سوال
ہم نے سٹی کورٹ تھانے میں قادیانی وکیل علی احمد طارق پر بمع شواہد دو مقدمات درج کروائے ہیں۔ دونوں مقدمات با قاعدہ منظور شد ہ امتناع قادیانیت آرڈینٹس 1984 کے تحت شعائر اسلام کے استعمال کے سبب اس قادیانی وکیل پر دفعہ 3298 کے تحت لگائے گئے ہیں۔ ہم نے یہ بنیادی موقف اپنایا کہ یہ شخص پکا قادیانی ہونے کے باوجود خود کو سید لکھتااور کہتا ہے، مقدمے کے اندراج کی کاروائی کے بعد عدالتوں میں کیس زیر سماعت رہے اور سماعت کے اختتام پر سندھ ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا اس میں انہوں نے چند سوالات درج کئے ہیں جس میں علماء کرام سے رہنمائی طلب کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کی اصل کاپی ہمارے سوال نامے کے ساتھ موجود ہے اور ساتھ میں موجود ان سوالات کا ترجمہ حاضر خدمت ہے،
ہائی کورٹ کے سوالات کا ترجمہ:
شکایت کنندہ وکیل کی طرف سے یہ دلیل اٹھائی گئی کہ سیکشن B(c) P.P.C. 298 کے تحت احمدیہ مذہب کا دعوٰی کرنے والا فرد جرم کار ارتکاب کرے گا اگر وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان (اہل بیت ) کے علاوہ کسی دوسرے شخص یا کسی فرد کو اہل بیت مخاطب کرے یا حوالہ دے،لہذا کیل کا کہنا ہے کہ لفظ "سید" کا استعمال در خواست گزار کو فوجداری قانون کے ذمہ دار بناتا ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ کسی بھی وکیل نے جو بتانے کی کو شش نہیں کی کہ فقر اہل بیت کا اصل مطلب کیا ہے۔ اصل میں اہل بیت کے دائرے میں کون آیا ۔؟ اس کے تاریخی ماخذ کیاہیں ، یہ جملہ قرآن پاک میں کتنی بار آیا ہے، کن آیات میں اس کا استعمال ہوا ہے، اس بارے میں علماء کیا فرماتے ہیں ؟ اس سلسلے میں ایک مخصوص استفسار پر بھی وکیل اس پر واضح نہیں تھے۔
عدالت کی تھوڑی سی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت کا لفظ قرآن مجید کی 3 آیات میں آیا ہے۔
سور ہود کی آیت 73، سورہ قصص کی آیت 12 اور سورہ احزاب کی آیت نمبر 33 ۔
اس موضوع پر بنیادی ابتدائی پڑھائی سے یقینی طور پر پتہ چلتا ہے کہ اصل میں اہل بیت کون ہے اس کا جواب دینا کوئی آسان سوال نہیں ہے۔ تاریخی طور پر، مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے اسلامی علماء کی صرف جزوی طور پر متفقہ رائے ہے کہ اہل بیت کے وائر ہ میں کون آتا ہے۔ مذہبی افکار کے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے اہل بیت کے اندر آنے والے لوگوں کے خلاف دائرہ کار بیان کیے ہیں۔ بطور استدلال، اپنے نام کے ساتھ لفظ سید استعمال کرنے کا حقدار کون ہے اور اس لفظ کا اصل معنی کیا ہے، اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔ دوسرے کی اس پر غور کیے بغیر فیصلہ نہیں کیاسکتا۔
عربی محاورہ اہلِ بیت کے معنی ومفہوم اور مذہبی نقطہ نظر سے اس کا اطلاق کے لیے اسلام کا گہر اعلم در کار ہے۔
