سوال
صورت مسئولہ میں ایک جگہ مسلمانوں کی عبادت گاہ (بنام مسجد ومدرسہ) پنج وقتہ نمازوں و جمعہ وعیدین کے لئے الاٹ ھوئی / یا کسی شخص نے ذاتی ملکیت نے اسے وقف برائے مسجد کیا پھر بدقسمتی سے اس مسجد کے متولّی ( انتظامیہ) نے اپنا عقیدہ و نظریہ اسلام مخالف یعنی منکرینِ ختم نبوت ﷺ(قادیانی، مرزائی، لاہوری نام نہاد احمدی)اپنا کر ارتداد کے مرتکب قرار پائے۔ اور ملکِ پاکستان کے آئین وقانون نے بھی انہیں کافرو غیرمسلم اقلیت قرار دے دیا۔ تو ایسی صورت میں سابقہ مسلم انتظامیہ اس مسلم عبادت خانہ (مسجد و مدرسہ) کو اپنے نئے کفریہ مذہب کے مطابق کسی دوسرے مذہب کا عبادت خانہ بناسکتی ہے؟ یا اس غیر مسلم مرتد انتظامیہ سے مسلم عبادت خانہ مسجد قبضہ لے کر انہیں اس کی تولیت و کفالت سے بے دخل کیا جائے گا اور مسلمانوں کو وہ جگہ واپس دلوائی جائے گی؟برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔سائل :محمداحمدقادری:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں درج ذیلدومعاملات قابل غور ہیں:
1: متولی کے مرتدہونے سے تولیت کا حکم۔
2:مسجد کو غیر مسجد سے تبدیل کرنے کا حکم۔
ذیل میں دونوں کا حکم تفصیلی طورپر بیان کیا جائے گا۔
1: متولی کے مرتد ہونے سے تولیت کا حکم:
مسجد کا متولی کافر اورمرتد ہوجائے تو اس کی تولیت باقی نہیں رہتی کہ کسی مسجد کامتولی کوئی کافر نہیں ہوسکتا۔اس لیے کہ مسلمانوں کے ایسے عظیم دینی تصرفات اس کے ہاتھ میں رکھنا اس کی تعظیم ہے اور کافر کی تعظیم سخت حرام ہے بلکہ فقہائے کرام کے حکم کےمطابق کفر ہےچناچہ درمختار میں حاوی کےحوالے سے ہے: ينبغي أن يلازم الصغار فيما يكون بينه وبين المسلم في كل شئ، وعليه فيمنع من القعود حال قيام المسلم عنده.بحر.ويحرم تعظيمه۔ ترجمہ: کافر اورمسلمان کے ہر معاملہ میں کافر کو دبا ہوا ذلیل رکھنا چاہئے، مسلمان کھڑا ہوتو اسے بیٹھنے نہ دیں، ایسا ہی بحر میں ہے اور اس کی تعظیم حرام ہے۔(الدر المختارشرح تنویر الابصار،صفحہ:342،دار الکتب العلمیۃ)
اسی میں ہے: تبجيل الكافر كفر ترجمہ: کافر کی تعظیم کفر ہے۔(الدر المختارشرح تنویر الابصار،صفحہ:666دار الکتب العلمیۃ)
بلکہ علامہ حسن بن عمار بن علی الشرنبلالینے اپنے حاشیہ میں اس بات کی تصریح کی ہےکہ کافر کومتولی بنانا حرام ہےچناچہ آپ فرماتے ہیں:عُلِمَ مِمَّا ذَكَرْنَاهُ حُرْمَةُ تَوْلِيَةِ الْفَسَقَةِ فَضْلًا عَنْ الْيَهُودِ وَالْكَفَرَةِ ترجمہ: جوکچھ ہم نے ذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ فاسقوں کو متولی کرنا حرام ہے چہ جائیکہ یہودی ودیگر کفار۔(غنية ذوي الأحكام في بغية درر الأحكام،جلد:1،ٓصفحہ:183،دار إحياء الكتب العربية)
مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات واضح ہوئی کہ کوئی کافر متولی نہیں بن سکتا اور جب کافر متولی نہیں بنا سکتا تو مرتد بدرجہ اتم متولی نہیں بن سکتا کیونکہ مرتد کفر میں عام کافر سے بدتر ہے ۔
