masla-e-wirasat do betiyan biwi chhe bhai do behnein
سوال
میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے ،میری دو بیٹیاں ہیں شوہر کے والدین پہلے ہی وصال کرچکے ہیں ۔ شوہر کے والد نے ایک مکان میرے شوہراور انکے تین بھائیوں کے نام کردیا تھا جوکہ قانونی اعتبار سے انکے نام ہے۔گھر 80 گز پر مشتمل ہے جس پر گراؤنڈ پلس ون فلور ہے ہر فلور پر 2 روم اور کچن واش روم سیپریٹ ہے۔
اب میں نے دوسری شادی کرلی ہے سوال یہ ہے کہ کیا شوہر کی وراثت میں میرا کچھ حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ یاد رہے شوہر کے والد کی دو شادیاں تھیں جن سے میرے شوہر کے 6 سگے بھائی دو سگی بہنیں اور 3 باپ شریک بھائی ہیں۔
سائلہ:سدرہ : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ بے شک اس مکان میں موجود شوہر کے حصہءِ وراثت میں بیوہ کا حصہ ضرور ہوگا نہ صرف بیوہ بلکہ اسکی دو بیٹیوں اور سگے بہن بھائیوں کا بھی حصہ ہوگا ، جبکہ باپ شریک بھائی محروم رہیں گے۔ہر وارث کے حصے کی تفصیل درج ہے۔
کل حصے: 336
بیوی:42، بیٹی:112، بیٹی:112، سگا بھائی:10، سگا بھائی:10، سگا بھائی:10، سگا بھائی:10، سگا بھائی:10 سگا بھائی:10، سگی بہن:05، سگی بہن :05
والد نے جب بیٹیوں کے نام کردیا اور اسکی قانونی رجسٹری بھی ہوگئی اور ہر ایک بیٹا کا حصہ الگ کردیا تو بے شک یہ ھبہ کامل و تام ہوگیا کیونکہ ھبہ بعد از قبضہ کامل صحیح و تام ہوجاتا ہے جس کے بعد اس شئے موھوبہ(جو چیز گفٹ کی گئی ہے) میں موہوب لہ(جسے گفٹ کی گئی) کی ملکیت ثابت ہوجاتی
ہے، جو کہ بعد از وفات اسکے ورثاء میں تقسیم ہوگی۔
قانونی رجسٹری دلیل تملیک ہے، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے سوال ہوا کہ والد نے مکان اپنے بیٹے کے نام اس طور پر کیا کہ قانونی رجسٹری میں اپنا نام خارج کراکر بیٹے کا نام داخل کروایاپھر مکان کے کرایہ ناموں پر بیٹے نے بحیثیت مالک دستخط کئے،اسی طرح دیگر قانونی معاملات میں بھی بیٹے کو مالک ظاہر کیا پھر سولہ سال بعد والد انتقال کرگئے،یہاں بیٹیاں کہتی ہیں کہ والد صاحب نے کسی مصلحت کے تحت یہ مکان بیٹے کے نام رجسٹررڈ کرایا تھا ،جواباً امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’داخل خارج کرا دینا اور وہ کاروائیاں کہ سوال میں مذکور ہیں قطعا دلیل تملیک ہیں، اور ثبوت ہبہ کے لئے کافی ووافی ہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ،19/334،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
یہاں غور ہو کہ رجسٹری میں نام درج کروانے اور دیگر تصرفات مالکانہ کو امام اہلسنت نے دلیل تملیک قرار دیا ،اسی سے استفادہ کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ جب رجسٹری کے بعد موہوب لہ کو شے موہوب پر مالکانہ تصرف کا حق حاصل ہوجائے اور کوئی مانع بھی نہ ہو تو وہ رجسٹری بے معنی نہ ہوگی بلکہ دلیل تملیک قرار دی جائے گی۔
البتہ فتاوی رضویہ شریف کے دیگر جزئیات جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بابِ تملیک میں محض تحریر کوئی معنی نہیں رکھتی،ان کا تعلق موجودہ دور کے اسٹام پیپرز سے متعلق ہے کہ جیسی تحریر پٹواری کی حیثیت امام اہلسنت کے عرف میں تھی وہ ہمارے عرف میں اسٹام پیپرکی ہے، جبکہ باقاعدہ رجسٹرار کے پاس جا کر کی جانے والے رجسٹری کا معاملہ ایسا نہیں۔
تنویرالابصار میں ہے: وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
اگر دو سے زائد بیٹیاں ہوں تو انکا کتنا حصہ ہوگا، اس بارے میں ارشاد ہے ۔ قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ کنز الایمان :پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگر دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)۔
میت کے سگے بہن بھائی عصبات ہونے کے سبب مابقی مال لے لیں گےبایں طور کہ ہر بھائی کو بہن سے دگنا ملے گا۔جیساکہ ارشادِ باری تعالٰی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء: 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
السراجی فی المیراث میں ہے: والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال، ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔( السراجی فی المیراث ص54 مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)
سگے بہن بھائی کی موجودگی میں سوتیلے بہن بھائی محروم ہیں، جیساکہ سراجی فی المیراث میں ہے: ويَسقُط بنو العَلاّت أيضاً بالأخ لأبٍ وأمٍّ، وبالأخت لأبٍ وأمٍّ إذا صارَتْ عَصَبة۔ ترجمہ:اور باپ شریک بہن بھائی سگے بہن بھائی کی وجہ سے ساقط ہوجائیں گے، جبکہ وہ عصبہ ہوں۔(سراجی ص 43 )۔
فائدہ : رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اس مکا کی مارکیٹ ویلیو لگوا لیں اسکے بعد کل قیمت کے 25 فیصد حصے ک مبلغ یعنی 336پرتقسیم کردیں جو جواب آئے اسے اپنے پاس محفوظ کرلیں بعد ازاں اس محفوظ عدد کو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 جمادی الثانی 1446ھ/ 24 دسمبر 2024 ء