اگر کوئی یہ سمجھے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا جواب وکلاء کے دلائل سننے اور پھر چند گھنٹوں کی تحقیق کے بعد دیا جا سکتا ہے تو یہ انتہائی قریب ہو گا۔ یہ مل کر منل کیس کا میدان نہیں ہے بلکہ یہاں (یعنی اس مقدمے میں چالان پر )گو اہ علمائے دین ہوں گے۔ ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران اس معاملے پر اتفاق رائے پر نہیں پہنچ سکتی۔ میں دریافت کے اس سفر کو شروع کرنے میں بھی زیادہ ہچکچاہٹ محسوس کر وں گاکیونکہ میرا ماننا ہے کہ یہ مسئلہ علمائے دین کے ایک تسلیم شدہ ادارے کے رائے دینے کا ہے، جن کی تعلیم ،علم ،تجربہ، اورحکمت اس طرح کے حساس و پیچیدہ مسائل پر ضروری ہے۔علمائے دین کی مدد کے بغیر جملہ اہل بیت کے معنی اور دائرے کا فیصلہ کرنا یا مشابہت کرنا اس فیصلہ کے مترادف ہو گا جس میں عدالت تجربہ کار ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنائے بغیر اس بات کا تعین کرے کہ آیا ایک سرجن نے ٹیومر بنانے کے آپریشن میں لا پرواہی کی تھی۔
علمائے دین کی تسلیم شدہ باڈی کے اس فیصلے پر پھر پارلیمنٹ اور عدالتوں کو نظر ثانی سے مشروط کیا جانا چاہیے۔ اس مسئلے کی اہمیت اتنی ہی ہے۔ یہ مسئلہ گہری سوچ اور اسلامی علم و حکمت کا متقاضی ہے۔ اس فقرے کا جو مفہوم دیا گیا ہے اس کے قومی اور بین الا قوامی سطح پر ملک کے لیے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں اس لئے زیادہ سے زیادہ احتیاط اور احتیاط کی ضرورت ہے۔“
براہ کرام قرآن وحدیث واقوال ائمہ فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیے گا کہ جن آیات کا حوالہ عدالت کی جانب سے دیا گیا ہے مفسرین کرام کے نزدیک ان کی کیا تفصیلات ہیں؟ اور یہ کہ 1973 میں آئین پاکستان کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دئے جانے کے بعد 1984 کے امتناع قادیانیت آرڈینٹس میں قادیانیوں پر جو پابندیاں لگائی گئیں تو کیا وہ خود کو سید کہہ سکتے ہیں یا مسلمانوں کے لئے وضع کی گئی تمام شرعی اصطلاحات یا شعائر اسلام استعمال کر سکتے ہیں ؟ ان سوالات پر حکم شرع کیا ہے ؟ نیز یہ کہ کیا کوئی غیر مسلم یا قادیانی یا بعد میں مذہب تبدیل کر لینے یا حد کفر وارتداد تک پہنچنے والا خود کو سید کہہ سکتا ہے یا لکھ سکتا ہے ؟ اور سید کا اطلاق کس کس پر ہوتا ہے؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیے۔ جزاکم اللہ خیراسائل: محمد اظہر قادری ایڈوکیٹ : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مدعی کا دعوٰی یہ ہے کہ قادیانی وکیل خود کو سید کہتا اور لکھتا ہے جبکہ قابلِ احترام عدالت نے سید کے ضمن میں لفظِ اہلِ بیت کی وضاحت طلب کی ہے کہ اسکا معنٰی واطلاق کیا ہے؟یاد رہے کہ یہ دونوں (اہلِ بیت و سید ) اسلام کیایسی اصطلاحات ہیں کہ بعض مقامات پر ان کا اطلاق بطریقِ مشترک اور بعض مقامات پر متفرق طور پر ہوتا ہے، بایں طور کہ ان کے مابین عموم خصوص مطلق کی نسبت ہےجس میں اہلِ بیت اعمِ مطلق ہے اور سید اخص مطلق ہے، پُر واضح کہ جن دو چیزوں کے مابین عموم مطلق کی نسبت ہو ان میں ایک مادہ افتراقی اور ایک مادہ اجتماعی ہوتا ہے۔ بایں طور کہ ہر سید اہلِ بیت سے ہے جیساکہ حسنین کریمین کی اولادیں کہ سادات سے بھی ہیں اور اہلِ بیت سے بھی ۔مگر اہلبیت اہلِ بیت کا ہر فرد سید نہیں۔ جیساکہ ازواج مطہرات کہ اہل بیت سے ہیں مگر سادات سے نہیں، یونہی تخصیصِ عرفی کے سبب اولادِ حضرت عباس، جعفر، عقیل اور حارث رضی اللہ عنہم کی اولادیں اور جنابِ مولائے کائنات کی غیر فاطمی اولاد اہل بیت سے تو ضرور ہیں مگر سادات سے نہیں۔ نیز اول الذکر اور ثالث الذکر ہی وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جن پر اور انکی آل پر صدقات (واجبہ) حرام ہیں۔
اسکی تفصیل درج ذیل ہے:
اہل بیت کا معنٰی و اطلاق:
لغوی و عرفی اعتبار سے اہل بیت کے دو اطلاقات ہیں:
1: اہلِ بیتِ نسب 2: اہلِ بیت ِ سکنٰی
پہلے اطلاق کے اعتبار سے اس میں آپ ﷺ کی سب اولاد اور رشتے دار داخل ہیں ،لہذا وہ تمام بنو ہاشم جن پر زکوٰۃ لینا حرام ہے یعنی حضرت عباس، علی، جعفر، عقیل اور حارث رضی اللہ عنہم کی اولاد اہلبیت میں سے ہے اور یہ اہل بیتِ نسب کہلاتے ہیں ۔
جبکہ دوسرے اطلاق کے اعتبار سے اہل بیت آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات ہیں۔
جب بھی لفظِ اہل بیت مطلقاً بولا جاتا ہے تو اس میں آپ ﷺ کی ازواج، اولادودیگر رشتے دار مراد ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں کتب لغات،آیات قرآنی،احادیث طیبہ ، اور علماء دین کی تصریحات جا بجا موجود ہیں۔
چناچہ امام اللغت علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502ھ فرماتے ہیں :واللفظ للاول: اهل الرجل من يجمعه و اياهم نسب او دين او مايجري مجراهما من صناعة و بيت و بلد فاهل الرجل في الاصل من يجمعه و اياهم مسکن واحد ثم تجوز به فقيل اهل بيت الرجل لمن يجمعه اياهم نسب و تعورف في اسرة النبي صلیٰ الله عليه وآله وسلم مطلقا اذا قيل اهل البيت لقوله عزوجل : إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ ،(سورہ احزاب، 33: 33) وعبر باهل الرجل عن امراته و اهل الاسلام الذين يجمعهم ولما کانت الشريعة حکمت برفع حکم النسب في کثير من الاحکام بين المسلم و الکافر قال تعالیٰ : إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۔ (سورہ هود آیت نمبر 46)۔ترجمہ:کسی شخص کے اہل وہ لوگ ہیں جو اس کے نسب یا دین یا پیشہ یا گھر یا شہر میں شریک اور شامل ہوں ۔ لغت میں کسی شخص کے اہل وہ لوگ ہیں جو کسی کے گھر میں رہتے ہوں پھر مجازاً جو لوگ اس کے نسب میں شریک ہوں ان کو بھی اس کے اہل کہا جاتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے خاندان کے لوگوں کو بھی مطلق اہل بیت کہا جاتا ہے ۔ جیسا کہ قرآنِ مجید کی اس آیت میں ہے بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) اہلِ بیت ! تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے کسی شخص کی بیوی کو اس کے اہل سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اہل اسلام ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اسلام کے ماننے والے ہوں۔ چونکہ اسلام نے بہت سے احکام میں مسلم اور کافر کے درمیان نسب کا رشتہ منقطع کر دیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا : بیشک وہ تیرے گھر والوں میں شامل نہیں کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے ۔ (المفردات فی غريب القرآن، 1: 29، بيروت، لبنان: دارالمعرفة)
علامہ محمد بن مکرمہ ابن منظور الافرفیقی المصری المتوفی 711 ھ لکھتے ہیں :أهل بيت النبي، صلى الله عليه وسلم، أزواجه وبنته وعليا، رضي الله عنهم.ترجمہ:نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل بیت آپ کی ازواج ‘ آپ کی بیٹیاں اور آپ کے داماد یعنی حضرت علی (رضوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین) ہیں۔(لسان العرب ج 2 ص 15، دار صادر ،بیروت 1444ھ)