چناچہ الاشباہ والنظائر میں ہے: المرتد اقبح کفرا من الکافر الاصلیترجمہ: مرتد کفر میں کافر اصلی سے بدتر ہے۔(الاشباہ والنظائر، صفحہ: 159،دار الکتب العلمیہ،بیروت)
اور پھرمرتد کے بارےمیں تو یہ حکم ہے کہ قاضیِ اسلام اسے قید کرلے اور تین دن تک اس پر اسلام پیش کرے اور اگر وہ نہ مانےتو اسے قتل کردے تو پھر ایسا شخص متولی کیسے بن سکتا ہےجبکہ حالت ِ ارتداد میں اسےقید رکھنے کا حکم ہے۔
درمختار میں ہے: من ارتد عرض الحاکم علیہ الاسلام وتکشف شبھتہ ویحبس وجوبا ثلثۃ ایام ان طلب المھلۃ والاقتلہ من ساعتہ الااذارجی اسلامہ بدائع ترجمہ: جو مرتد ہوجائے حاکم اس پر اسلام پیش کرے گا اور اس کے شبہ کاازالہ کرے گا اگر وہ مہلت طلب کرے تو لازمی طور پر تین دن قید رکھاجائے گا ورنہ حاکم اسلام اسی وقت اس کو قتل کردے گا سوائے اس کے کہ اس کے اسلام کی امید ہو، بدائع۔(الدر المختارشرح تنویر الابصار،صفحہ:345دار الکتب العلمیۃ)
اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قادیانی ،مرزائی ، لاہوری ،احمدی یہ سب کافر ہیں اورآئینِ پاکستان نے بھی انہیں کافر قراد دیا ہے۔اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی اسلامی شعار اپنا سکتے ہیں ۔
اعلٰحضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن سے پوچھا گیا : مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد مہدی، مسیح موعود اور پیغمبر صاحب وحی والہام ماننے والے مسلمان ہیں یا خارج ازاسلام اور مرتد؟اس پر آپ ارشاد فرماتے ہیں: لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملنے کاجو قائل ہو وہ تو مطلقاً کافر مرتد ہے اگرچہ کسی ولی یا صحابی کے لیے مانے لیکن قادیانی توایسا مرتدہے جس کی نسبت تمام علمائے کرام حرمین شریفین نے بالا تفاق تحریر فرمایا ہے کہ من شک فی کفرہ فقد کفر ترجمہ: جس نے اس کے کفر میں شک کیا ہو کافرہوگیا۔اسے معاذاللہ مسیح موعود کیا مہدی یا مجدد یا ایک ادنی درجہ کا مسلمان جاننا درکنار جو اس کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکراس کے کافر ہونے میں ادنی شک کرے وہ خود کافر مرتد ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:11،صفحہ:515،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اسی طرح دستورِ پاکستان کی دفعہ260 ذیلی دفعہ 3 شق الف اور ب میں ہے:
1: مسلم‘ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو وحدت و توحید قادر مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ، خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پرمکمل اور غیرمشروط طور پر ایمان رکھتا ہو، اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو، نہ اسے مانتا ہو کہ جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبرہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے، اور
2:’غیرمسلم‘ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا (جو خود کو ’احمدی‘ یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کوئی شخص یا کوئی بہائی اور شیڈولڈ ذاتوں میں سے کسی سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔
نیز دفعہ 298سی میں ہے: قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کا کوئی شخص (جو خود کو قادیانی یا کسی دیگر نام سے موسوم کرتا ہو)، بلاواسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہو، یا اپنے عقیدے کا بطورِ اسلام کے حوالہ دیتا ہو، یا موسوم کرتا ہو، یا دوسروں کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دیتا ہو، الفاظ سے جو چاہے زبانی ہوں یا تحریری یا ظاہری حرکات سے یا کسی طریقے سے خواہ کچھ بھی ہو، مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے، اسے دونوں اقسام میں سے کسی قسم کی سزاے قید دی جائے گی، جس کی مدت تین سال تک ہوسکتی ہے اور سزاے جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔
پس قادیانی اور اس جیسا عقیدہ رکھنے والے تمام گروہ کافر ہیں تو جب کوئی مسلمان ان کا دین اختیار کرے گا تو وہ مرتد ہوجائےگا اورمذکورہ بالا سطروں میں یہ بات واضح ہوچکی کہ کسی مسجد کا متولی مرتد نہیں ہوسکتا ۔لہذا جلد از جلد ایسے شخص سے مسجد لے کر کسی صحیح العقیدہ مسلمان کے سپرد کی جائے۔
2:مسجد کو غیر مسجد سے تبدیل کرنے کا حکم:
جو جگہ ایک بار مسجدکےلیے وقف ہوجائے وہ صبح ِ قیامت تک مسجد ہی رہے گی ۔اس کی مسجد والی حیثیت ختم کرناتخریب ِ مسجد ہے اورایسا کرنا حرام ہے بلکہ خودواقف بھی اسے تبدیل نہیں کرسکتا یہاں تک کہ اگر اس کی عمارت ختم کردی جائے اور وہ میدان ہوجائے تب بھی وہ مسجد ہی ہے اس کا احترام مسجد والا ہی کیا جائے گا۔اس کا بیچنا ،عاریت پر دینا ،تحفہ کرنا ،کرائے پر دینا ناجائز و حرام ہے ۔یہاں تک کہ وہ کسی دینی مقصد کے لیے بھی استعمال نہیں ہو سکتی یعنی اگر کوئی شخص اس پر مدرسہ بنانا چاہے تو وہ بھی نہیں بنا سکتا بلکہ یہ مسجد ہے تو مسجد ہی رہے گی ۔
تخریب مسجد کی بابت ارشاد ربانی ہے : وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ترجمہ: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لیے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ۔(البقرہ:114)
اس آیت کے تحت تفسیرات احمدیہ میں ہے:المقصود من ذکر الایۃ انھا تدل علی ان ھدم المساجد وتخریبھا ممنوع ۔ترجمہ:مقصود اس آیت کے ذکر کا یہ ہے کہ یہ دلالت کر رہی ہےکہ مسجدوں کا گرانا اور ان کی تخریب کرنا ممنوع ہے۔
الدر المختار میں ہے:(وَلَوْ خَرِبَ مَا حَوْلَهُ وَاسْتُغْنِيَ عَنْهُ يَبْقَى مَسْجِدًا عِنْدَ الْإِمَامِ وَالثَّانِي) أَبَدًا إلَى قِيَامِ السَّاعَةِ (وَبِهِ يُفْتِي)ترجمہ:اگر مسجد کا گردو پیش ویران ہوگیا اور مسجد کی ضرورت نہیں رہی تب بھی امام اعظم ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہما کے نزدیک وہ ہمیشہ تاقیامت مسجد ہی رہے گی اور اسی پرفتوٰی دیاجاتا ہے۔
