قوالی کی شرعی حیثیت
    تاریخ: 24 نومبر، 2025
    مشاہدات: 25
    حوالہ: 242

    سوال

    1: فی زمانہ قوالی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ہمارے گھر میں میرے بھائی خواجہ صاحب کی چھٹی کے حوالے سے قوالی کروانا چاہتے ہیں جس میں مردوں اور عورتوں کا مخلوط اجتماع ہوگا؟

    2: عورتوں کا مزاراتِ بزرگانِ دین کی حاضری کی کیا شرعی حیثیت ہے ؟ سائل:شہباز : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: صحیح و مفتٰی بہ قول کے مطابق مر وجہ قوالی سننا سنانا حرام و ناجائز ہے کیونکہ اس میں مزامیر(آلاتِ موسیقی جیسے ساز، ہارمونیم وغیرہ ) ہوتے ہیں، اور مزامیر باجماعِ امت حرام ہے، پھر اکثر قوّال بھی فاسق ،فاجر اور جاہل ہوتے ہیں، قوالی کے دوران ایسے اشعار پڑھتے ہیں،جو صراحتاً یا دلالتاً کفر بر مبنی ہوتے ہیں۔ پھر اگر ایسے اشعار نہ بھی ہوں کہ جن میں وجہِ کفر ہو تو ایسے ضرور ہوتے ہیں کہ نہ پڑھنے والےخود انہیں سمجھتے ہیں نا جن کے سامنے پڑھی جارہی وہ اس قابل ہوتے کہ کچھ سمجھیں ۔

    درمختار میں ہے:قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ صَوْتُ اللَّهْوِ وَالْغِنَاءِ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ كَمَا يُنْبِتُ الْمَاءُ النَّبَاتَ. قُلْت: وَفِي الْبَزَّازِيَّةِ اسْتِمَاعُ صَوْتِ الْمَلَاهِي كَضَرْبِ قَصَبٍ وَنَحْوِهِ حَرَامٌ لِقَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «اسْتِمَاعُ الْمَلَاهِي مَعْصِيَةٌ وَالْجُلُوسُ عَلَيْهَا فِسْقٌ وَالتَّلَذُّذُ بِهَا كُفْرٌ۔ ترجمہ:حضرت سید نا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لہو اور غنا کی آواز دل میں منافقت پیداکرتی ہے جیسا کہ پانی پودوں کو اگاتا ہے میں کہتا ہو ں (علامہ علاء الدین حصکفی رحمۃاللہ علیہ)اور بزازیہ میں ہے کہ مزامیرکی آوازکو سنناجیسے بانس یا اس جیسی چیز کو مارنا(جو اس سے آواز پیدا ہو تی ہے اس کو سننا) حرام ہے کہ رسول اکرم نورمجسم ﷺفرماتے ہیں کہ مزامیر سننا گناہ ہے اور اس کی مجلس میں بیٹھنا بھی گناہ ہے اور لذت حاصل کرنا اسکے ساتھ کفر ہے۔(الدرالمختار،کتاب الحظر والاباحۃ،6/348،349،دار الفکر۔)

    ردالمحتار میں واضح قول موجود ہے:أَنَّهُ لَا رُخْصَةَ فِي السَّمَاعِ فِي زَمَانِنَا۔ ترجمہ: ہمارے زمانے میں سماع کی اجازت نہیں ہے۔( رد المحتار،6/349،دار الفکر۔)

    اور اعلی حضرت عظیم المرتبت امام احمد رضاخان علیہ الرحمۃفرماتے ہیں:خودحضور پر نور سلطان المشائخ محبوب الہی رضی اللہ عنہ کے ملفوظات طیبات فوائد الفواد شریف میں مزامیر حرام است یعنی مزامیر حرام ہیں۔(فتاوی رضویہ، 24/149،رضافاؤنڈیشن لاہور)

