napak pani kya chemical ke zariye safai se pak ho jata hai
سوال
ٹوائلیٹ میں آنے والا پانی بنیادی طور پر کالا بدبودار پیشاب پاخانہ ملا ہوتا ہے ، پھر اسے فلٹرمشین میں کیمیکل سے صاف کرنے پر نہایت صاف اور بدبو وغیرہ ختم کردی جاتی ہے، تو کیا اس پانی سے وضو غسل اور استنجا ءہو سکتا ہے ؟ اور کیا یہ پانی پاک ہے ؟
سائل: عبد اللہ،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
حکم شرع سے قبل چند مقدمات کا سمجھنا لازم ہے۔
مقدمہ اولی:
اوّلا دو چیزیں ہیں: (۱) تجزیہ و ازالہ۔(۲) استحالہ و قلب ماہیت ۔
بنیادی طور پر تجزیہ و ازالہ اور استحالہ و قلب ماہیت دونوں جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں اور ان کا حکم بھی مختلف ہے:
تجزیہ و ازالہ یہ ہے کہ شے میں سے گندگی کے اجزاء الگ کرلیے جائیں، یہاں قلبِ ماہیت نہیں ہوتا بلکہ شے اپنی طبعی و فطری خوبی،بنیادی اوصاف اور نام کے ساتھ باقی رہتی ہے۔ بذات خود اس میں کوئی جوہر ی تبدیلی نہیں آتی جیسا کہ جانور کی کھال کی دباغت کہ اس میں قلب ماہیت نہیں بلکہ اس میں خون اور رطوبت کو زائل کیا جاتا ہے۔ جبکہ استحالہ و قلب ماہیت میں شےکی ذات میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اور وہ تبدیلی ایسی ہوتی ہے کہ جس سے اس کا نام تک بدل جاتا ہے،جیسا کہ پاخانہ کو جلا کر راکھ بنا دیا جائے،شراب سرکہ بن جائے،گدھا و خنزیر وغیرہ نمک کی کان میں گر کر نمک بن جائے،شراب پانی میں گر ےپھر وہ سب سرکہ بن جائے تو ان تمام صورتوں میں قلب ماہیت متحقق ہوتی ہے۔
استحالہ کی تعریف یہ ہے:" وَاسْتَحَالَ الشَّيْءُ تَغَيَّرَ عَنْ طَبْعِهِ وَوَصْفِهِ".ترجمہ:شے کی حالت تبدیل ہونا یہ ہے کہ شے طبیعت و وصف میں متغیر ہوجائے ۔(المصباح المنیر،1/157،المکتبۃ العلمیۃ)اور انقلاب کی تعریف یہ ہے: "تحول ماهيتها إلى ماهية أخرى".ترجمہ: کسی چیز کی حقیقت کا دوسری حقیقت میں بدل جانا۔(معجم لغۃ الفقہاء،1/94،دار النفائس)
معلوم ہوا کہ استحالہ و انقلاب یہ ہے کہ شے اپنی طبیعت و وصف میں ایک حقیقت سے دوسری حقیقت میں تبدیل ہوجائے۔
نیز انقلابِ ماہیت ممکن اور وقوع العمل بھی ہے، عقل و شرع نے اس کو تسلیم بھی کیا ۔ہم احناف کا مفتی بہ مذہب بھی یہی ہے کہ انقلابِ حقیقت اور تبدیل ِ ماہیت ممکن ہے، فقہ حنفی کے اکثر متون و شروحات میں اس کی صراحت موجود ہے، بنیادی طور پر یہ امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب ہے اور اکثر مشائخ اسی کے قائل ہیں۔
قلب ِماہیت کے ثبوت کے متعلق علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”وَالظَّاہِرُ أنَّ مَذْہَبَنَا ثُبُوْتُ اِنْقِلاَبِ الْحَقَائِقِ بِدَلیلٍ مَا ذَکَرُوْہُ فِي انْقِلاَبِ عَیْنِ النِّجَاسَةِ کَاِنْقِلاَبِ الْخَمْرِ خَلًّا وَالدَّمِ مِسْکاً وَنَحْوِ ذٰلِکَ․ ترجمہ: اور ظاہر یہ ہے کہ ہمارا مسلک انقلابِ ماہیات کے ثبوت کا ہے، اس دلیل کی وجہ سے جو فقہائے کرام نے عین نجاست کے بدلنے میں ذکر فرمائی ہے جیسے شراب کا سرکہ بن جانا اور (ہرن کے)خون کا مشک بن جانا اور اس جیسی دوسری چیزیں۔ (رد المحتار،1/46،دار الفکر)
امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جب نجاست متغیر ہوجائے اور اس کے اوصاف و معانی تبدیل ہوجائیں تو وہ نجاست باقی نہیں رہتی اس لیے کہ نجاست ایک خاص صفت والی چیز کا نام ہے جب وہ وصف ختم ہوگا تو نجاست کا نام بھی ختم ہو جائے گا۔نجاست متغیر ہونے سے مراد ایسا غیر معمولی تغیر جس کے نتیجے میں کوئی چیز اپنا نام یا اپنے ذاتی اوصاف کا بیشتر حصہ کھودے اور اس کی جگہ دوسرا نام یا دوسرے اوصاف کا غلبہ ہو جائے۔اسی پر اکثر فقہاء کرام کا اتفاق ہے اوریہی مفتی بہ ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:"وَجْهُ قَوْلِ مُحَمَّدٍ أَنَّ النَّجَاسَةَ لَمَّا اسْتَحَالَتْ، وَتَبَدَّلَتْ أَوْصَافُهَا وَمَعَانِيهَا خَرَجَتْ عَنْ كَوْنِهَا نَجَاسَةً؛ لِأَنَّهَا اسْمٌ لِذَاتٍ مَوْصُوفَةٍ، فَتَنْعَدِمُ بِانْعِدَامِ الْوَصْفِ، وَصَارَتْ كَالْخَمْرِ إذَا تَخَلَّلَتْ".ترجمہ:امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ جب نجاست میں استحالہ ہوجائے اور اس کے اوصاف و معانی تبدیل ہوجائیں تو وہ نجاست ہونے سے نکل جائے گی کیونکہ نجاست ایک خاص صفت والی چیز کا نام ہے جب وہ وصف ختم ہوگا تو نجاست کا نام بھی ختم ہو جائے گا اور یہ سرکہ بنی شراب کی طرح ہوگی۔(بدائع الصنائع،فصل بیان ما یقع بہ التطہیر،1/85،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