اسی کے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں: فَلَا يَعُودُ مِيرَاثًا وَلَا يَجُوزُ نَقْلُهُ وَنَقْلُ مَالِهِ إلَى مَسْجِدٍ آخَرَ، سَوَاءٌ كَانُوا يُصَلُّونَ فِيهِ أَوْ لَا وَهُوَ الْفَتْوَى حَاوِي الْقُدْسِيِّ، وَأَكْثَرُ الْمَشَايِخِ عَلَيْهِ مُجْتَبَى وَهُوَ الْأَوْجَهُ ترجمہ :یعنی وہ نہ کسی کی میراث بن کر لوٹ سکتی ہے اورنہ اس کا سامان کسی دوسری مسجد کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے چاہے اس میں نماز پڑھی جاتی ہو یا نہیں اور یہی حاوی قدسی کا فتوی ہےاور اسی قول پر اکثر مشائخ ہیں اور یہی سب سے زیادہ راجح ہے ۔ (رد المحتار علی الدر المختار ،جلد:4،صفحہ:358،دار الفکر بیروت)
ردالمحتار میں ہے : الْوَاجِبَ إبْقَاءُ الْوَقْفِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِترجمہ: وقف کو اسی حالت پر رکھنا واجب ہے جس حالت پر وہ فی الحال موجود ہے۔( شامی کتاب الوقف مطلب فی استبدال الوقف وشروطہ 4ص388)
فتح القدیر میں ہے: (قَوْلُهُ وَإِذَا صَحَّ الْوَقْفُ) أَيْ لَزِمَ، وَهَذَا يُؤَيِّدُ مَا قَدَّمْنَاهُ فِي قَوْلِ الْقُدُورِيِّ وَإِذَا صَحَّ الْوَقْفُ خَرَجَ عَنْ مِلْكِ الْوَاقِفِ. ثُمَّ قَوْلُهُ (لَمْ يَجُزْ بَيْعُهُ وَلَا تَمْلِيكُهُ) هُوَ بِإِجْمَاعِ الْفُقَهَاءِ۔ترجمہ: صاحبِ ھدایہ کا قول : اور جب وقف صحیح ہوجائے یعنی لازم ہوجائے اور یہ قول اس کی تائید کرتا ہے جو ہم نے صاحبِ قدوری کا قول مقدم کیا :اور جب وقف صحیح ہوجائے تو واقف کی ملک سے نکل جاتا ہے پھر صاحب ِ ہدایہ کا قول: اب اس کی بیع کرنا اوراسے ملکیت کرنا جائز نہیں ہے ۔یہ قول اجماع ِ فقہاء کے سبب ہے۔(فتح القدیر ،جلد:6،صفحہ:220،دارالفکر ،لبنان)
الھدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے: من اتخذ أرضه مسجدا لم يكن له أن يرجع فيه ولا يبيعه ولا يورث عنه۔ ترجمہ:جو شخص اپنی زمین کو مسجد بنا لے اس کےلیے جائز نہیں ہے کہ اپنے اس قول میں رجوع کرے اور نہ وہ اسے بیچ سکتا ہے اور نہ اس سے وراثت جاری ہوگی۔(الھدایہ شرح بدایۃ المبتدی ،جلد:3،صفحہ:21،دار احیاء التراث العربی ،بیروت)
جب خود واقف اور عام مسلمانوں کےلیے یہ حکم ہے کہ وہ مسجد کی حیثیت کو ختم نہیں کرسکتے تو پھر کسی کافر اور مرتد کو یہ اختیار کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ مسجد کی مسجدیت کو ختم کرکے اسے اپنی عبادت گاہ میں تبدیل کردے ۔جبکہ قادیانی اپنی عبادت گاہ کوپاکستان کی دفعہ 298ب کے مطابق مسجد نہیں کہہ سکتا ۔
خلاصہ کلام یہ ہےکہ ایسامتولی اور انتظامیہ نہ صرف شریعت کی مجرم ہے بلکہ آئین پاکستان کی رو سے بھی بدترین سزا کی مستحق ہے ۔لہذا اعلیٰ حکام اورعدلیہ سے درخواست ہے کہ غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے ایسے لوگوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے اور فی الفور یہ مسجد ان سے لے کر مسلمانوں کے سپرد کی جائے تاکہ بروز محشر رب ذوالجلال کی بارگاہ میں سرخرو ہوسکیں.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمداحمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:28صفر المظفر4144 ھ/15ستمبر2023 ء