    اور دوسری جگہ اعلی حضرت عظیم المرتبت امام احمد رضاخان علیہ الرحمۃفرماتے ہیں:اور حضرت مولانا فخرالدین ذراوی خلیفۂ حضور سیدنا محبوب الہی رضی اللہ عنہمانے زمانہ ء حضور میں خود حکم حضور سے رسالہ کشف القناع عن اصول السماع تحریرفرمایا جس میں ارشاد فرماتے ہیں:أما سماع مشائخنا رضی الله تعالی عنهم فبرئ عن هذه التهمة وهو مجرد صوت القوال مع الاشعار المشعرة من کمال صنعة الله تعالی۔ ترجمہ: ”ہمارے مشائخ کرام رضی اللہ تعالی عنھم کا سماع اس تہمت مزامیر سے مبرا ہے وہ تو صرف قوال کی آواز ہے ان اشعار کے ساتھ کہ کمال صنع خدا وندی جل وعلا پر آگاہ کریں۔ (فتاوی رضویہ، 24/157،رضافاؤنڈیشن لاہور۔)

    ایک اور مقام پر آپ سے سوال ہوا : زیدکہتا ہے کہ قوالی مع آلات مزامیر کے جائزہے۔۔۔ اور کہتاہے کہ مزامیر اُن باجوں کو کہتے ہیں ، جو منہ سے بجائے جاتے ہیں ۔ ڈھلک، ستار، طبلہ، مجیرے، ہارمونیم، سارنگی مزامیر میں داخل نہیں بلکہ ان کا اوردف کاایک حکم ہے۔(اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا)زیدکاقول باطل ومردودہے، حدیث صحیح بخاری شریف میں مزامیر کالفظ نہیں بلکہ معازف کہ سب باجوں کوشامل ہے ۔ (فتاوی رضویہ،ج24،ص140،رضافاؤنڈیشن،لاهور)

    فتاوی رضویہ میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا : ’’میلاد شریف میں قوالی کی طرح پڑھنا کیساہے؟اس کے جواب میں فرمایا: قوالی کی طرح پڑھنے سے اگر یہ مرا د کہ ڈھول ستار کے ساتھ ، جب تو حرام اور سخت حرام ہے اوراگر صرف خوش الحانی مراد ہے ، تو کوئی امر مورث فتنہ نہ ہو ، تو جائز بلکہ محمود ہے اوراگر بے مزامیر گانے کے طور پر راگنی کی رعایت سے ہو ، تو ناپسند ہے کہ یہ امر ذکر شریف کے مناسب نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم(فتاوی رضویہ،ج21،ص664،رضافاؤنڈیشن،لاهور)

    قوالی سننے کی صوفیا ئے کرام نے چھ شرائط بیان کی ہیں اگر وہ شرائط سامعین میں پائی جائیں تو قوالی سنناجائز ہے وگرنہ ناجائز وحرام ہے ۔

    ردالمحتار میں ہے:وَلَهُ شَرَائِطُ سِتَّةٌ: أَنْ لَا يَكُونَ فِيهِمْ أَمْرَدُ، وَأَنْ تَكُونَ جَمَاعَتُهُمْ مِنْ جِنْسِهِمْ، وَأَنْ تَكُونَ نِيَّةُ الْقَوْلِ الْإِخْلَاصَ لَا أَخْذَ الْأَجْرِ وَالطَّعَامِ، وَأَنْ لَا يَجْتَمِعُوا لِأَجْلِ طَعَامٍ أَوْ فُتُوحٍ، وَأَنْ لَا يَقُومُوا إلَّا مَغْلُوبِينَ وَأَنْ لَا يُظْهِرُوا وَجْدًا إلَّا صَادِقِينَ۔ترجمہ: محفل میں کوئی امرد (بے ریش خوب صورت لڑکا)نہ ہو،محفل میں صرف صوفیاء ہوں، قوال کی نیت اخلاص کی ہو اجرت اور طعام کی نہ ہو، حاضرین کسی لالچ کی غرض سے محفل میں نہ ہو ں مغلوب الحال ہوں، وجد صادق ہو۔( رد المحتار،6/349،دار الفکربیروت )

    اگریہ شرائط نہ ہوں تو ناجائزو حرام ہے کہ ردالمحتارمیں ہے :إنْ كَانَ السَّمَاعُ سَمَاعَ الْقُرْآنِ وَالْمَوْعِظَةِ يَجُوزُ، وَإِنْ كَانَ سَمَاعَ غِنَاءٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِإِجْمَاعِ الْعُلَمَاءِ وَمَنْ أَبَاحَهُ مِنْ الصُّوفِيَّةِ، فَلِمَنْ تَخَلَّى عَنْ اللَّهْوِ، وَتَحَلَّى بِالتَّقْوَى، وَاحْتَاجَ إلَى ذَلِكَ احْتِيَاجَ الْمَرِيضِ إلَى الدَّوَاءِ۔ترجمہ: قرآن ونصیحت کا سماع جائز ہے اور اگر سماع غناکے ساتھ ہو تو حرام ہے اسی پر علماء کا اجماع ہے اور صوفیاء نے اسے چند شرائط کے ساتھ مباح فرمایا ہے کہ وہ محفل لہو سے خالی ہو اور سامع متقی ہوں اوراس کی حاجت سامع کو ایسی ہو جیسے مریض کو دواء۔(رد المحتار،6/349،دار الفکر۔)