سید محمد مرتضیٰ حسینی زبیدی متوفی 1205 ھ لکھتے ہیں : الأهل للرجل: زوجته ويدخل فيه الأولاد، وبه فسر قوله تعالى: وسار {بأهله أي زوجته وأولاده}. (و) {الأهل للنبي صلى الله عليه وسلم: أزواجه وبناته وصهره علي رضي الله عنه۔ ترجمہ:کسی شخص کی بیوی کو اس کی اہل کہا جاتا ہے ، اور اہل میں اولاد بھی داخل ہے ، اسی کے ذریعے اللہ تعالٰی کے اس قول کی تفسیر کی گئی ہے وسار باہلہ یعنی بزوجتہ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل آپ کی ازواج ‘ آپ کی بیٹیاں اور آپ کے داماد حضرت علی ہیں۔ (تاج العروس شرح القاموس ج 28 ص 41، داراحیاء التراث العربی بیروت)
قرآن میں اہل بیت کا لفظ اوراسکے مصادیق:
1:سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا؎؎؎؎؎؎؎.ترجمہ کنز الایمان: اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دُور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔ (الاحزاب: 33)
اس آیت میں اہل بیت سے کون مراد ہیں اسکی تفسیر میں مفسرین کے تین اقوال ہیں۔جسکا خلاصہ درج ذیل ہے:
1: اس آیت میں اہل البیت سے ازواج نبی مراد ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت کا سیاق و سباق اسی بات پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اس آیت سے پہلے کئی آیات کا مخاطبات نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات ہیں جیساکہ فرمایا : یایھا النبی قل الازواجک ، و ان کنتن تردن الاللہ ورسولہ، ینساء النبی من یات منکن، ومن یقنت منکن ،ینساء النبی لستن کاحد امن النساء ،ان سب میں خطاب ازواج مطہرات کو ہی ہے۔ پھر خود اسی آیت سے پہلے حصے میں بھی انہی ازواج سے خطاب ہے چناچہ فرمایا: وقرن فی بیوتکن ۔۔۔الخ۔ یونہی اس آیت کے بعد بھی واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من آیات۔۔۔الخ بھی ازواج سے ہی خطاب ہے۔ چناچہ حضرت عکرمہ و مقاتل نے یہی فرمایا ہے اور سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے بھی یہی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے آیت میں اہلِ بیت سے مراد ازواجِ مطہرات کو قرار دیا۔ طبری میں ہے کہ حضرت عکرمہ تو بازار میں منادی کرتے تھے، کہ آیت میں اہلِ بیت سے مراد ازواجِ مطہرات ہیں، کیوں کہ یہ آیت اِن ہی کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اور فرماتے تھے کہ میں اس پر مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں ۔(ماخوذ از تفسیرِ طبری جلد 20ص 267، مؤسسۃ الرسالہ ، الطبع 2000ء)
2: اس آیت سے جگر گوشہ رسول جناب فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالٰی عنھا، جنابِ مولائے کائنات علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم،اور امامَینِ حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالٰی عنھمامراد ہیں۔ کئی ایک احادیث ان کے اس موقف پر صریح دلالت کرتی ہیں۔
چناچہ ترمذی میں ہے: عن عمر بن أبي سلمة، ربيب النبي صلى الله عليه وسلم قال: لما نزلت هذه الآية على النبي صلى الله عليه وسلم {إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا} [الأحزاب: 33] في بيت أم سلمة، فدعا فاطمة وحسنا وحسينا فجللهم بكساء، وعلي خلف ظهره فجلله بكساء ثم قال: «اللهم هؤلاء أهل بيتي فأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» . قالت أم سلمة: وأنا معهم يا نبي الله، قال: «أنت على مكانك وأنت على خير»ترجمہ:نبی کریم ﷺکے لے پالک حضرت عمر بن ابی سلمہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ پر یہ آیت حضرت ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی :انما یریداللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا (الاحزاب : ٣٣)اے رسول کے گھر والو ! اللہ صرف یہ ارادہ فرماتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی نجاست دور رکھے اور تم کو خوب ستھرا اور پاکیزہ رکھے۔