البحر الرائق میں ہے: "فَعَرَفْنَا أَنَّ اسْتِحَالَةَ الْعَيْنِ تَسْتَتْبِعُ زَوَالَ الْوَصْفِ الْمُرَتَّبِ عَلَيْهَا".ترجمہ:ہم نے جان لیا کہ عین شے کا استحالہ اس وصف کے ختم ہوجانے کے تابع ہے جو اس عین پر مرتب ہوتا ہے۔ (البحر الرائق،باب الانجاس،1/239،دار الکتاب الاسلامی)
ناپاک تیل صابون بنانے سے پاک ہوجاتا ہے،اسکے تحت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"ثم هذه المسألة قد فرعوها على قول محمد بالطهارة بانقلاب العين الذي عليه الفتوى واختاره أكثر المشايخ... ثم اعلم أن العلة عند محمد هي التغير وانقلاب الحقيقة وأنه يفتى به للبلوى كما علم مما مر، ومقتضاه عدم اختصاص ذلك الحكم بالصابون، فيدخل فيه كل ما كان فيه تغير وانقلاب حقيقة وكان فيه بلوى عامة".ترجمہ: پھر اس مسئلہ کو امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر عین چیز کی تبدیلی کے ساتھ طہارت پر متفرع فرمایا ہے۔ اس پر فتوی ہے اوراکثر مشائخ نے اس کو اختیار فرمایا۔ پھر جان لو کہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک علت تغیر اور حقیقت کا تبدیل ہونا ہے۔عموم بلوی کی وجہ سے اس پر فتویٰ دیا جاتا ہے جیسا کہ گزشتہ عبارت سے معلوم ہے اور اس کا مقتضا صابون کے ساتھ اس حکم کا خاص نہ ہونا ہے۔اس میں ہر وہ چیز داخل ہے جس میں تغیر اور حقیقت کا انقلاب ہو اور اس میں عموم بلوی ہو۔(رد المحتار،ج1،ص316،دار الفکر)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مفتی بہ قول کے مطابق استحالہ کی وجہ سے ہر قسم کی ناپاک چیز پاک ہو جاتی ہے، چاہے وہ نجس العین ہو جیسے خنزیر، پاخانہ، شراب وغیرہ، یا غیر نجس العین ہو، جیسے وہ پانی جس میں کچھ شراب گری، پھر وہ سب سرکہ بن گیا ، یا گدھا نمک کی کان میں گر کر نمک بن گیا تو پاک ہوگا۔نیز بدائع کی عبارت "لِأَنَّهَا اسْمٌ لِذَاتٍ مَوْصُوفَةٍ، فَتَنْعَدِمُ بِانْعِدَامِ الْوَصْفِ"سے معلوم ہوا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نذدیک استحالہ میں وصف کا اعتبار ہے۔ بالفاظ دیگر استحالہ وصف کے ختم ہوجانے کے تابع ہے ۔پھر علامہ شامی رحمہ اللہ کے قول کے مطابق اس حکم میں ہر وہ چیز داخل ہے جس میں تغیر اور حقیقت کا انقلاب ہو اور اس میں عموم بلوی ہو۔لہذا اس تفصیل کے مطابق سیورج کے پانی میں فلٹریشن کا عمل استحالہ کہلائے گا کہ تغیرِ وصف یہاں پایا جاتا ہے۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : "وقلب العین مغیرللحکم".ترجمہ: قلبِ ماہیت حکم کو بدل دیتی ہے۔ (جد الممتار علی رد المحتار،ج 2، ص240،مطبوعہ رضا اکیڈمی بمبئی)
ابو الخیر محمد نور اللہ نعیمی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:’’ہر شے قلب ماہیت کے بعد پاک ہوجاتی ہے كما قيل في حمار وقع في مملحة فصار ملحا وعذرة صارت ترابا وخمر تخلل‘‘. (فتاوی نوریہ،ج1،ص697،دار العلوم حنفیہ فریدیہ)
علامہ حصکفی رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں:"(و) يطهر (زيت) تنجس (بجعله صابونا) به يفتى للبلوى".ترجمہ:ناپاک تیل صابون بنانے سے پاک ہوجاتا ہے،عموم بلوی کی وجہ سے اسی پر فتوی دیا جاتا ہے۔(الدر المختار،ج1،ص316،دار الفکر)
الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "الْحِمَارُ أَوْ الْخِنْزِيرُ إذَا وَقَعَ فِي الْمَمْلَحَةِ فَصَارَ مِلْحًا أَوْ بِئْرِ الْبَالُوعَةِ إذَا صَارَ طِينًا يَطْهُرُ عِنْدَهُمَا خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ".ترجمہ:گدھا یا خنزیر جب نمک کی کان میں گرےاور نمک ہوگئے یا نجاست والا کنواں جب مٹی ہوگیا تو وہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک پاک ہوجائے گابرخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے۔ (الفتاوی الہندیۃ،الفصل الثانی فی اعیان النجسۃ،1/45،دار الفکر)
