Masajid ki safon ke neechay bchhayay janay walay foam par namaz ka hukam
سوال
آج کل مساجد میں صفوں کے نیچے فوم بچھانے کا رواج عام ہو رہا ہے ، کیا یہ فوم بچھانا جائز ہے ؟ اور کیا اس پر نماز ہو جائے گی ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
فوم، گدے یا کسی بھی نرم اور دبنے والی چیز پر سجدے کے جواز کا مدار "قرارِ جبھہ" (پیشانی کے مکمل ٹھہراؤ) پر ہے، فقہائے کرام کے نزدیک سجدے کی حقیقت صرف سر زمین پر رکھنا نہیں بلکہ پیشانی کا زمین یا اس کی سختی پر اس طرح ٹِک جانا ہے کہ اس میں مزید دبنے کی گنجائش باقی نہ رہے، چنانچہ اگر فوم یا گدا اس قدر موٹا یا نرم ہو کہ سجدہ کرتے وقت پیشانی اس میں دھنستی چلی جائے اور زمین کی سختی محسوس نہ ہو، تو ایسی صورت میں رکنِ سجدہ کی ادائیگی شرعاً معتبر نہیں ہوگی کیونکہ سجدے کے لیے "تمکن و استقرار" شرط ہے، اس کے برعکس اگر فوم معمولی ہو یا اس کی کثافت(Density) اتنی زیادہ ہو کہ پیشانی رکھنے سے وہ ایک حد پر جا کر رک جائے اور مزید مبالغہ کرنے یا دبانے سے بھی نیچے نہ دھنسے، تو اس پر سجدہ جائز ہے خواہ نیچے کی زمین کی سختی براہِ راست محسوس نہ بھی ہو رہی ہوکہ اصل معیار پیشانی کا ایک جگہ پر جم جانا اور ٹھہر جانا ہے نہ کہ زمین کا نظر آنا یا ننگا ہونا۔ عصرِ حاضر میں مساجد یا گھروں میں استعمال ہونے والے عام قالین اور ان کے نیچے بچھائے گئے پتلے فوم اسی رعایت میں داخل ہیں کیونکہ ان پر سجدہ کرنے سے پیشانی ایک سطح پر ٹک جاتی ہے،لہذا اس مسئلے میں اس قدر سختی نہیں کرنی چاہیے کہ عوم الناس تشویش میں مبتلا ہوجائے بلکہ جس قالین یا گدے سے متعلق سوال ہو اسکی تحقیق و تفتیش کرلینی چاہیئے تاکہ جہاں جواز کی گنجائش موجود ہو وہاں جواز کا حکم دیا جاسکے۔
البتہ آج کل کے بعض بہت زیادہ نرم اور اسفنجی گدے جنہیں "میٹریل میموری فوم" یا انتہائی نرم روئی سے تیار کیا جاتا ہے، ان پر نماز کے باب میں سخت احتیاط لازم ہے، لہٰذا اس حوالے سے تحقیق یہ ہے کہ جدید گدوں پر نماز کی ادائیگی کے وقت یہ اطمینان کرنا ضروری ہے کہ سجدے کی حالت میں پیشانی کسی ایک مقام پر ساکن ہو جائے، اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو ایسی نرم جگہ پر سجدہ کرنا محض پیشانی جھکانے کے مترادف ہوگا جسے شرعی سجدہ نہیں کہا جا سکتا۔خلاصہ یہ کہ فوم یا گدے کی دبنے والی فطرت اگر پیشانی کے استحکام اور استقرار میں مانع ہے تو عدمِ جواز کا حکم ہوگا اور اگر دبنے کے بعد ایک مضبوط حد آجائے تو نماز جائز ہوگی۔
صدر الشریعہ بہار شریعت میں لکھتے ہیں:’’کسی نرم چیز مثلاً گھاس، روئی، قالین وغیرہا پر سجدہ کیا، تو اگر پیشانی جم گئی یعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دبے، تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ (عالمگیری) بعض جگہ جاڑوں میں مسجد میں پیال بچھاتے ہیں، ان لوگوں کو سجدہ کرنے میں اس کا لحاظ بہت ضروری ہے کہ اگر پیشانی خوب نہ دبی، تو نماز ہی نہ ہوئی اور ناک ہڈی تک نہ دبی، تو مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی، کمانی دار گدّے پر سجدہ میں پیشانی خوب نہیں دبتی، لہٰذا نماز نہ ہوگی۔(بہار شریعت، ج 01، حصہ 03، ص 514، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
