ملازم کو کمپنی کی طرف سے دی گئی گاڑی آگے کرایہ پر دینا کیسا

    mulazim ko company ki taraf se di gai gari aage kiraye par dena kaisa

    تاریخ: 27 جون، 2026
    مشاہدات: 43
    حوالہ: 1521

    سوال

    میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی کمپنی نے کسی ملازم کو استعمال کے لیے گاڑی دی ہے جو کہ کمپنی کی ملکیت میں ہی ہے توکیا اس کے لیے یہ جائز ہے کہ اسکو آگے کرایہ پر دے دے یا آگے کرائے پر چلائے؟

    سائل : عبدالعزیز :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    کمپنی ملازم کو جوگاڑی استعمال کے لیےدیتی ہے وہ بطور عاریت دیتی ہے ،کہ جب تک وہ کمپنی کا ملازم ہے تب تک وہ خود اس گاڑی سے بلا عوض نفع اٹھا سکتا ہے،اسکو اصطلاح شرع میں اعارہ یا عاریت کہتے ہیں۔تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: الْعَارِيَّةِ (هِيَ) شَرْعًا (تَمْلِيكُ الْمَنَافِعِ مَجَّانًا) ترجمہ:دوسرے شخص کو کسی چیز کی منفعت کا بغیر کسی عوض کےمالک بنا دینے کو شریعت میں عاریت کہتے ہیں۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب العاریۃ جلد 5ص676)

    اورجو چیز بطور عاریت حاصل ہو اس کو آگے کرائے پر دینا جائز نہیں ہے،اسی میں ہے :(وَلَا تُؤَجَّرُ وَلَا تُرْهَنُ) لِأَنَّ الشَّيْءَ لَا يَتَضَمَّنُ مَا فَوْقَهُ۔ترجمہ:اور شئے مستعار (یعنی جو چیز بطور عاریت دی گئی ہے)کو اجارہ پر نہیں دیا جا سکتاہے ، اور نہ ہی بطور رہن رکھوایا جا سکتا ہے،کیونکہ کوئی بھی چیز خود سے مافوق چیزکی ضامن نہیں ہو سکتی۔(المرجع السابق)

    ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:وليس للمستعير أن يؤاجر ما استعاره؛ فإن آجره فعطب ضمن لأن الإعارة دون الإجارة والشيء لا يتضمن ما هو فوقه۔ترجمہ: مستعیر (جس کو چیز بطور عاریت دی ہے)کے لیے جائز نہیں کہ جو چیز اسکو بطور عاریت کے دی ہے اسکو کرائے پر دےاگر کرائے پر دی اور وہ شئے مستعار (یعنی جو چیز بطور عاریت دی گئی ہے)ہلاک (ضائع) ہوگئی تو اس کا ضامن ہوگا کیونکہ اعارہ ،اجارہ سے کم درجہ کا ہے اور کوئی بھی چیز خود سے مافوق چیزکی ضامن نہیں ہو سکتی۔( شرح بدایۃ المبتدی کتاب العاریہ جلد 3ص219)

    خلاصہ یہ ہوا کہ کمپنی کی دی ہوئی گاڑی آگے کرائے پر دینا جائز نہیں ہے ،اگر دی اور ہلاک ہوگئی تو اس پر ضمان لازم ہوگا۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:03 ربیع الاول 1441 ھ/09 نومبر 2019 ء