مسئلہ وراثت مناسخہ تین بطن

    masla warasat manasikha teen batn

    تاریخ: 28 اپریل، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1240

    سوال

    ایک شخص (طارق انصاری ) کا انتقال ہوا، انتقال کے وقت اسکی بیوی(نصرت) اور 3 بہنیں (رخسانہ، سیما، ریحانہ) حیات تھیں ، جبکہ وہ لاولد تھے۔ بعد ازاں ایک بہن (رخسانہ) کا انتقال ہوا ، اسکے ورثاء میں شوہر(ھارون) اور ایک بیٹی (ناہید فاطمہ) ہے ، بعد ازاں اسکی بیوی (نصرت)کا انتقال ہوگیا ، اسکے ورثاء میں 4 بہنیں (پروین، نسیم، شاہین،ناہید) اور دو بھائی (شکیل، وکیل) ہیں۔ والدین پہلے انتقال کرچکے۔ انکی وراثت میں ایک فلیٹ، ایک پلاٹ اور دو بینک اکاؤنٹس ہیں جن میں رقم موجود ہے۔شرعی اعتبار سے مذکورہ جائیداد اور رقم میں ہمارا اور ہماری بھانجی کا کتنا حصہ بنتا ہے؟ یاد رہے کہ پلاٹ مذکورہ شخص اور انکے سالے نے نصف نصف قیمت پر خریدا تھا۔

    سائلہ: سیما اعجاز : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)

    وراثت کی تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ سب سے پہلے پلاٹ کی قیمت کا نصف مذکورہ شخص کے سالے کو دیا جائے گا جس نے انکی شراکت میں پلاٹ خریدا۔ بعد ازاں کل جائیداد(فلیٹ، نصف پلاٹ اور رقم) کو 32 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔

    ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے:

    ٹوٹل حصے: 32

    سیما:9، ریحانہ:9 ، ہارون:2 ، ناہیدفاطمہ:4 ، پروین:1 ، نسیم:1 ، شاہین:1 ، ناہید:1، شکیل:2 ، وکیل:2

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے :قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)

    بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    فائدہ : رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جائیداد کی مارکیٹ ویلیو لگوا کر اور رقم ملا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 32پرتقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:02 محرم الحرام ا1444 ھ/01 اگست 2022 ء