    خلاصہ یہ ہے کہ فی زمانہ قوالی کی شرائط نہیں پائی جاتی لہذا اس کاسننا ،سنانا سب ناجائز و حرام ہے۔

    پھر اگر اس میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہو تو ناجائز ہونے کو یہ ایک الگوجہ ہے کہ شرع شریف میں اختلاطِ مرد و زن سخت ممنوع و ناجائز ہے۔ لہذا آپکے بھائی کا یہ محفل کروانا ناجائز ہے ، ثواب کجا باعثِ عذاب ہے ۔ ضرور لازم کہ فوراً اسکا ارادہ ترک کرکے ایصالِ ثواب و ذکر و اذکار کی محفل منعقد کروائے جس میں تلاوت قرآن مجید ، دیگر ذکر اذکار اور کسی سنی صحیح العقیدہ عالم باشرع سے وعظ کروائے ، مرد و وعورتوں کا الگ انتظام کرے کہ فتنہ یا احتمال فتنہ بالکل نہ رہے تو قطعاً یقیناً مستحق ثواب و اجر ہے۔

    2: حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے روضہ مبارکہ کے علاوہ قبروں کی زیارت کے لیے جانا عورتوں کے لیے مطلقاً منع ہے اگرچہ باپردہ ہوکر جائیں ، خصوصاً اپنے کسی عزیز ، رشتہ دار کی قبر پر جائے ، تو اور زیادہ ممنوع ہے ۔

    سیدی اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں عورتوں کے قبرستان جانے کے متعلق فرماتے ہیں: اصح یہ ہے کہ عورتوں کو قبروں پر جانے کی اجازت نہیں ۔ ( فتاویٰ رضویہ ، جلد 9 ، صفحہ 537 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )

    مزید فرماتے ہیں: اقول : ( میں کہتا ہوں ) قبورِ اقرباء پر خصوصاً بحال قرب عہد ممات تجدید حزن لازم نساء ہے اور مزاراتِ اولیاء پر حاضری میں احد الشناعتین ( یعنی دو خرابیوں میں سے ایک ) کا اندیشہ یا ترکِ ادب یا ادب میں افراط ناجائز ، تو سبیل اطلاق منع ہے ولہٰذا غنیہ میں کراہت پر جزم فرمایا ، البتہ حاضری و خاکبوسی آستان عرش نشان سرکارِ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم اعظم المندوبات ، بلکہ قریبِ واجبات ہے ، اس سے نہ روکیں گے اور تعدیلِ ادب سکھائیں گے ۔ ( فتاویٰ رضویہ ، جلد 9 ، صفحہ 538 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )

    صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی بہار شریعت میں فرماتے ہیں:عورتوں کے لیے بعض علماء نے زیارتِ قبور کو جائز بتایا ، در مختار میں یہی قول اختیار کیا ، مگر عزیزوں کی قبور پر جائیں گی ، تو جزع و فزع کریں گی ، لہٰذا ممنوع ہے اور صالحین کی قبور پر برکت کے لیے جائیں ، تو بوڑھیوں کے لیے حرج نہیں اور جوانوں کے لیے ممنوع اور اسلم یہ ہے کہ عورتیں مطلقاً منع کی جائیں کہ اپنوں کی قبور کی زیارت میں تو وہی جزع و فزع ہے اور صالحین کی قبور پر یا تعظیم میں حد سے گزر جائیں گی یا بے ادبی کریں گی کہ عورتوں میں یہ دونوں باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں ۔ ( بہارِ شریعت ، حصہ 4 ، جلد 1 ، صفحہ 849 ، مکتبۃ المدینہ ، کراچی )

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضاقادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 09 رجب المرجب 1444 ھ/01 فروری 2023 ء