مقدمہ ثانیہ:
ثانیاً تجزیہ و ازالہ جن نجس اشیاء میں کیا جائے گا انکی دو قسمیں ہیں:
(۱)نجس العین۔ (۲)غیر نجس العین یا متنجس(یعنی جو بذات خود نجس نہ ہوں بلکہ نجس ہوجائیں)۔
اول صورت میں شے کا حکم نہیں بدلے گا یعنی وہ چیز پاک نہ ہوگی بلکہ نا پاک ہی رہے گی، کیونکہ یہاں نہ تو حقیقت و ماہیت بدلی اور نہ ہی تمام نا پاک اجزاء زائل ہوئے ، بعض اجزاء علیحدہ کر دینے کے بعد جو اجزا باقی ہیں وہ بھی نجاست ہی کے اجزاء ہیں ۔ صرف بد بو ختم ہوئی ہے،لہذا حکم میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی ، نا پاک چیز ناپاک ہی باقی رہے گی۔جیسا کہ خنزیر کا چمڑا کہ اگر دباغت کے ذریعہ اس سے ساری رطوبات زائل کر دی گئی تب بھی وہ چمڑا پاک نہ ہوگا ، کیونکہ خنزیر نجس العین ہے جس کی وجہ سے اس کے تمام اجزاء ناپاک ہیں، اس لئے بعض اجزاء ِنجس زائل ہونے کے بعد جو اجزاء یعنی رطوبات کے بغیر باقی رہے وہ بھی نجاست ہی ہیں، لہذا وہ چمڑا پاک نہ کہلائے گا جبکہ یہی چمڑ ا بلکہ پورا خنزیر اگر نمک کی کان میں گر کر نمک بن جائے تو پھر وہ پاک کہلائے گا۔
بدائع الصنائع میں ہے: "وَالصَّحِيحُ أَنَّ جِلْدَ الْخِنْزِيرِ لَا يَطْهُرُ بِالدِّبَاغِ؛ لِأَنَّ نَجَاسَتَهُ لَيْسَتْ لِمَا فِيهِ مِنْ الدَّمِ وَالرُّطُوبَةِ بَلْ هُوَ نَجِسُ الْعَيْنِ، فَكَانَ وُجُودُ الدِّبَاغِ فِي حَقِّهِ وَالْعَدَمُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ". ترجمہ:صحیح قول یہ ہے کہ خنزیر کی کھال دباغت سے پاک نہیں ہوتی کیونکہ اس کی نجاست خون اور رطوبت کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ بذات خود نجس ہے۔لہذا خنزیر کے حق میں دباغت کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ (بدائع الصنائع،فصل بیان ما یقع بہ التطہیر،1/86،دار الکتب العلمیۃ)
رد المحتار میں ہے:"(قوله فلا يطهر) أي؛ لأنه نجس العين، بمعنى أن ذاته بجميع أجزائه نجسة حيا وميتا، فليست نجاسته لما فيه من الدم كنجاسة غيره من الحيوانات، فلذا لم يقبل التطهير في ظاهر الرواية عن أصحابنا". ترجمہ:کیونکہ خنزیر نجس العین ہے یعنی خنزیر زندہ اور مردہ ہونے میں اپنے تمام اجزاء کے ساتھ ناپاک ہے۔پس دیگر جانوروں کی طرح اسکی نجاست خون کی وجہ سے نہیں،لہذا ہمارے اصحاب سے منقول ظاہر الروایۃ کے مطابق اسکی پاکی مقبول نہیں۔ (رد المحتار،باب المیاہ،1/204،دار الفکر)
البتہ دوسری صورت کہ تجزیہ وازا لہ ایسی چیز میں کیا جائے جو نجس العین نہیں ہے، بلکہ متنجس ہے، یعنی اس کی ذات اور تمام اجزاء تونجس نہیں،اصل شے پاک ہے مگر کسی ناپاکی کے اختلاط و امتزاج کی وجہ سے وہ نا پاک ہوئی ہے تو اس صورت میں جس بنیاد پر وہ چیز نا پاک ہوئی تھی اس بنیاد کومکمل طور پر ختم کر دینے سے وہ ناپاک چیز پاک ہو جائے گی ، کیونکہ اس شےکی ذات تو پاک تھی ، نا پاک نہ تھی ، اس کے تمام اجزاء نا پاک ہوں ایسا نہیں تھا، البتہ بعض اجزا ءنجاست لگنے کیوجہ سے وہ چیز نا پاک کہلائی تھی ، لہذا اگر ان نا پاک اجزاء کو زائل کر دیا جائے تو ناپاک ہونے کی بنیاد ختم ہو جائے گی، اور جو اجزا باقی رہیں وہ نجاست کے نہیں ہیں ، پس وہ چیز پاک کہلائے گی جیسا کہ خنزیر کے علاوہ مردار جانور کا چمڑانا پاک ہے کہ اس کے ساتھ خون اور نا پاک رطوبت لگی ہوتی ہے،لہذا اگر دباغت کے ذریعہ خون اور رطوبت کو زائل اور ختم کردیا جائے جس کی وجہ سے وہ ناپاک تھا تو چمڑا پاک ہو جائے گا کیونکہ جس بنیاد پر وہ نا پاک تھا اس کو ختم کر دیا گیا ۔اسی طرح جانور کو ذبح شرعی کر دیا جائے تو چمڑا پاک ہوتا ہے،اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ خون اور رطوبت جو نجس اجزاء ہیں وہ ذبح شرعی کی وجہ سے زائل ہو جاتے ہیں،اس طرح ناپاک ہونے کی بنیاد ختم ہوجاتی ہے تو چمڑا پاک کہلاتا ہے۔یونہی پیشاب پاخانہ ملاپانی جس میں اس نجاست کے علاوہ کوئی پاک یا غیرنجس العین شے موجود ہو تو یہ پانی بھی متنجس قرار پائے گا جس میں ناپاکی کی بنیاد زائل ہونے پر یہ پانی پاک شمار کیا جائے گا۔
