مطلقہ سے نکاح کے لیےطلاق کا تحریری ثبوت
    تاریخ: 28 نومبر، 2025
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 296

    سوال

    ایک عورت کی شادیہوئی اور اس کے دو بچے ہوئے اب اس کے شوہر نے اس کو تین طلاق دے دی اب وہ عورت دوسرے مرد سے شادی کرنا چاہتی ہے لیکن دوسرا مرد طلاق کا ثبوت مانگ رہا ہے۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر پہلا شوہر تین طلاقوں کا اقرار کرتا ہے یا پھرطلاق پر گواہ موجود ہیں تو ایسی صورت میں بلا شبہ طلاق ہو گئی کہ زبان سے طلاق دینا لکھ کر طلاق دینے سے قوی ہے لہذا قوی کے ہوتے ہوئے غیر قوی کی حاجت نہیں۔

    اور اگر شوہر طلاق کا انکاری ہے اورعورت کے پاس طلاق پرگواہ بھی موجود نہیں تو اس صورت میں شوہر سے حلف لیا جائے گا حلف سے انکار کر دے تو بھی طلاق ثابت ہو جائے گی ۔

    مندرجہ بالا تمام صورتوں میں خاتون دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں ۔

    اور اگر شوہر قسم کھا لیتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی اور عورت کو یقین ہے کہ اس نے طلاق دی ہے تو ایسی صورت میں قضاء تو طلاق نہیں ہوئی البتہ عورت دیانۃ طلاق ہو جائے گی لھذا عورت پر لازم ہے کہ مرد کو اپنے قریب نہ آنے دے اس سے فورا جدا ہو جائے ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:27ربیع الاول1444 ھ/14اکتوبر 2023 ھ