مقدس اوراق کو ریسائیکل کرنے کا حکم
    تاریخ: 24 نومبر، 2025
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 240

    سوال

    مقدس اوراق جس میں مصحف اور اسکے علاوہ دیگر اسلامی کتب مثلا حدیث، فقہ وغیرہ اسکے علاوہ عام رسائل اور کتابیں ہیں ۔ انکے دوبارہ استعمال کے لئے تمام مقدس اوراق کو واشنگ مشین جیسے ڈرم میں ڈالا جاتا ہے۔اوراق پر لکھائی ختم کرنے کے لئے اس ڈرم میں پانی، اور کیمیکل ڈالا جاتا ہے۔اور اسے چلایا جاتا ہے ،جس کے نتیجے میں لکھائی مٹ جاتی ہے اور صرف کاغذاور سیاہی رہ جاتی ہے۔سیاہی کو کسی جگہ کنواں کھود کر اس میں ڈال دیا جاتا ہے۔کنویں میں ڈالنےکی وجہ سے سیاہی کی تَری زمین میں جذب ہوجاتی ہے جبکہ کیمیکل اور سیاہی کی کچھ مقدار کنویں کی تہہ میں جم جاتی ہے کنویں کی تہہ میں جب اسکی وافر مقدار ہوجاتی ہے تو اسے کنویں سے نکال کر زمین میں دفن کردیا جاتا ہے یا پھر جب یہ کنواں بھر جائے تو اسے بند کرکے ایک نیا کنواں اسی مقصد کے لئے کھودا جاتا ہے۔

    اس صورت حال کے پیش ِنظر دو سوالات ہیں :

    1:کیا مذکورہ طریقہ جائز ہے یا نہیں ؟اس طریقہ میں پانی کی بچت ہے کیونکہ کنویں میں مقدس اوراق ڈالنے سے کنواں جلد بھر جاتا ہے، پھر پانی ڈالتے ہیں جسکی وجہ سے مقدس اوراق گَل کر دب جاتے ہیں اور مزید مقدس اوراق اس میں ڈال دئے جاتے ہیں ۔لیکن اس پروسس میں بہت زیادہ پانی خرچ کرنا پڑتا ہے ۔جبکہ اس کیمیکل والے پروسس میں بہت کم پانی خرچ ہوتا ہے۔اوراگر نئے کنویں کھدوائے جائیں تو اس میں بھی بہت اخراجات آتے ہیں ۔

    2:اس طریقہ کے بعد جبکہ مقدس اوراق سے لکھائی مٹ جاتی ہے اور کاغذ صاف ہوجاتا ان کاغذات کو دوبارہ استعمال میں لایا جاسکتا ہے یا نہیں ؟برائے مہربانی دلائل شرعیہ کی روشنی میں جواب عنایت کریں۔ جزاک اللہ تعالٰی خیرا

    سائل: عبدالغفار: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    قرآن مجید اللہ کریم کی لاریب و بے عیب کتاب ہے جسکا ادب ، تقدس اور تکریم ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اور جان بوجھ کر بےحرمتی و بے ادبی ایمان زائل ہوجانے کا سبب ہے۔قرآن مجید خواہ مکمل مصحف کی صورت میں ہو یا اسکی بعض آیات کسی کتاب، صفحہ یا کسی دوسری چیز پر تحریر ہو اسے بے وضو چھونا حرام و گناہ کا کام ہے۔ خود آیات قرآنیہ میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ، فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ، لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ،تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ :ترجمہ کنزالایمان: بےشک یہ عزت والا قرآن ہے ،محفوظ نَوِشْتَہ میں ،اسے نہ چھوئیں مگر باوضو ،اتارا ہوا ہے ،سارے جہان کے رب کا۔(واقعہ:77 تا 80)

    اسی طرح سورہ عبس میں ارشادفرمایا:فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ ،مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ ، بِأَيْدِي سَفَرَةٍ یہ قرآن قابلِ احترام صحیفوں میں ہے,جو (مقام میں) بلند اور پاکیزہ ہیں,جو نیکوکار کے ہاتھوں میں ہیں۔(العبس: 13تا 15)

    اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :وَهَذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ ترجمہ:یہ جو کتاب ہم نے نازل کی ہے نہایت بابرکت ہے۔(الأنعام: 92)

    فقہاء کرام نے اپنی کتب میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ بے وضو شخص کو قرآن چھونا جائز نہیں ہے ،چناچہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے: ويحرم على المحدث ثلاثة أشياءومس المصحف" القرآن ولو آية للنهي عنه في الآية "ترجمہ:اور بے وضو شخص کے لیے تین کام کرنا حرام ہیں ، ان میں سے ایک قرآن کو چھونا ہے خواہ اسکی ایک آیت ہی کیوں نہ ہو ،کیونکہ آیت مبارکہ(لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ) میں اس سے منع کیا گیا ہے۔( مراقی الفلاح شرح نورالایضاح،باب الحیض والنفاس ،جلد 1 ص 148)

    یونہی جس شخص پر غسل لازم ہو اس کے لیے قرآن کو چھونا اور پڑھنا دونوں ہی منع ہیں ۔ امام کاسانی رحمہ اللہ تعالٰی لکھتے ہیں:المنع من القراءة لتعظيم القرآن، ومحافظة على حرمته،ترجمہ:(جنبی شخص )کو قرآن چھونے سے منع کرنا قرآن کی تعظیم و ادب اور اسکی حرمت قائم رکھنے کے لئے ہے۔(بدائع الصنائع، فصل فی الغسل ،جلد 1ص 38،بیروت)

    اسی طرح حاشیہ طحطاوی علٰی مراقی الفلاح میں ہے:ومس مصحف وطواف "لا يحل" الإقدام عليه "إلا به" أي الوضوء ترجمہ: قرآن کو چھونااور طواف کرنا بغیر وضؤ کے حلال نہیں ہے۔( حاشیہ طحطاوی علٰی مراقی الفلاح، فصل فی احکام الوضوء،جلد 1 ص 61)

    پھر فقہاءِ کرام نے قرآن و حدیث کے منشا کے مطابق قرآن کی تعظیم کا اس قدر لحاظ رکھا کہ اگر قرآن مجید خود یا اسکی آیات جو مصحف کے علاوہ کسی چیز پر موجود ہوں بوسیدہ و ناقابل انتقاع ہوجائیں تو بھی انہیں جلایا نہ جائے اور نہ ایسے جگہ رکھی جائیں جہاں انکی بے ادبی کا اندیشہ ہو۔ بلکہ انہیں زمین میں دفن کردیا جائے یا سمندر برد کردیا جائے۔اور ایک صورت جلانے کی یہ جائز قرار دی کہ مصحف میں سے اسکی لکھائی پانی وغیرہ کے ذریعے مٹادی جائے اور اسکے بعد مابقی اوراق کا جلادیا جائے۔فقہاءِ کرام کی تصریحات درج ذیل ہیں:

    البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے: وَفِي التَّجْنِيسِ الْمُصْحَفُ إذَا صَارَ كُهْنًا أَيْ عَتِيقًا وَصَارَ بِحَالٍ لَا يُقْرَأُ فِيهِ وَخَافَ أَنْ يَضِيعَ يُجْعَلُ فِي خِرْقَةٍ طَاهِرَةٍ وَيُدْفَنُ؛ لِأَنَّ الْمُسْلِمَ إذَا مَاتَ يُدْفَنُ فَالْمُصْحَفُ إذَا صَارَ كَذَلِكَ كَانَ دَفْنُهُ أَفْضَلَ مِنْ وَضْعِهِ مَوْضِعًا يُخَافُ أَنْ تَقَعَ عَلَيْهِ النَّجَاسَةُ۔ ترجمہ: اور تجنیس میں ہے کہ جب مصحف بوسیدہ ہوجائے اور اسکی حالت یہ ہوجائے کہ اسے پڑھا نہ جاسکتا ہواور خوف ہو کہ بکھر کر ضایع ہوجائے گا تو اسے کسی پاک کپڑے میں لپیٹا جائے اور زمین میں دفن کردیا جائے کیونکہ جب کوئی مسلمان انتقال کرجائے تو اسے دفن کیا جاتا ہے تو مصحف بھی جب ایسا ہوجائے تو اسے دفن کرنا ایسی جگہ رکھنے سے افضل ہے کہ جہاں نجاست کے وقوع کا اندیشہ ہو۔( البحر الرائق شرح کنز الدقائق،کتاب الحیض ، باب ما یمنعہ الحیض، جلد 1 ص 212)