بدائع الصنائع میں ہے: "نَجَاسَة الْمَيْتَاتِ لَيْسَتْ لِأَعْيَانِهَا بَلْ لِمَا فِيهَا مِنْ الدِّمَاءِ السَّائِلَةِ وَالرُّطُوبَاتِ النَّجِسَةِ". ترجمہ:مردار کی نجاست اپنی ذات کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ ان میں موجود بہتے خون اور نجس رطوبات کی وجہ سے ہوتی ہے۔(بدائع الصنائع،فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ،1/63،دار الکتب العلمیۃ)
اسی میں ہے: "لِأَنَّ نَجَاسَةَ الْمَيْتَاتِ لِمَا فِيهَا مِنْ الرُّطُوبَاتِ وَالدِّمَاءِ السَّائِلَةِ وَأَنَّهَا تَزُولُ بِالدِّبَاغِ فَتَطْهُرُ كَالثَّوْبِ النَّجِسِ إذَا غُسِلَ". ترجمہ: کیونکہ مردار کی نجاست بہتے خون اور نجس رطوبات کی وجہ سے ہوتی ہے اور یہ نجاست دباغت سے زائل ہوجاتی ہے پس جیسے نجس کپڑا جب دھو لیا جائے وہ پاک ہوجاتاہے اسی طرح ان حیوانات کی کھال بھی پاک ہوجاتی ہے۔ (بدائع الصنائع، فصل بیان ما یقع بہ التطہیر ،1/85،دار الکتب العلمیۃ)
بدائع الصنائع میں ہے: "الذَّكَاةَ تُشَارِكُ الدِّبَاغَ فِي إزَالَةِ الدِّمَاءِ السَّائِلَةِ، وَالرُّطُوبَاتِ النَّجِسَةِ، فَتُشَارِكُهُ فِي إفَادَةِ الطَّهَارَةِ ". ترجمہ:بہتے خون اور نجس رطوبات کو زائل کرنے میں ذبح شرعی دباغت کے برابر ہے لہذا طہارت کے افادہ میں بھی برابر ہے۔ (بدائع الصنائع، فصل بیان ما یقع بہ التطہیر،1/86،دار الکتب العلمیۃ)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ تجزیہ وازالہ کی وجہ سے نجس العین اشیاء پاک نہیں ہونگی۔جیسے خنزیر کا چمڑ ادباغت کی وجہ سے اور محض پیشاب کہ یہ فلٹر کرنے کی وجہ سے پاک نہ ہوں گے، البتہ غیر نجس العین اشیاء جیسے خنزیر کے علاوہ مردار جانور کا چمڑا دباغت کی وجہ سے اور پیشاب و پاخانہ ملاپانی جس میں اس نجاست کے علاوہ کوئی پاک یا غیرنجس العین شے موجود ہوفلٹر یشن کے ذریعے پاک شمار ہوگا کہ تجز یہ و ازالہ پایا گیا بشرطیکہ نا پاک ہونے کی بنیا د یعنی اوصاف مکمل طور پر متغیر ہو جائیں۔
مقدمہ ثالثہ:
ثالثًا ناپاک پانی کو فلٹریشن سے قابل استعمال اور صاف بنایا جائے تو مذکورہ بالا صورتوں میں سے کس صورت میں اس کا شمار ہوگا؟ اور اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟صورت مسؤولہ میں فلٹریشن کا عمل دو وجہ سے سیورج کے پانی کو پاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے نتیجے میں اس پانی سے طہارت بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ (۱) تجزیہ و ازالہ ۔ (۲) قلب ماہیت۔
1.بعض فقہاء کرام کے نزدیک قلب ماہیت یہ ہے کہ شے اپنی سابقہ حقیقت سے کلیۃً نکل کر نئی ماہیت میں داخل ہو۔لہذا ان حضرات کے نزدیک سیورج کے پانی میں فلٹریشن کو استحالہ نہیں کہا جائے گاکہ اس سے پانی کی حقیقت و ماہیت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، البتہ اسے تجزیہ وازالہ کہا جاسکتا ہے، لہذا ایسا ناپاک پانی جو غیر نجس العین اشیاء میں سے ہو، اور غیر نجس العین اشیاء میں تجزیہ وازالہ کا حکم جیسا کہ مقدمہ ثانیہ میں گزرا کہ اگر ناپاک ہونے کی بنیا د کو مکمل طور پر زائل اور ختم کر دیا جائے تو غیر نجس العین اشیاء تجزیہ وازالہ کی وجہ سے پاک ہو جاتی ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ پیشاب و پاخانہ ملاپانی جس میں اس نجاست کے علاوہ کوئی پاک یا غیرنجس العین شے موجود ہو تو یہ پانی بھی متنجس قرار پائے گا جس میں ناپاکی کی بنیاد زائل ہونے پر یہ پانی پاک شمار کیا جائے گا۔اسکے دلائل مقدمہ ثانیہ میں گزرے۔
