سوال
زید و بکر کے درمیان ایک دکان واقع گل پلازہ میں 2 کروڑ میں خرید و فروخت کا معاملہ طے پایا، زید نے بکر کو 1 کروڑ روپے ادا بھی کر دیے تھے، بقیہ رقم کیلئے 3 ماہ کا وقت باہمی طور پر طے پایا۔ابھی ڈیڑھ ماہ ہی گزرا تھا، بکر نے زید کو قبضہ نہیں دیا تھا کہ اسی اثناء میں گل پلازہ میں آتشزدگی کا واقعہ رونما ہوا جس کے سبب تمام دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں۔معلوم یہ کرنا ہے کہ اس خرید و فروخت کو شرعی طور پر کیا سمجھا جائے گا، نیز اس میں نقصان کس کا ہو گا، زید کا یا بکر کا؟
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک دکان زید نے بکر سے کرایہ پر لی، جس کا ایڈ اوانس 5 لاکھ روپے زید نے بکر کو دے رکھا تھا، اور زید نے دکان میں مال بھی ڈلوا لیا تھا، سانحہ گل پلازہ کی وجہ سے وہ مال اور دکان دونوں جل گئی، اس صورت میں دی گئی ایڈا وانس کی رقم بکر زید کو لوٹائے گا یا نہیں ۔
سائل: عبد الوہاب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مفتی کا کام پوچھی گئی صورت کا جواب دینا ہے، معاملہ کی جانچ پڑتال کرنا اس کے ذمہ نہیں۔
(۱) اگر فروخت شدہ مال (دکان) قبضہ سے پہلے کسی آفت یا حادثہ سے ہلاک ہو جائے تو اس کا نقصان بائع پر ہے، نہ کہ مشتری پر۔ کیونکہ جب تک مشتری کو مال کا قبضہ نہ ملے، اس پر ضمان (ذمہ داری) عائد نہیں ہوتا۔لہذا زید (مشتری) نے جو رقم (ایک کروڑ) ادا کی ہے، وہ بکر (مالک) پر واجب الادا ہے، یعنی بکر کو وہ رقم واپس کرنا ہو گی، کیونکہ قبضہ سے پہلے مبیع (دکان) کے ہلاک ہونے کے سبب بیع فسخ ہوچکی۔
(۲) اگر ایڈوانس کی رقم بطور سیکیورٹی دی گئی تھی، جیسا کہ عام طور پر کرایہ داری کے معاملات میں جو ایڈوانس کی رقم بطور سیکیورٹی دی جاتی ہے یہ رقم مالک کے پاس مِن وجہ قرض اور مِن وجہ رہن ہوتی ہے، پس جب کرایہ کا معاہدہ ختم ہوتا ہے تو مالک پر لازم ہوتا ہے کہ وہ یہ رقم واپس کرے، بشرطیکہ کرایہ دار پر کوئی بقایا کرایہ یا نقصان وغیرہ نہ ہو۔لہذا پوچھی گئی صورت میں ایڈا وانس کی رقم زید کو لوٹانا بکر پر لازم ہے۔
سیکیورٹی ڈپازٹ کے مِن وجہ قرض اور مِن وجہ رہن کی تفصیل اس فتوی میں ملاحظہ کریں:
https://daruliftasaylani.com/fatwas/kiraye-ke-makan-ke-liye-deposit-rakhi-gayi-raqam-par-zakat-ka-hukm
دلائل و جزئیات:
بیع میں قبضے سے پہلے مبیع (سودا) ہلاک ہونے سے متعلق علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں: "فإن هلك كله قبل القبض بآفة سماوية انفسخ البيع؛ لأنه لو بقي أوجب مطالبة المشتري بالثمن، وإذا طالبه بالثمن فهو يطالبه بتسليم المبيع، وأنه عاجز عن التسليم فتمتنع المطالبة أصلا فلم يكن في بقاء البيع فائدة فينفسخ، وإذا انفسخ البيع سقط الثمن عن المشتري، لأن انفساخ البيع ارتفاعه من الأصل، كأن لم يكن".ترجمہ: اگر وہ مبیع قبضے سے پہلے ہی کسی آفتِ سماوی (قدرتی حادثے) کی وجہ سے پوری کی پوری ہلاک ہو جائے، تو بیع خود بخود ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ اگر بیع باقی رہتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ خریدار سے قیمت کا مطالبہ کیا جائے گا، اور جب (بیچنے والا) قیمت کا مطالبہ کرے گا تو جواباً خریدار اس سے چیز کی حوالگی (Delivery)کا مطالبہ کرے گا، حالانکہ وہ (بائع) اسے حوالے کرنے سے عاجز ہے؛ لہٰذا (قیمت کا) مطالبہ ہی سرے سے ممنوع ہو گیا۔چنانچہ بیع کو باقی رکھنے کا اب کوئی فائدہ نہیں رہا، اس لیے وہ فسخ ہو جائے گی۔ اور جب بیع فسخ ہو گئی، تو خریدار کے ذمہ سے قیمت (ادائیگی) ساقط ہو جائے گی؛ کیونکہ بیع کا فسخ ہونا اسے جڑ سے ختم کر دینا ہے، گویا کہ سرے سے کوئی معاہدہ ہوا ہی نہ تھا۔ (بدائع الصنائع، کتاب البیوع، فصل فی حکم البیع، 5/238، دار الکتب العلمیۃ بیروت)
الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "اشترى دابة مريضة في إصطبل البائع فقال المشتري تكون هنا الليلة فإن ماتت ماتت لي فهلكت هلكت من مال البائع لا من مال المشتري كذا في فتاوى قاضي خان".ترجمہ: کسی نے بیمار جانور خریدا جو بائع کے اصطبل میں تھا، مشتری نے کہا: یہ آج کی رات یہیں رہے گا، اگر یہ مر گیا تو میرا نقصان ہوگا، پھر وہ مر گیا؛ تو (حکم یہ ہے کہ) وہ بائع کے مال سے ہلاک ہوا نہ کہ مشتری کے مال سے (کیونکہ ابھی قبضہ مکمل نہیں ہوا تھا) اسی طرح فتاویٰ قاضی خان میں ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب البیوع، الباب الرابع، الفصل الثانی، 3/20، دار الفکر)
علامہ ابو بکر بن علی الحداد الزبیدی (المتوفی:800ھ) لکھتے ہیں: "لو هلك المبيع قبل القبض في يد البائع لا يجب على البائع شيء ويسقط حقه من الثمن".ترجمہ: اگر فروخت شدہ چیز قبضے سے پہلے بائع کے ہاتھ (قبضہ) میں ہلاک ہو جائے تو بائع پر (اس کا بدلہ دینا) واجب نہیں، لیکن اس کا قیمت وصول کرنے کا حق بھی ختم ہو جائے گا۔ (الجوہرۃ النیرۃ، کتاب الکفالۃ، 1/314،المطبعة الخيرية)
محمد قدری پاشا (المتوفی: 1306ھ) لکھتے ہیں: "إذا هلك المبيع عند البائع بفعله أو بفعل المبيع أو بآفة سماوية بطل البيع ويرجع المشتري على البائع بالثمن إن كان مدفوعا".ترجمہ: جب فروخت شدہ چیز بائع (بیچنے والے) کے پاس خود اس کے فعل سے، یا مبیع کے اپنے فعل سے (مثلاً جانور خود مر جائے) یا کسی آسمانی آفت سے ہلاک ہو جائے تو بیع باطل ہو جائے گی، اور اگر خریدار نے قیمت ادا کر دی تھی تو وہ بائع سے اسے واپس لینے کا حق دار ہوگا۔ (مرشد الحیران ، کتاب البیوع، باب فی تسلیم المبیع، الفصل الثانی، المادۃ: 460، 2/827، المکتبۃ الحقانیۃ پشاور)
قرض لوٹانا لازم ہے، علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه".ترجمہ: قرض اس معاہدے کو کہتے ہیں جس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو ایسی چیز دیتا ہے جو مثلی ہو، تاکہ وہ بعد میں ویسی ہی چیز اس سے واپس لینےکا مطالبہ کرسکے۔(الدر المختار، کتاب البیوع، 5/161، دار الفکر)
مفتی کی شرعی ذمہ داری بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اور یہ الزام کہ آپ ہر دو جانب کی گفتگو نہیں سنتے ایک ہی طرف کی بات سن کر حکم لگانا ناانصافی ہے اگر آپ انصاف فرمائیں تو یہ الزام محض بے اصل ہے یہاں فتوٰی دیا جاتا ہے دار القضا نہیں کہ فریقین کے بیان سننا تحقیقات امر واقع کرنا لازم ہو، مفتی تو صورت سوال کا جواب دے گا اس سے اسے بحث نہیں کہ واقع کیا ہے ،نہ فریقین کا بیان سننا اس پر لازم نہ اس کا کام ۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ سوال اگر ظاہر البطلان ہوتو اس کا جواب نہ دے اور دے تو اس کی غلطی ظاہر کردے تاکہ وہ اپنے فتوے سے باطل کا مدد گار نہ بنے، یہاں بحمدہٖ تعالٰی اس کا لحاظ رہتا ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 16/329، رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 شعبان المعظم 1447ھ/2فروری 2026ء