نبی ﷺ نے حضرت فاطمہ ‘ حضرت حسن اور حسین کو بلوایا اور ان سب کو ایک چادر میں ڈھانپ لیا ‘ اور حضرت علی آپ کی پشت کے پیچھے تھے پس آپ نے ان کو بھی اس چادر میں ڈھانپ لیا پھر کہا اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ‘ تو ان سے (ہرقسم کی) نجاست کو دور رکھنا اور انکو خوب پاکیزہ رکھنا ‘ حضرت ام سلمہ نے کہا یا رسول اللہ ! آیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں ؟ آپ نے فرمایا تم اپنے مقام پر ہی ہو(یعنی پہلے ہی اہلبیت سے ہو۔) اور تم خیر پر ہو۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : 3206)
چناچہ صحیح مسلم ونسائی میں ہے، واللفظ للاول : ثم قال: " أما بعد، ألا أيها الناس فإنما أنا بشر يوشك أن يأتي رسول ربي فأجيب، وأنا تارك فيكم ثقلين: أولهما كتاب الله فيه الهدى والنور فخذوا بكتاب الله، واستمسكوا به " فحث على كتاب الله ورغب فيه، ثم قال: «وأهل بيتي أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي» فقال له حصين: ومن أهل بيته؟ يا زيد أليس نساؤه من أهل بيته؟ قال: نساؤه من أهل بيته، ولكن أهل بيته من حرم الصدقة بعده، قال: ومن هم؟ قال: هم آل علي وآل عقيل، وآل جعفر، وآل عباس قال: كل هؤلاء حرم الصدقة؟ قال: نعم۔ ترجمہ: حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سنواے لوگو ! میں صرف ایک بشر ہوں ‘ عنقریب میرے پاس اللہ کا سفیر آئے گا ‘ اور میں اس کی دعوت کو قبول کروں گا ‘ میں تم میں وہ بھاری چیزیں چھوڑنے والا ہوں ان میں سے ایک اللہ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے ‘ سو تم اللہ کی کتاب کو پکڑ لو اور اس کا دان تھام لو ‘ پھر آپ نے کتاب اللہ پر برانگخیتہ کیا اور اس کی طرف راغب کیا ‘ اور فرمایا دوسری بھاری چیز میرے اہل بیت ہیں ‘ میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق اللہ کی یاد دلاتا ہوں ‘ حصین نے حضرت زید بن ارقم سے پوچھا ! اے زید ! آپ کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی ازواج مطہرات آپ کی اہل بیت نہیں ہیں ؟ حضرت زید بن ارقم نے کہا آپ کی ازواج مطہرات بھی اہل بیت سے ہیں لیکن (اس ارشاد میں) آپ کے اہل بیت سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ کرنا حرام ہے ‘ اس نے پوچھا وہ کون ہیں ! انہوں نے کہا وہ آل علی ‘ آل عقیل ‘ آل جعفر اور آل عباس ہیں ‘ اس نے پوچھا ان سب پر صدقہ حرام ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں۔(صحیح مسلم حدیث نمبر : 2408، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : 8175)
اسی معنی ومفہوم کی اور دیگر احادیث ان حضرات کا مستدل ہیں جو مصنف ابن ابی شیبہ ،مسند ابو یعلیٰ ، مسند احمد ، الضعفاء للعقیلی ،المعجم الکبیر للطبرانی وغیرہ میں موجود ہیں۔