    فتاوٰی ہندیہ میں ہے: المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا، كذا في الغرائب.المصحف إذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة.ترجمہ: جب مصحف بوسیدہ ہوجائے اور اسکی حالت یہ ہوجائے کہ اسے پڑھا نہ جاسکتا ہواور خوف ہو کہ بکھر کر ضایع ہوجائے گا تو اسے کسی پاک کپڑے میں لپیٹا جائے اور زمین میں دفن کردیا جائے۔ اسے دفن کرنا ایسی جگہ رکھنے سے افضل ہے کہ جہاں نجاست کے وقوع کا اندیشہ ہو۔ اور اسکے لئے لحد بنائی جائے کیونکہ اگر اسکے لئے شق بنائی گئی تو مٹیمصحف پر پڑی گی جس میں ایک گونہ بے ادبی ہے۔مگر یہ کہ اس شق پر چھت بنا دی جائےکہ اس پر مٹی نہ پڑے تو بھی درست ہے۔اسی طرح غرائب میں ہے۔ جب مصحف بوسیدہ ہوجائے اور اسے پڑھا نہ جاسکتا ہو، تو اسے آگ کے ذریعے جلایا نہ جائے ۔ امام محمد شیبانی نےالسیر الکبیر میں اسی طرف اشارہ فرمایا اور ہم اسی قول کو اختیار کرتے ہیں۔(فتاوٰی ہندیہ،کتاب الکراہیۃ،الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلۃ،ج 5 ص 323)

    تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء.ترجمہ:وہ کتابیں جو قابلِ انتفاع نہیں رہی ان سے اللہ تعالٰی ،فرشتوں اور رسولوں کے نام مٹا کر باقی کو جلادیا جائے۔ اور جاری پانی میں ڈالنے میں بھی حرج نہیں ، یا انہیں دفن کردیا جائے اور یہی بہتر ہے،جیساکہ انبیاء کو دفنایا جاتا ہے۔

    اسکے تحت شامی میں ہے:وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة، ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار، ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل .ترجمہ:اور ذخیرہمیں ہے،جب مصحف بوسیدہ ہوجائے اور اسے پڑھا نہ جاسکتا ہو، تو اسے آگ کے ذریعے جلایا نہ جائے ۔ امام محمد نے اسی طرف اشارہ فرمایا اور ہمیں اسی قول کو اختیار کرتے ہیں۔اور اسے پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفنایا بھی جاسکتا ہے۔ اور اسکے لئے لحد بنائی جائے کیونکہ اگر اسکے لئے شق بنائی گئی تو مٹی مصحف پر پڑی گی جس میں ایک گونہ بے ادبی ہے۔مگر یہ کہ اس شق پر چھت بنا دی جائے (تو بے ادبی نہیں ہے)اور اگر چاہیں تو اسے پانی سے دھو دیں (تاکہ اسکی تحریر مٹ جائے)یااسے کسی ایسی پاک جگہ رکھیں کہ جہاں کسی محدث کا ہاتھ نہ لگے ، اور کسی طرح گندگی یا نجاست نہ پہنچے۔ کیونکہ اس میں کلام اللہ کی تعظیم ہے۔( ردالمحتار علی الدرالمختار شرح تنویر الابصار، ج 6 ص 422)

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: حاصل البتہ قواعد بغدادی و ابجد اور سب کتب غیر منتفع بہا ماورائے مصحف کریم کو جلادینا بعد محو اسمائے باری عزاسمہ اور اسمائے رسل وملائکہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اجمعین کے جائز ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الحظر والاباحۃ، جلد 23 ص 337)