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ کے نزدیک شے کا اپنی سابقہ حقیقت سے کلیۃً نکل کر نئی ماہیت میں داخل ہونا قلب وانقلاب ہے چنانچہ آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "قلت: لكن قد يقال: إن الدبس ليس فيه انقلاب حقيقة؛ لأنه عصير جمد بالطبخ؛ وكذا السمسم إذا درس واختلط دهنه بأجزائه ففيه تغير وصف فقط؛ كلبن صار جبنا، وبر صار طحينا، وطحين صار خبزا؛ بخلاف نحو خمر صار خلا وحمار وقع في مملحة فصار ملحا، وكذا دردي خمر صار طرطيرا وعذرة صارت رمادا أو حمأة، فإن ذلك كله انقلاب حقيقة إلى حقيقة أخرى لا مجرد انقلاب وصف".ترجمہ: میں کہتا ہوں لیکن کہا جاتا ہے کہ گاڑھے شیرے میں حقیقۃً انقلاب نہیں کیونکہ وہ شیرہ پکانے کی وجہ سے جامد ہو گیا ہے۔اسی طرح تل جب انہیں پیسا جائے اور اس کا تیل اس کے اجزاء کے ساتھ مل جائے تو اس میں صرف وصف کا تغیر ہے جیسے دودھ پنیر بن جائے اور گندم پیس جانے کے بعد آٹا بن جائے اور آٹا روٹی بن جائے بخلاف شراب کے کہ وہ سرکہ بن جائے اور گدھا نمک کی کان میں گرے اور نمک بن جائے۔اس طرح شراب کا گدلا حصہ طرطیر بن جائے یعنی خشک ہونے کے بعد انتہائی گاڑھا ہو جائے اور غلاظت راکھ بن جائے یا کالی مٹی بن جائے یہ تمام صورتیں ایک حقیقت سے دوسری حقیقت کی طرف بدلنا ہے۔صرف وصف کا بدلنا نہیں۔(رد المحتار،1/316،دار الفکر)
2.امام محمد رحمہ اللہ کے مؤقف کے مطابق (جس پر اکثر فقہاء کرام کا اتفاق ہے اوریہی مفتی بہ ہے) جب نجاست متغیر ہوجائے اور اس کے اوصاف و معانی ایسے تبدیل ہوجائیں کہ شے اپنا نام یا اپنے ذاتی اوصاف کا بیشتر حصہ کھودے اور اس کی جگہ دوسرا نام یا دوسرے اوصاف کا غلبہ ہو جائے تو وہ نجاست باقی نہیں رہتی اس لیے کہ نجاست ایک خاص صفت والی چیز کا نام ہے جب وہ وصف ختم ہوگا تو نجاست کا نام بھی ختم ہو جائے گا یعنی آپ رحمہ اللہ کے نزدیک عین کا بدلنا اس وصف کے ختم ہوجانے کے تابع ہے جو اس عین پر مرتب ہوتا ہے۔مفتی بہ قول کے مطابق استحالہ کی وجہ سے ہر قسم کی ناپاک چیز پاک ہو جاتی ہے، چاہے وہ نجس العین ہویا غیر نجس العین ہو۔
مقدمہ رابعہ:
رابعاً فلٹریشن سے پاک کئے گئے پانی کی پھر دو اقسام ہیں:
(۱)جاری وکثیر ناپاک پانی کو فلٹریشن سے پاک کرنے کا طریقہ۔(۲)قلیل ٹھہرے ناپاک پانی کو فلٹریشن سے پاک کرنے کا طریقہ۔
اول صورت تو کتب فقہ میں مصرح ہے کہ جاری پانی کے ناپاک ہونے کی بنیاد اور وجہ ِنجاست کا صرف وقوع اور اس کا اختلاط و امتزاج نہیں ہے، بلکہ اس کی بنیاد یہ ہے کہ پانی میں نجاست گرنے سے تغییر آ جائے ، نجاست کا اثر وصف یعنی رنگ، بو اور مزہ ظاہر ہو جائے ۔پس اگر کیمیاوی عمل سے جاری وکثیر نا پاک پانی کے ناپاک ہونے کی بنیاد ز ائل اور ختم ہو جائے یعنی اس کا تغیر زائل ہو جائے، نجاست کے اجزاء اس طرح نکل جائیں کہ اس کا کوئی اثر ووصف پانی میں باقی نہ رہے، بد بو دور ہو جائے تو ظاہر ہے کہ وہ نا پاک پانی پاک ہو جائے گا۔ کیونکہ جس بنیاد پر وہ ناپاک ہوا تھا وہ بنیادختم ہوگئی، اور پہلے وضاحت کی جا چکی ہے کہ غیر نجس العین اشیاء تجزیہ و ازالہ کی وجہ سے ناپاک ہونے کی بنیاد ختم ہو جانے پر پاک ہو جاتی ہیں، بلکہ اس قسم کے پانی کے متعلق تو فقہاء نے صراحت بھی کی ہے کہ تغیر اوصاف کی بنا پر نا پاک ہونے والا جا ری پانی اس وقت پاک ہو جاتا ہے جبکہ اس پانی پر دوسرا پاک پانی بہا کر اس کے تغیر کوزائل کر دیا جائے۔
الفتاوی الہندیۃ میں ہے:" وَالْفَتْوَى فِي الْمَاءِ الْجَارِي أَنَّهُ لَا يَتَنَجَّسُ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ أَوْ لَوْنُهُ أَوْ رِيحُهُ مِنْ النَّجَاسَةِ ". ترجمہ:بہتے پانی کے متعلق فتوی یہ ہے کہ جب تک اس کا رنگ،یا بو یا ذائقہ نجاست سے متغیر نہ ہویہ پانی ناپاک نہیں ہوگا۔ (الفتاوی الہندیۃ،الفصل الاول فیما یجوز بہ التوضؤ،1/17،دار الفکر)
ٹھہرے ہوئے کثیر پانی کے متعلق المحیط البرہانی میں ہے: "الْمَاءُ الرَّاكِدُ إذَا كَانَ كَثِيرًا فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْجَارِي لَا يَتَنَجَّسُ جَمِيعُهُ بِوُقُوعِ النَّجَاسَةِ فِي طَرَفٍ مِنْهُ إلَّا أَنْ يَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ أَوْ طَعْمُهُ أَوْ رِيحُهُ وَعَلَى هَذَا اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ وَبِهِ أَخَذَ عَامَّةُ الْمَشَايِخِ". ترجمہ: ٹھہرا ہوا کثیر پانی جاری پانی کے حکم میں ہے کہ اس میں کسی ایک جانب نجاست گرنے سے کل پانی نجس نہیں ہوتا الاّ یہ کہ اس کا رنگ،یا بو یا ذائقہ متغیرہو جائے۔اسی پر علماء کرام کا اتفاق ہے اور اسی قول کو اکثر مشائخ نے اخذ فرمایا۔ (المحیط البرہانی،الفصل الرابع فی المیاہ التی یجوز بہ التوضؤ بھا،1/92،دار الکتب العلمیۃ)