3: آیتِ تطہیر میں اہل بیت میں ازواجمطہرات اور نفوسِ اربعہ(سیدہ کائنات، مولائے کائنات، حسنین کریمین رجوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین) ہر دو داخل ہیں ۔ یہی موقف صحیح و راحج و حق و صواب ہے، کیونکہ کسی ایک فریق کے دخول کاانکار یا کسی ایک فریق کے خروج کا دعوٰی بہرکیف ممکن نہیں کہ ہر فریق کے دخول پر واضح دلائل موجود ہیں لہذا انسب و اعلٰی یہی ہے کہ اس آیت میں اہل بیت میں ہر دو فریق داخل ہوں۔ چناچہ حضرت سیّد پیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ : آیتہ تطہیر میں لفظ اہل بیت امہات المؤمنین علیہا الرضوان و آل عبا علیہم السلام دونوں کو شامل ہے سیاق آیۃ و احادیث کثیرہ اسی پر دال ہیں ۔ (مکتوبات طیّبات معرف بمہریہ چشتیہ صفحہ نمبر 263 طبع قدیم،چشتی)
قرآن مجید میں دیگر مقامات پر لفظ اہل یا اہل بیت کا ازواج و اولاد پر اطلاق:
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ حضرت سارہ کے متلعق قرآن مجید میں ارشاد ہے :قالوآ اتعجبین من امر اللہ رحمت اللہ و برکتہ علیکم اھل البیت۔ترجمہ: تعجب کرتی ہو ! اے اہل بیت ! تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔(ھود : 73)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بیوی کے متعلق ارشاد ہے :فقال لاھلہ امکثوآ انی انست نارا۔ ترجمہ:موسیٰ نے اپنی بیوی سے کہا تم ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے۔ (طہ : 10)
عزیز مصر کی بیوی کے متعلق ارشاد ہے :قالت ما جزآء من اراد باہلک سوء الآ ان یسجن۔ وہ کہنے لگی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی یہی سزا ہے کہ اس کو قید کردیا جائے۔(یوسف : 25)
حضرت ایوب علیہ السلام کےبیوی اور بچوں کے متعلق ارشاد ہے :فاستجبنا لہ فکشفنا ما بہ من ضرو اتینہ اھلہ و مثلہم معھم۔سو ہم نے ایوب کی دعا سن لی اور ان کو جو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ہم نے ان کو اہل و عیال عطا فرمائے اور ان کے ساتھ ان کی مثل بھی۔ (الانبیا : 84)
حضرت اسماعیل کے بارے میں فرمایا:وکان یامر اھلہ بالصلوۃ۔ اور اسماعیل اپنے بیوی بچوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔(مریم : 55)
لفظ سید کا معنی و مفہوم اور اسکا اطلاق:
سید کا لفظ جو ہمارے عرف و عادت میں بولا جاتا ہے ، اہل عرب اس معنٰی کو ادا کرنے کے لئے شریف،میر یا حبیب جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ، یہ لفظ(یعنی سید ) پہلے زمانہ میں علوی،جعفری اور عباسی وغیرہ پر بھی بولا جاتا تھا کیونکہ تمام مسلمانانِ بنوہاشم نبی کریم ﷺ کی نسبت ِ ہاشمی کا شرف رکھتے ہیں، مگر جب مصر پر فاطمی حکومت کا قبضہ ہوا تو یہ لفظ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما کی اولاد کے ساتھ خاص ہو گیا اور یہی عرف اب تک چلا آرہا ہے اسی لیے ہندوستان و پاکستان بلکہ دیگر تمام ممالک میں بھی لوگ لفظ سید سے اولاد حسنین ہی مراد لیتے ہیں ۔ اورآج تک عرب و عجم کے عرف میں اسی معنیٰ کےاعتبار سےشریف اورسیّدکالفظ استعمال کیاجاتاہے۔ کما ھو المعلوم لکل واحد من الناس ۔