    مذکورہ جزئیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالٰی نے عینِ مصحف کو جلانے سے منع کیا البتہ ایسے مصاحف کو جو بوسیدہ و ناقابل استعمال ہوجائیں انہیں چند ایک طریقوں سے تلف کرنے کا جوازفراہم کیا۔ جن میں ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ پانی یا کسی اور چیز کے ذریعے انکی تحریر مٹادی جائے اسکے بعدبچنے والے اوراق کو جلایا جاسکتا ہے۔ اسکی وجہ غالبا یہی ہے کہ جب تحریر مٹ گئی تو وہ مصحف نہ رہے لہذا مابقی اوراق کو جلانا ممنوع نہ ہوگا۔ ان فقہاء کے زمانے میں ایسے وسائل و ذرائع نہیں تھے کہ وہ ان بوسیدہ اوراق کو کسی طرح قابل استعمال بناسکیں اسی لئے ان فقہاء نے انکےجلانے کا قول کیا تاہم آج کل جدید ٹیکنالوجی اور سائنس کی ترقی کی بدولت یہ ممکن ہے کہ مصحف یا دیگر کتب سے تحریر مٹانے کے بعد انہیں دوبارہ قابل استعمال بنایا جاسکتا ہے ۔ فی زمانہ پانی سے لکھائی نہیں مٹائی جاسکتی کیونکہ وہ پرنٹڈ ہوتی ہےاس لئے یہ لکھائی مٹانے کے لئے کیمیکل کی ضروت پرٹی ہے۔لہذا کیمیکل وغیرہ کے ذریعے مصحف کی لکھائی مٹاکر ان کاغذات کو دوبارہ استعمال میں لانا جائز ہے، لیکن اسکی چند شرائط ہیں :

    1:اس عمل میں شریک تمام لوگ باوضو رہیں۔کیونکہ قرآن مجید کو بلاوضو چھونا ناجائز و حرام ہے۔(کما مر)

    2:تحریر مٹانے کے بعد بچنے والا کیمیکل اگر چہ زہریلا ہے لیکن چونکہ قران مجید کا دھوون ہے۔ لہذا اسکا احترام بھی لازم ہے۔اس کیمیکل کوبھی کسی ایسی جگہ بہاجائے جہاں اور کسی طرح گندگی یا نجاست نہ پہنچے۔یونہی اس کیمیکل کو بذریعہ حرارت گیس میں تحلیل بھی کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ یہ گیس انسانی و حیوانی حیات کے لئے نقصان دہ نہ ہو۔

    خلاصہ بحث او سوالات کے براہ راست جوابات:سوال میں مذکورہ صورت کے مطابق کیا جانے والا عمل بلاکراہت و قباحت جائز ہے۔جس میں کیمیکل کے لئے بھی الگ گڑھے کھود کر اس میں کیمیکل یا سیاہی کو ڈال دیا جاتا ہے۔ اس طرح وہ کیمیکل بھی بے ادبی سے محفوظ رہ جاتا ہے۔ اور اس عمل کے بعد کاغذات کو دوبارہ استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

    دارالافتاء کی طرف سے رہنمائی:دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ جن اوراق میں یہ عمل کیا جائے گا ۔ ان میں مصحف و غیر مصحف دونوں شامل ہیں ۔اور ان میں مصحف کی تعداد غیر مصحف کے مقابلے میں قلیل ہے۔یعنی مصحف کی تعداد 5 سے 10 فیصد تک ہے۔ اور باقی سب غیر مصحٖف اوراق ہوتے ہیں۔اس صورتِ حال میں بہتر یہی ہے کہ مصحف چونکہ قلیل مقدار میں ہوتے ہیں لہذا یہ عمل کرنے کی بجائے دفن یا سمندر برد والا طریقہ اپنایا جائے۔اگر چہ مصاحف میں بھی یہ عمل جائز ہے۔ اور مصاحف کے علاوہ میں یہ طریقہ اپناکر انہیں دوبارہ استعمال میں لایا جائے۔ اس طرح ایک تو قرآن مجید کے ادب میں مبالغہ ہوجائے گا اور دوسرا یہ کہ اب ہر طرح کی قباحت مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 29 رجب المرجب 1441 ھ/25 مارچ 2020 ء