المحیط البرہانی میں ہے: "ويجوز التوضؤ بالماء الجاري، ولا يحكم بتنجسه لوقوع النجاسة فيه ما لم يتغير طعمه أو لونه أو ريحه، وبعدما تغير أحد هذه الأوصاف وحكم بنجاسته لا يحكم بطهارته ما لم يزل ذلك التغير بأن يزاد عليه ماء طاهر حتى نزيل ذلك التغير، وهذا لأن إزالة عين النجاسة عن الماء غير ممكن فيقام زوال ذلك التغير الذي حكم بالنجاسة لأجله مقام زوال عين النجاسة".ترجمہ:ماء جاری سے وضو جائز ہے اور اس میں نجاست گرنے سے پانی کی ناپاکی کا حکم نہیں لگتا جب تک کہ اس کا رنگ،یا بو یا ذائقہ متغیر نہ ہواور ان اوصاف میں سے کسی ایک کے متغیر ہونے اور اس پر نجاست کا حکم لگنے کے بعد اس کی پاکی کا حکم اس وقت تک نہیں دیاجائے گا جب تک کہ یہ تغیر زائل نہ ہوجائے اس طور پر کہ اس پر پاک پانی کا اضافہ کیا جائے حتی کہ یہ تغیر زائل ہوجائے۔اسکی وجہ یہ ہے کہ پانی سے عینِ نجاست کو زائل کرنا ممکن نہیں لہذا اس تغیر جس پر ناپاکی وجہ سے نجاست کا حکم عائد ہوچکا تھا کے زوال کو عینِ نجاست کے زوال پر قائم مقام کیا جائے گا۔(المحیط البرہانی،الفصل الرابع فی المیاہ التی یجوز بہ التوضؤ بھا،1/90،دار الکتب العلمیۃ،الفتاوی الہندیۃ،الفصل الاول فیما یجوز بہ التوضؤ،1/18،دار الفکر)
حاصل یہ ہے کہ جاری وکثیر پانی جو گندہ اور نا پاک ہو گیا ہو اگر کیمیاوی عمل کے ذریعہ اس کے تغیر اور اوصاف نجاست کو زائل کر دیا جائے تو وہ پانی پاک اور قابل استعمال بن جائے گا، اس سے وضو غسل کرنا، طہارت حاصل کرنا جائز اور درست ہوگا۔ تا ہم چونکہ اس طرح تغیر زائل ہو جانے اور اوصافِ نجاست رنگ، بو اور مزہ ختم ہو جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نجاست کے تمام ہی اجزاء مکمل طور پر ختم ہو جاتے ہوں ناپاکی اور گندگی کا کوئی جزء اس میں باقی نہ رہتا ہو، سارے ہی نقصان دہ جراثیم دور ہو جاتے ہوں، اس لئے مناسب اور بہتر یہ ہے کہ مجبوری کے بغیر اس پانی کو کھانے، پینے کے استعمال میں نہ لایا جائے ۔
البتہ دوسری صورت کہ نا پاک پانی جاری وکثیر نہ ہو بلکہ قلیل راکد (ٹھہراپانی) ہوتو اس کے ناپاک ہونے کی بنیاد تغیر اور اوصاف نجاست کا ظہور نہیں ہے بلکہ اس کی بنیا دپانی میں نجاست کا صرف وقوع اور پانی سے اس کا صرف اختلاط و امتزاج ہے، چاہے تغیر ہو یا تغیر نہ ہو۔ایسا ناپاک پانی اس وقت پاک ہوگا جبکہ اس کے نا پاک ہونے کی مذکورہ بالا بنیاد مکمل طور پر ختم ہو جائے صرف تغیر کو زائل کر دینا کافی نہ ہوگا۔ کیمیاوی عمل کے ذریعے تغیر کو تو پورے طور پر زائل کیا جاسکتا ہے، مگر نجاست کا اختلاط و امتزاج مکمل طور پر زائل ہو جائے ایسا نہیں ہوسکتا، پانی کی رقت و لطافت کی وجہ سے نجاست اس میں اس طرح سرایت اور حلول کئے ہوئے ہوتی ہے کہ نجاست کے تمام ہی اجزاء کا پانی سے ازالہ بظاہر مشکل بلکہ ناممکن ہے، کوئی نہ کوئی جزء تو ضرور اس میں باقی رہ جائے گا۔لہذا جس طرح معمولی نجاست کے وقوع سے قلیل را کد پانی پاک نہیں رہتا، ناپاک کہلاتا ہے، اسی طرح معمولی نجاست باقی رہنے سے بھی قلیل را کد پانی ناپاک رہے گا، پاک نہیں کہلائے گا، کیونکہ ناپاک ہونے کی بنیا دختم نہیں ہوئی ہے۔اس کی بہت سی نظیریں کتب فقہ میں ملتی ہیں کہ ناپاکی کا جزء باقی رہنے سے چیز ناپاک ہی باقی رہتی ہے، پاک نہیں ہوتی۔جیسا کہ فقہاء کرام سے منقول ہے کہ شراب میں چوہا گر کر پھٹ گیا، اسے نکال دیا گیا ، پھر شراب سرکہ بن گیا تو وہ سرکہ پاک نہ ہوگا ، وجہ ظاہر ہے کہ چوہے کے پھٹنے کی وجہ سے نجاست کے اجزاء پھیل کر شراب میں سرایت کر گئے، پھر شراب کے سرکہ بن جانے کےبا وجود وہ اجزاء اس میں باقی رہے، چاہے ہمیں محسوس نہ ہو، اس لئے وہ پاک نہ ہوگا۔پس جب شراب جس میں اجزاء ِنجاست سرایت کر گئے وہ استحالہ کے باوجود پاک نہ ہوئی تو پانی جو شراب سے زیادہ رقیق اور لطیف ہے اس میں اجزاءِ نجاست سرایت کرنے سے تجزیہ و ازالہ سے کیوں کر پاک ہوگا؟اسی طرح جس شراب میں پیشاب یا کتے کا لعاب ہو وہ سرکہ بن جانے کے باوجود پاک نہ ہوگا۔وجہ وہی جو ابھی گزری۔غرض یہ کہ قلیل را کد نا پاک پانی کیمیاوی عمل سے پاک نہیں ہوگا، کیونکہ ناپاک ہونے کی بنیا دز ائل نہیں ہوتی۔ کنواں پاک کرنے کے لئے پانی نکالنے کی جو مقدار ذکر کی گئی ہیں ان کا تعلق عقل و قیاس سے نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد اتباع ِآثار وروایات ہے جو غیر مدرک بالقیاس ہیں۔پس فلٹریشن مقررہ مقادیر کے قائم مقام نہ ہوگا اس لئے ناپاک کنویں کا پانی اس فلٹریشن سے پاک نہ ہوگا۔