امام جلال الدین سیوطی شافعی متوفی 911ھ ارشاد فرماتے ہیں:ان اسم الشريف كان يطلق في الصدر الاول على كل من كان من اهل البيت سواء كان حسنيا ام حسينيا ام علويا من ذرية محمد بن الحنفية وغيره من اولاد علي بن ابي طالب ام جعفريا ام عقيليا ام عباسيا ولهذا تجد تاريخ الحافظ الذهبي مشحونا في التراجم بذلك يقول:الشريف العباسي، الشريف العقيلي، الشريف الجعفري، الشريف الزينبي، فلما ولي الخلفاء الفاطميون بمصر قصروا اسم الشريف على ذرية الحسن والحسين فقط فاستمر ذلك بمصر الى الآن۔ ترجمہ:صدرِ اول میں شریف(سیّد)کا اطلاق ہر اس فرد پر کیا جاتا تھا،جو اہلبیت میں سے ہوتاتھا،چاہے وہ حسینی ہو یا حسنی یا حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے علوی ہو اور ان کے علاوہ حضرت سیّدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ہو یا جعفری ہو یا عقیلی یا عباسی،اسی وجہ سے حافظ ذہبی علیہ الرحمۃ کی تاریخ میں تم یہ بات پاؤ گے کہ ان کی تاریخ اسی اصطلاح سے بھری ہوئی ہے کہ وہ کہتےہیں:عباسی شریف(سادات)عقیلی شریف،جعفری شریف،زینبی شریف۔پس جب مصر میں فاطمی خلفاء کی خلافت آئی،توانہوں نے شریف (سیّد) کا لفظ فقط حضراتِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی اولاد پاک کے ساتھ خاص کر دیا اوریہی اصطلاح اب تک مصر میں چلی آرہی ہے۔(الحاوی للفتاوی،جلد2،صفحہ39، دارالفکر،بیروت)
امام ابن حجر ہیتمی مکی متوفٰی 974ھ فتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں: وَاعْلَم أَن اسْم الشريف كَانَ يُطلق فِي الصَّدْر الأول على من كَانَ من اہل البیت لو عباسیا او عقیلیا ومنہ قول المؤرخین الشریف العباسی الشریف الزینبی فلما ولی الفاطمیون بمصر قصروا الشریف علی ذریۃ الحسن والحسین فقط واستمر ذالک الی الآن ۔ترجمہ:جان لو یہ لفظ شریف(سید) کا اطلاق صدرِ اول میں ہر اس شخص پر ہوتا تھا جو اہل بیت سے ہو، اگرچہ عباسی ہو یا عقیلی ہو اور اسی سے مؤرخین کا قول ہے، عباسی شریف ، زینبی شریف ، پھر جب مصر میں فاطمیین کے پاس تولیت آئی تو انہوں نے لفظِ شریف(سید) اولاد حسنین سے ساتھ مخصوص کردیا اور اس وقت سے تاحال اسی طرح جاری و ساری ہے۔ (فتاوٰ ی حدیثیہ، جلد 1 ص 121، مطبوعہ دارالفکر بیروت۔)
علامہ سید احمد طحطاوی متوفٰی 1231ھ فرماتے ہیں:يطلق على مؤمني بني هاشم أشراف والواحد: شريف كما هو مصطلح السلف وإنما حدث تخصيص الشريف بولد الحسن والحسين في مصر خاصة في عهد الفاطمیین۔ ترجمہ:اشراف(سادات) کا لفظ بنوہاشم کے مؤمنین پر بولا جاتا ہےجیسا کہ علمائے اسلاف کی اصطلاح ہےاور اس کا واحدکا صیغہ شریف ہے اور اس کےبعد مصر میں فاطمی خلفاء کی خلافت کے دور میں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی اولاد امجاد کے ساتھ شریف(سیّد)کا لفظ خاص کر دیا گیا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی،جلد 1 صفحہ12)
فتاوی فیضِ رسول میں ہے : عام اھل سنت کا طریقہ بھی یہی ہے کہ وہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی اولاد کو سید کہتے ہیں مگر بعض لغات مثلا لغات سعیدی وغیرہ میں ہے کہ علویان گروہ سادات سے ہیں۔اوراھل ہند تخصیص عرفی کی بنیاد پر سید بول کر اولاد حسنین مراد لیتے ہیں ۔(فتاوٰی فیض رسول جلد 2 ص 584)
قادیانی شخص کا خود کو سید کہنا یا لکھنا:
جب یہ ثابت ہوا کہ لفظِ سید محض اولادِ حسنین کے ساتھ خاص ہے تو کسی غیر اولادِ حسنین کوبھی اگر چہ وہ خاص حضرت علی کی غیر فاطمی اولاد ہی کیوں نہ ہوں یونہی اگر چہ وہ اہلِ بیت سے ہی کیوں نہ ہوں ان میں سے کسی کو روا نہیں کہ اپنے نام کے سابقے یا لاحقے کے طور پر لفظِ سید لکھے ، پڑھےیا کہےجیساکہ فتاوٰی فیضِ رسول میں ہے: بنو ہاشم میں اولاد علی از محمد بن حنفیہ، آلِ جعفر، آلِ عباس، اور آلِ عقیل کو سید کہنا صحیح نہیں کہ تخصیص عرفی کے خلاف ہے کہ محض قریشی النسل ہونے کی بنیاد پر علوی وغیرہ کو سید کہنا درست ہو تو صدیقی ، فاروقی و عثمانی کو بھی اس بنیاد پر سید کہنا درست ہوگا (کہ یہ سب ضرور قریش سے ہیں۔)۔(فتاوٰی فیض رسول جلد 2 ص 584)
