مسئلہ مناسخہ کا شرعی حکم

    masla manasakha ka sharai hukam

    تاریخ: 19 مئی، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1375

    سوال

    ہمارے والد محمد رفیق الرحمان کا انتقال ہوا، ہم دو بھائی (عامر ، دانش)اور دو بہن (سعیدہ، سلمٰی ) ہیں ۔ والدہ (بلقیس)کا انتقال والد سےپہلے ہوگیا، اور والد صاحب کے انتقال کے وقت ہماری دادی(زلیخہ ) زندہ تھیں۔ (بعد میں انکا انتقال ہوا ، میرے والد صاحب کے علاوہ انکی کوئی اولاد نہیں ہے۔)

    جائیداد میں ایک گھر تھا جو اس وقت ڈھائی لاکھ میں فروخت ہوا ، پھر ہم نے اس میں مزید اس طرح رقم ملائی کہ

    دانش 3لاکھ، سعیدہ 4 لاکھ، عامر 2 لاکھ 80 ہزار،

    والدہ 2 لاکھ 20 ہزار،(یہ رقم والدہ کی وراثت یعنی انکے زیورات سے حاصل ہوئی جس میں سب کا حصہ تھا۔)

    یہ ٹوٹل ساڑھے 14 لاکھ روپے ہوگئے، جس سے گھر لیا۔اور یہ رقم اس لئے ملائی تاکہ اس مکان میں سب کا حصہ رہے۔لیکن اس مکان میں ایک بہن سلمٰی نے کچھ نہ ملایا ۔ اب اسکی قیمت تقریبا 50 لاکھ ہوگئی ہے اب ہم اس گھر کو فروخت کرکے آپس میں رقم تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ آپ سے شرعی رہنمائی چاہیے کہ کس کا کتنا حصہ بنتا ہے تاکہ شریعت کے مطابق تقسیم ہوجائے۔ جزاک اللہ

    سائل:عامر : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    نوٹ: محمد رفیق الرحمان کے انتقال کے بعد انکی والدہ(زلیخہ) کا انتقال ہوا ، اورچونکہ انکے ورثاء میں بعینہ وہی افراد ہیں جو محمد رفیق الرحمان کے ورثاء میں ہیں اس لئے زلیخہ کو کالعدم قرار دے کر تقسیم کی جارہی ہے۔ یونہی والدہ (بلقیس ) کا حصہ بھی ان میں تقسیم ہوگا ۔

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا توحکمِ شرع یہ ہے کہ مکان کی کل قیمت میں سے سب سے پہلے اُن افراد کا حصہ منہا کیا جائے گا جنہوں نے بطورِ شرکت رقم ملاکر دوسرا مکان خریدا ۔

    دوسرا مکان خریدنے کے لئےدیگر ورثاء کی جانب سے ملائی گئی رقم کا ریشو درج ذیل ہے :

    دانش: 20.689٪ سعیدہ: 27.586٪ عامر: 19.310٪

    لہذا مکان کی موجودہ ویلیو میں سےسب سے پہلے ان ورثاء کو درج بالا ریشو کے اعتبار سے رقم دی جائے گی (جس کا مجموعہ 67.585٪ ہے ) کیونکہ وہ اس مقدار کے مالک ہیں اور بقیہ (32.415٪)تمام رقم کو،تمام ورثاء (عامر ، دانش،سعیدہ، سلمٰی ) میں بشمول سلمٰی کے 6 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں ہر بیٹے (عامر ، دانش) کوالگ الگ 2 حصے، اور ہر بیٹی کو الگ الگ 1 حصہ ملے گا۔

    مالِ مشترک کی تقسیم سے متعلق مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )

    بیٹے اور پوتے عصبہ بنفسہ ہیں، جیساکہ سراجی میں ہے :اما العصبہ بنفسہ وہم اربعۃ اصناف : جزء المیت، اعنی اولاہم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوہم وان سفلوا (ملخصا)ترجمہ:عصبہ بنفسہ چار اقسام پر ہیں ان میں سے پہلا میت کا جزء یعنی وراثت کا سب سے زیادہ حقدار میت کا جزء یعنی اسکے بیٹے ہیں پھر اگر بیٹے نہ ہوں تو انکے بیٹے (یعنی پوتے)۔(السراجی فی المیراث باب العصبات ص 36 )

    اور عصبہ دیگر ورثاء کی عدم موجودگی میں میت کے تمام مال کا مستحق بن جاتا ہے۔جیساکہ سراجی میں ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال۔ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہو جائے۔(السراجی فی المیراث ص 9)۔

    مکان کی کل قیمت پچاس لاکھ سے ہر ایک کا حصہ :

    دانش 1574700/= عامر 1505750/=

    سعیدہ 1649425/= سلمٰی 270125/=

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:05 رجب المرجب 1443 ھ/07 فروری2022 ء