نا مرد شوہر سے خلع لینے کا شرعی حکم
    تاریخ: 26 جنوری، 2026
    مشاہدات: 19
    حوالہ: 665

    سوال

    میرا نام شازیہ ہے میری شادی کو دو سال ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک تعلقات قائم نہیں کئے کیوں کہ شوہر نامرد ہے وہ کہتا ہے خلع لے لو۔ لیکن میں ڈرتی ہوں کہ اسکے بعد میرا کیا ہوگا کیونکہ میری عمر 35 سال ہے ۔ مجھے بتائیے کہ خلع لینا سہی ہے یا نہیں؟

    سائلہ:شازیہ:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر شوہر نامرد ہے تو اسکا علاج کروائیں۔ اگر علاج کے بعد درست ہوجائے تو ٹھیک اپنے معاملات جاری رکھیں وگرنہ آپ چاہیں تو طلاق وغیرہ کا مطالبہ کریں اگر طلاق دے دے تو ٹھیک ،اگر نہ دے تو عدالت دونوں کے درمیان تفریق کرے گی ، جوکہ طلاق بائن ہوگی ۔جسکی تفصیل یہ ہے کہ اگر مردجماع(صحبت ،ازدواجی تعلقات) پر قادر ہی نہیں ، یعنی اس میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ بیوی سے ایک بار ہی جماع کر سکے ،تو حکم شرع یہ ہے کہ عورت قاضی (عدالت، کورٹ)کے پاس جا کر دعویٰ کرے پھر قاضی شوہر سے دریافت کرے گا اگر وہ اپنے نامرد ہونے کا اقرار کرلے تو قاضی ایک سال کی مہلت دے گا کہ وہ اپنا علاج کروالے ، ایک سال علاج کرانے کے بعد اس قابل ہوگیا کہ وہ حق زوجیت ادا کرسکے تو عورت کا دعوی ساقط ہوجائے گا اور وہ اسکے نکاح میں ہی رہے گی لیکن اگر علاج کے باوجود حق زوجیت ادا نہ کرسکا اور عورت اس سے جدائی اور علیحدگی چاہتی ہے تو قاضی شوہر کو حکم دے گا کہ وہ بیوی کو طلاق دے اگر قاضی کے بولنے سے طلاق دے دے تو ٹھیک ورنہ قاضی ان دونوں کے درمیان تفریق کردے گا، اور یہ تفریق طلاق بائن ہوگی،

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:(وَلَوْ وَجَدَتْهُ عِنِّينًا أُجِّلَ سَنَةً فَإِنْ وَطِئَ) مَرَّةً فَبِهَا (وَإِلَّا بَانَتْ بِالتَّفْرِيقِ) مِنْ الْقَاضِي إنْ أَبَى طَلَاقَهَا (بِطَلَبِهَا) ترجمہ:اور اگر عورت شوہر کو نامرد پائے تو اسکو ایک سال کی مہلت دی جائے گی پھر اگر ایک سال کی مدت میں جماع پر قادر ہوگیا تو ٹھیک ورنہ (عورت کے تقاضائے طلاق کی وجہ سے طلاق دلوائی جائے گی) اگروہ طلاق دینے سے انکار کردے تو قاضی تفریق کردے گا۔

    اسی میں ہے :أَمَّا الطَّلَاقُ فَجَبٌّ عُنَّةٌ وَكَذَا:ترجمہ: بہرحال مجبوب اور عنین (یعنی نامرد ہونے کی وجہ سے قاضی کی تفریق سے ) طلاق (بائن)واقع ہوتی ہے۔

    اور جہاں قاضی شرع نہ ہو تو وہاں کا سب سے بڑا سنی صحیح العقیدہ عالم جو مرجع فتاویٰ ہو قاضی شرع ہے۔

    چناچہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور انڈیا کی شائع کردہ کتاب ''مجلس شرعی کے فیصلے'' علماء کا یہ فیصلہ محفوظ ہے :

    1:۔آج کے ہندوستان مین ان معاملات کے فیصلے جن میں مسلمان حاکم(قاضی ہونے ) کی شرط ہے جمہور مسلمانوں کو شرعا یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی عالم باشرع کو اپنا قاضی بنالیں اور ایسے قاضی کا فیصلہ اپنے حدود خاص میں جائز و نافذ ہوگا۔ مفقود الخبر، معدومۃ النفقہ ، عنین،مجنون وغیرہا کے مسائل میں از روے شرع مسلمانوں کا مقرر کردہ قاضی عورت کی درخواست پر زن و شوہر کے درمیان تفریق بھی کراسکتا ہے ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:30 شوال المکرم 1440 ھ/04 جولائی 2019 ء