تو کیونکر ممکن ہوگا کہ ایک ایسا شخص جو باجماعِ امت و مسلمین قطعاً یقیناً کافر ، بد دین منکرِ ختم نبوت و رسالت و خارج از اسلام ہو اپنے نام کے ساتھ سید کہتا لکھتا پھرے۔ بالخصوص اس صورت میں کہ جب اُس ملک میں جہاں شریعت کے ساتھ ساتھ آئین و قانون کے مطابق بھی یہ شخص اور اسکی پوری جماعت خواہ اسکا کوئی سا گروہ ہوکافرو بے دین قرار پائیں اور آئین و قانون انہیں پابند کرے کہ وہ اسلام و شعائرِ اسلام سے متعلقہ کسی طرح کا لفظ یا اصطلاح جس سے اسکے مسلمان ہونے کا گمان ہواستعمال نہ کریں وگرنہ یہ ایک قابلِ سزا جرم ہوگا۔
پھر اگر یہ شخص نو قادیانی ہو یعنی بفرضِ غلط پہلے مسلمان ہو اور بعد میں قادیانی ہوا ہو(العیاذ باللہ) اور حالت اسلام میں سادات سے ہو تو بھی قادیانی ہونے کے سبب اسکا نسب رسولِ کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے منقطع ہوگیا جیساکہ حضرت نوح علیہ السلام کے کافر بیٹے کے بارے میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: یانوح إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۔ترجمہ: اے نوح بیشک وہ تیرے گھر والوں میں شامل نہیں کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے ۔(سورہ هود آیت نمبر 46)
چناچہ امام اللغت علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502ھ فرماتے ہیں :کانت الشريعة حکمت برفع حکم النسب في کثير من الاحکام بين المسلم و الکافر قال تعالیٰ : یانوح إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۔ترجمہ: اسلام نے مسلم اور کافر کے درمیان نسب کا رشتہ منقطع کر دیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا : بیشک وہ تیرے گھر والوں میں شامل نہیں کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے ۔ (المفردات فی غريب القرآن، 1: 29، بيروت، لبنان: دارالمعرفة)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: سید کا فضل ذاتی ہے جو فسق بلکہ بد مذہبی سے بھی نہیں جاتا جب تک کہ معاذ اللہ حد کفر تک نہ پہنچے ، اور سید کی تعظیم سبب جزئیت حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہے اور جزئیت تا بقائے اسلام باقی ہے ۔(ملخصا از فتاوی رضویہ جلد 11 ،ص: 23)
علاوہ شریعت کے بھی قانون کے مطابق احمدیہ مذہب کا دعوٰی کرنے والا فرد جرم کار ارتکاب کرے گا اگر وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان (اہل بیت ) کے علاوہ کسی دوسرے شخص یا کسی فرد کو اہل بیت مخاطب کرے یا حوالہ دے،جیساکہ فاضل وکیل نے اپنے سوال میں سیکشن B(c) P.P.C. 298 کا حوالہ دیا۔ لہذا قادیانی شخص کا اپنے ساتھ لگانامسلمانوں کے احساسات و جذبات کو مجروح کرنااور پوری ملت اسلامیہ کے دل پر ٹھیس پہنچانا ہے جو شرعاًاخلاقاً اور قانوناً قابلِ سزا جرم ہے۔ہماری سندھ ہائی کورٹ سے استدعا ہے کہ متعلقہ شخص کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ دوبارہ ایسا کوئی شخص اس طرح کا دعوٰی نہ کرسکے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضاقادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:26 ذوالقعدہ 1444 ھ/15 جون 2023 ء
ا