : دارالفکر )

    خلاصہ :یہ عقد (contract)باطل اور خلاف شرع کاموں کی وجہ سے ناجائز ہے اگر اس طرح کا contractکیا گیا ہے تو اس کا ختم کرنا لازم ہے۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 جمادی الاول 1440 ھ/21جنوری 2019ء