masla wirasat ek beti teen bete
سوال
میں انیلہ ناز دختر محمد ہارون، ساکن افسراہ اپارٹمنٹ، بلاک 14، گلشن اقبال کی رہائشی اور آپ سے عرض گزار ہوں کہ میرے والد کا 2008ء میں انتقال ہوا تھا، جبکہ والدہ کا انتقال 2022ء میں ہوا تھا (والد کے انتقال کے وقت ورثاء میں تین بھائی، میں اور میری والدہ شامل تھے)۔میرے والد کا جیویلرز کا کاروبار تھا، جس پر میرے تین بھائی بھی والد کے ساتھ کام کرتے ہیں، جس وقت میرے والد کا انتقال ہوا تو انکے ترکے میں ،کراچی میں لیاقت آباد میں ایک بلڈنگ، ایک بنگلہ گلشن اقبال میں، دو کمرشل دکانیں، لاہور میں چند پلاٹس تھے، اس کے علاوہ نقدی اور دکانوں میں موجود سونا الگ موجود تھا، اس کے علاوہ بھی کئی جائیدادیں والد کی ملکیت میں موجود تھیں جن کا مجھے علم نہیں، میرے بھائی مجھے پوری بات بھی نہیں بتاتے ہیں(بلاشبہ میرے والد کے چھوڑے گئے ترکے کی کل مالیت کروڑوں روپے بنتی تھی)۔
والد کے انتقال کے بعد مجھے اپنی رہائش کیلئے فلیٹ خریدنا تھا، جس کیلئے میرے پاس رقم کچھ کم تھی، جس پر میں نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ والد کے ترکے میں سے میرا حصہ مجھے دیدیں تا کہ اپنے لئے فلیٹ خرید سکوں، لیکن میرے بھائی کسی طور پر مجھے حصہ دینے کو تیار نہیں تھے، پھر دو بھائیوں نے آپس میں مشورہ کر کے کہا کہ میں اپنا سونا فروخت کر کے تمہیں رقم دیتا ہوں بعد میں تم مجھے سونے کی صورت میں واپس کر دینا (جو کہ میں نے نہیں دیے تو میرے بھائی کہنے لگے کہ تم مان لو کہ آئندہ تمہارا جائیداد میں کوئی حصہ نہیں ہے) جو کہ میں نے خوشی سے تسلیم نہیں کیا تھا۔
والدہ نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں میرے والد کا فلیٹ زبردستی مجھے دیا ہے، جس کی قیمت باقی بنگلوں، دکانوں کے مقابلے میں کافی کم مالیت کی ہے۔مجھے وراثت کے معاملات کا زیادہ علم نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت ان سے بارہ لاکھ روپے لیکر میں نے اپنے لئے فلیٹ خرید لیا تھا، بعد میں میرے بھائیوں نے میرے سے بددیانتی اور دھوکہ کرتے ہوئے اس بات پر بضد ہو گئے کہ والد کے تمام ترکے میں سے میرا حصہ ختم ہو گیا ہے، اب میر اکوئی حصہ باقی نہیں بچتا۔اس سلسلے میں آپ سے عرض یہ ہے کہ میری شرعی رہنمائی فرماتے ہوئے میرا مسئلے پر قرآن و سنت کی روشنی میں حل عطا فرماویں کہ والد کی کل جائیداد (مکان، بنگلے، دکانوں، پلاٹس وغیرہ اور دکانوں میں موجود سونے میں) میرا کل کتنا حصہ بنتا ہے؟ میرا حصہ باقی ہے یا نہیں؟؟ اس حوالے سے میرے بھائیوں کی بھی شرعی رہنمائی فرمائیں، آپ جناب کی عین نوازش ہوگی۔
سائلہ : انیلہ ناز دختر محمد ہارون:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا ذکر کیا گیا تو صورتِ مستفسرہ حکم شرعی یہ ہے کہ والد کی وراثت سے ان کی بیوی، بیٹی اور بیٹے ہر ایک شرعی حصص کے مطابق حقدار ٹھہریں گے۔ بعد ازاں جب انکی بیوی کا انتقال ہوگیااور انکے ورثاء بھی یہی ہیں تو اب بیوی ساقط ہوجائے گی اور کل وراثت بیٹی اور بیٹوں کے مابین تقسیم ہوگی۔وراثت کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ کل جائیداد و اموال (مکانات، بنگلے، دوکانیں ، پلاٹس، نقدی اور زیورات وغیرہ) سب کے سب کو 7 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ جس میں سے ہر بیٹے کو دو حصے جبکہ بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔ یعنی فیصدی اعتبار سے ہر بیٹاالگ الگ طور پر 28.57 فیصد اور بیٹی 14.28 فیصد کا مالک ہوگا۔