المحیط البرہانی میں ہے:"وإذا كان قليلاً فهو بمنزلة الحباب والأواني يتنجس بوقوع النجاسة فيه وإن لم تتغير إحدى أوصافه".ترجمہ:قلیل پانی جھاگ اور نجس برتنوں کی مرتبہ میں ہے لہذا اس پانی میں نجاست گرنے سے پانی ناپاک ہوجائے گا اگرچہ کوئی ایک صفت بھی متغیر نہ ہو۔ (المحیط البرہانی،الفصل الرابع فی المیاہ التی یجوز بہ التوضؤ بھا،1/92،دار الکتب العلمیۃ)
مراقی الفلاح میں ہے: "قليل النجاسة ينجس قليل الماء وإن لم يظهر أثره فيه". ترجمہ:نجاستِ قلیل قلیل پانی کو ناپاک کردیتی ہے اگرچہ اس میں کوئی اثر ظاہر نہ ہو۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح،فصل فی مسائل الآبار ،1/20،المکتبۃ العصریۃ)
الفتاوی الہندیۃ میں ہے: " فَأْرَةٌ وَقَعَتْ فِي الْخَمْرِ ثُمَّ اُسْتُخْرِجَتْ قَبْلَ التَّفَتُّتِ ثُمَّ صَارَتْ خَلًّا لَا بَأْسَ بِأَكْلِهِ وَإِنْ تَفَسَّخَتْ فِي الْخَمْرِ ثُمَّ اُسْتُخْرِجْت ثُمَّ صَارَ الْخَمرُ خَلًّا لَا يَحِلُّ أَكْلُهُ". ترجمہ: شراب میں چوہا گرا پھر اسے پھٹنے سے پہلے نکال لیاگیا اور سرکہ بن گیا تو اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں اور اگر چوہا شراب میں پھٹ جائے اور اسے نکال لیا گیا پھر شراب سرکہ بن گئی تو اسے کھانا حلال نہیں۔ (الفتاوی الہندیۃ،الفصل الثانی فی اعیان النجسۃ،1/45،دار الفکر)
رد المحتار میں ہے: "لأنه ينفصل منها أجزاء بسبب الانتفاخ، وانقلاب الخمر خلا لا يوجب انقلاب الأجزاء النجسة طاهرة اهـ ح. قال في الخانية: وكذا الكلب إذا وقع في عصير ثم تخمر ثم تخلل لا يحل أكله؛ لأن لعاب الكلب أقام فيه وأنه لا يصير خلا. (قوله: وإلا لا) أي: لا يتنجس الخل لعدم بقاء شيء بعد التخلل، والفأرة وإن كانت نجسة قبل التخلل مثل الخمر، لكن النجس لا يؤثر في مثله. فإذا ألقيت ثم تخلل الخمر طهر بانقلاب العين، بخلاف ما إذا وقعت في بئر فإنها تنجسه لملاقاتها الماء الطاهر فتؤثر فيه ويجب النزح وإن لم تتفسخ. ولا يرد ما إذا تفسخت في الخمر، لما علمت من أن ذلك الأثر بعد التخلل لا ينقلب خلا فيؤثر في طهارة الخل فافهم".ترجمہ:کیونکہ اس کے پھٹنے کے سبب اس سے اجزاء جدا ہو گئے اور شراب کاسرکہ بن جانا نجس اجزاء کو طہارت میں بدلنے کا موجب نہیں،حلبی۔الخانیہ میں فرمایا : اسی طرح جب کتا شیرے میں واقع ہو اور وہ شیرہ شراب بن جائے پھر سر کہ بن جائے تو اس کا کھانا حال نہیں،کیونکہ کتے کا لعاب اس میں قائم ہے اور وہ سرکہ نہیں بنا ہے۔ یعنی سرکہ نا پاک نہ ہوگا کیونکہ سرکہ بننے کے بعد کوئی چیز باقی نہیں اور چوہا اگر چہ سرکہ بننے سے پہلے شراب کی طرح نجس تھا لیکن نجس اپنی مثل میں اثر نہیں کرتا۔ پس جب اس چوہے کو پھینک دیا گیا پھر وہ سرکہ بن گیا تو عین کے بدلنے کے ساتھ پاک ہو گیا بخلاف جب کنوئیں میں چوہا گر جائے، کیونکہ وہ پاک پانی کے ساتھ ملنے کے ساتھ ہی اسے نا پاک کر دے گا۔لہذا وہ اس میں مؤثر ہوگا اور پانی نکالنا واجب ہے اگر چہ پھولا پھٹا نہ ہو۔اور اعتراض وارد نہیں ہوتا جب چوہا شراب میں پھٹ جائے ، کیونکہ تو نے جان لیا کہ سرکہ ہوجانے کے بعد یہ اثر سرکہ نہیں بنے گا پس سرکہ کی طہارت میں موثر ہوگا۔فافہم۔ (رد المحتار،باب الانجاس،1/347،دار الفکر)
الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "وَكَذَا الْكَلْبُ إذَا وَلَغَ فِي عَصِيرٍ ثُمَّ تَخَمَّرَ ثُمَّ تَخَلَّلَ لَا يَحِلُّ أَكْلُهُ؛ لِأَنَّ لُعَابَ الْكَلْبِ قَائِمٌ فِيهِ وَإِنَّهُ لَا يَصِيرُ خَلًّا. كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ وَكَذَا إذَا وَقَعَ الْبَوْلُ فِي الْخَمْرِ ثُمَّ تَخَلَّلَ. هَكَذَا فِي الْخُلَاصَةِ". ترجمہ:کتا جب شیرے میں گرجائے اور وہ شیرہ شراب بن جائے پھر شراب سر کہ بن جائے تو اسکا کھانا حلال نہیں کیونکہ کتے کا لعاب اس میں موجود ہے جو کہ سرکہ میں تبدیل نہیں ہوا۔اسی طرح فتاوی قاضی خان میں ہے اور یونہی جب شراب میں پیشاپ واقع ہوا پھر سرکہ بن گیا (اس صورت میں اس کا کھانا حلال نہیں) ایسا ہی خلاصۃ الفتاوی میں ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ،الفصل الثانی فی اعیان النجسۃ،1/45،دار الفکر)
قلیل راکد ناپاک پانی کو پاک کرنے کی چند صورتیں ہیں:
(۱) ایسے پاک جاری یا کثیر پانی میں اس کو ڈال دیا جائے جس میں اس کی نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو۔
(۲) پاک پانی اس کے ساتھ ملا کر اسے جاری کر دیا جائے ، بشرطیکہ اس میں نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو۔
(۳) ناپاک کثیر و جاری پانی میں ڈال کر اس کثیر و جاری پانی میں فلٹریشن کیا جائے۔
المحیط البرہانی میں ہے:"لأن الماء النجس يطهر بالاختلاط بالماء الطاهر، ألا ترى أن الماء الراكد في النهر إذا تنجس فنزل من أعلاه ماء طاهر وأجراه وسيّله فلا يطهر، وإنما يطهر باختلاط بالماء الطاهر، وبورود الماء الطاهر عليه". ترجمہ:کیونکہ ناپاک پانی ماء طاہر سے ملنے پر پاک ہوجاتا ہے،کیا غور نہیں کرتے کہ نہر میں ٹھہرا ہوا پانی جب ناپاک ہوجائے پھر اسکے اوپر سے پاک پانی اترے اور اسے جاری اور بہتا ہوا کردے تو یہ پانی پاک نہیں ہوگا بلکہ پاک پانی کے ملنے اور اس پر وارد ہونے سے یہ پاک ہوگا۔ (المحیط البرہانی،الفصل الرابع فی المیاہ التی یجوز بہ التوضؤ بھا،1/94،دار الکتب العلمیۃ)
رد المحتار میں ہے:"(قوله: بمجرد جريانه) أي بأن يدخل من جانب ويخرج من آخر حال دخوله وإن قل الخارج ... (قوله: وكذا البئر وحوض الحمام) أي يطهران من النجاسة بمجرد الجريان... وبقي شيء آخر سئلت عنه، وهو أن دلوا تنجس فأفرغ فيه رجل ماء حتى امتلأ وسال من جوانبه هل يطهر بمجرد ذلك أم لا؟ والذي يظهر لي الطهارة، أخذا مما ذكرناه هنا ومما مر من أنه لا يشترط أن يكون الجريان بمدد، وما يقال إنه لا يعد في العرف جاريا ممنوع". ترجمہ: (محض جاری ہونے کی وجہ سے ناپاک شے پاک ہوگی) اس طور پر کہ پانی ایک طرف سے داخل ہونے کی حالت میں دوسری طرف سے نکل جائے اگرچہ نکلنے والا پانی کم بھی ہو۔(اسی طرح کنویں اور حوض کا حکم ہے) یعنی صرف جریان کے ساتھ ہی یہ دونوں نجاست سے پاک ہوں گے۔ایک چیز باقی ہے جس کے متعلق مجھ سے پوچھا گیا کہ ڈول ناپاک تھا ایک شخص نے اس میں پانی انڈیلا حتی کہ وہ بھر گیااور اطراف سے پانی بہنے لگا کیا صرف اس عمل سے وہ پاک ہوجائے گا یا نہیں؟میرے نزدیک وہ پاک ہے،اسکے دلائل وہی ہیں جو ہم نے ذکر کئے ہیں اور جو پہلے گزر چکے ہیں کہ شرط نہیں ہے کہ جریان مدد سے ہواور جو یہ کہا جاتا ہے کہ عرف میں وہ جاری شمار نہیں کیا جاتا تو یہ ممنوع ہے۔ (رد المحتار،باب المیاہ،1/196،دار الفکر)
خلاصہ کلام:
(۱) سیورج کے پانی میں چاہے نجاست نجس العین ہو یا غیر نجس العین اگر یہ پانی کثیر و جاری ہواور کیمیاوی عمل کے ذریعہ نجاست دور کر کے اس طرح صفائی کر دی جائے کہ نجاست کے اوصاف و اثرات زائل ہو جائیں تو وہ پانی پاک اور قابل استعمال بن جائے گا، اس سے وضو و غسل وغیرہ اور ہر طرح کی طہارت حاصل کرنا جائز اور درست ہو گا۔البتہ بہتر اور مناسب یہ ہے کہ مجبوری نہ ہو تو کھانے پینے کے استعمال میں اس کو نہ لایا جائے ۔
(۲) سیورج کے قلیل را کد پانی میں نجاست نجس العین ہو یا غیر نجس العین استحالہ و قلب ماہیت کے ذریعے یہ پانی پاک نہیں ہوگا نہ ہی طہارت میں استعمال کیا جاسکے گا البتہ تجزیہ و ازالہ جو غیر نجس العین اشیاء میں مؤثر ہوتا ہے اور سیورج کا پانی مطلقاً نجس العین نہیں ہوتا لہذا اس غیر نجس العین پانی میں فلٹریشن(متفق علیہ تجزیہ و ازالہ) کا عمل پانی کو طاہر و مطہر کردے گا کہ اس میں طہارت حاصل کی جاسکتی ہے۔رہی نجس العین اشیاء تو ان کی پاکی مختلف صورتیں گزری جن کی اصل اس قلیل راکد پانی کو جاری اور بہتا ہوا کرنا ہے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:10 رجب المرجب 1444 ھ/2 فروری 2023ء