الدرالمختار میں ہے: "وشرط سجود فالقرار لجبہة۔ترجمہ: سجدے کے لیے (شرط یہ ہے کہ) پیشانی کا ٹھہراؤ ہو۔
اسکے تحت شامی میں ہے:قولہ: (فالقرار لجبہة) أی: یفترض أن یسجد علی ما یجد حجمہ بحیث ان الساجد لو بالغ، لا یتسفل رأسہ أبلغ مما کان علیہ حال الوضع، فلا یصح علی نحو الأرز والذرة الا أن یکون فی نحو جوالق، ولا علی نحو القطن والثلج والفرش الا ان وجد حجم الأرض بکَبسِہ۔ ترجمہ: ان کا قول (پس پیشانی کا ٹھہراؤ) یعنی یہ فرض ہے کہ ایسی چیز پر سجدہ کیا جائے، جس کی ٹھوس مقدار محسوس ہوتی ہو، اس طور پر کہ سجدہ کرنے والا اگر مبالغہ کرے (سر کو زور سے دبائے) تو اس کا سر اس سے زیادہ نیچے نہ دھنسے جتنا وہ رکھتے وقت دب چکا تھا۔ چنانچہ چاول اور جوار جیسی چیزوں پر سجدہ صحیح نہیں ہوگا جب تک کہ وہ بوری وغیرہ میں (کس کر بھری ہوئی) نہ ہوں، اور نہ ہی روئی، برف اور بچھونوں (گدوں) پر سجدہ صحیح ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ اسے اتنا دبائے کہ زمین کی سختی (ٹھہراؤ) محسوس ہونے لگے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:و لو سجد على الحشيش أو التبن أو على القطن أو الطنفسة أو الثلج إن استقرت جبهته و أنفه و يجد حجمه يجوز وإن لم تستقر لا۔ترجمہ: اور اگر گھاس، بھوسے، روئی، کپڑے یا برف پر سجدہ کیا، تو اگر اس کی پیشانی اور ناک جم گئے اور وہ اس کی سختی کو محسوس کرے، تو جائز ہے اور اگر پیشانی نہ جمے تو جائز نہیں۔ (فتاوی ھندیہ، کتاب الصلوۃ، الباب الرابع، الفصل الاول، ج 01، ص 70، مطبوعہ کوئٹہ)
شامی میں ہے: تفسيره أن الساجد لو بالغ لا يتسفل رأسه أبلغ من ذلك، فصح على طنفسة وحصير وحنطة وشعير وسرير وعجلة وإن كانت على الأرض لا على ظهر حيوان كبساط مشدود بين أشجار، ولا على أرز أو ذرة إلا في جوالق أو ثلج إن لم يلبده وكان يغيب فيه وجهه ولا يجد حجمه، أو حشيش إلا إن وجد حجمه، ومن هنا يعلم الجواز على الطراحة القطن، فإن وجد الحجم جاز وإلا فلا بحر۔ ترجمہ: اس کی تفسیر یہ ہے کہ سجدہ کرنے والا اگر مبالغہ کرے (یعنی سر کو دبائے) تو اس کا سر اس (پہلی جگہ) سے مزید نیچے نہ دھنسے۔ چنانچہ قالین، چٹائی، گندم، جو، چارپائی اور گاڑی (ریڑھی وغیرہ) پر سجدہ صحیح ہے اگر وہ زمین پر ہو نہ کہ جانور کی پیٹھ پر، جیسے درختوں کے درمیان بندھا ہوا پردہ یا کپڑا (جس پر سجدہ درست نہیں)۔ اور چاول یا جوار پر سجدہ درست نہیں مگر یہ کہ وہ بوری میں (کس کر بھرے ہوئے) ہوں، اور نہ ہی ایسی برف پر سجدہ درست ہے جسے جمایا نہ گیا ہو اور اس میں چہرہ چھپ جاتا ہو اور اس کی ٹھوس مقدار (سختی) محسوس نہ ہوتی ہو، اور نہ ہی گھاس پر سجدہ درست ہے جب تک کہ اس کی ٹھوس مقدار (سختی) محسوس نہ ہو۔ اور یہیں سے روئی کے گدے (طراحة) پر سجدے کا جواز معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس کی ٹھوس مقدار (سختی) محسوس ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
الجـــــواب صحــــیـح
ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
محمد زوہیب رضا قادری
27 شوال المکرم 1447ھ/ 16 اپریل 2026 ء