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ۔ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء: 11)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
بھائیوں کا بہن سے وراثت کی تفصیلات چھپانا اور کم حصہ دینا:
مذکورہ مسئلے میں بھائیوں بددیانتی ، بد نیتی اور خیانت واضح ہے جس پر وہ بروزِ قیامت اللہ کی بارگاہ میں جوابدہ ہوں گے۔ علاوہ ازیں دنیا میں آپ انکے خلاف قانونی اور شرعی جارہ جوئی کرسکتی ہیں۔بھائیوں پر لازم ہے کہ بہن کا جو حصہ شرعی حساب سے بنتا ہے اسے واپس لوٹائیں وگرنہ احادیث کی وعید کے مطابق غاصبین یعنی لوگوں کا ناحق مال کھانے والوں میں انکا شمار ہوں گے ۔اور ایسے شخص کی مذمت کے بارے میں قرآنی آیات و احادیث مروی ہیں ۔قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے :وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌ ۔ترجمہ کنز الایمان :۔اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔( سورۃ الفجر آیت ١٧تا ٢٥)
احادیث میں کسی مسلمان کا حصہ ناحق غصب کرنے کی سخت وعیدیں آئی ہیں ۔بخاری شریف میں ہے:فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ۔ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکو سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا(بخاری،کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)
اسی میں ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ۔ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین ) کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔( بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلدجلد 3ص130)
جائیداد سے زبردستی بے دخل کرنا یا یہ قبول کروانا کہ اب میرا حصہ نہیں:
وراثت اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ حق ہے، جو کہ مورث (والد) کی وفات کے ساتھ ہی خود بخود تمام ورثاء کی ملکیت میں منتقل ہو جاتا ہے۔ کسی وارث کو اس کے شرعی حصے سے محروم کرنا، یا اس پر دباؤ ڈال کر، بددیانتی کر کے یا عدم رضا کی حالت میں اس سے یہ کہلوانا کہ "آئندہ تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے"، شرعاً باطل اور کالعدم ہے۔
فقہ کا معروف قاعدہ ہے: الرّضا شرطٌ فی تحلیلِ مالِ الغیر۔ ترجمہ: کسی دوسرے کے مال کو حلال کرنے کے لیے اس کی دلی رضامندی شرط ہے۔جیساکہ الدرر شرح غرر میں ہے: أن الرضا شرط في لزوم المال وسقوطه، والإكراه يعدم الرضاترجمہ: بے شک مال کے لازم ہونے اور ساقط ہونے میں رضامندی شرط ہے، اور اکراہ رضامندی کو ختم کر دیتا ہے۔(درر الحکام شرح غرر الاحکام، باب الفاظ الخلع، جلد 1 ص 390)
لہذا اگر کسی وارث (بہن) نے دباؤ، مجبوری، ناواقفیت یا بھائیوں کی بددیانتی کی وجہ سے زبردستی یہ بات تسلیم کی ہو، تو اس کا کوئی شرعی اعتبار نہیں۔ بہن کا اپنے والد اور والدہ کے ترکے میں شرعی حصہ بدستور قائم و دائم ہے۔
بھائیوں پر لازمی اور فرض ہے کہ وہ:
12 لاکھ روپے اور دیے گئے فلیٹ کی مالیت کو کل ترکے میں شامل کر کے حساب کریں۔
کل ترکے کی درست اور مکمل مالیت (بشمول تمام جائیدادیں، دکانیں، پلاٹس، نقد رقم اور سونا) ظاہر کریں۔
بہن کو اس کا پورا 14.28 فیصد (1/7 حصہ) مکمل ادا کریں۔
کسی کا حق زبردستی معاف کروانا نہ تو شرعاً معافی شمار ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے گناہ یا وراثت کی ذمہ داری ساقط ہوتی ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 ربیع الاول 1448ھ/ 18اگست 2026 ء