سوال
میں مسجد کا متولی ہوں ،میرے پاس ڈونیشن کی رقم آتی ہے جس سے میں کچھ فیصد رقم نکال کر اپنی جیب میں رکھ لیتا ہوں ،باقی رقم آگے بڑھا دیتا ہوں آگے والا اس رقم سے کچھ فیصد نکال کر پھر باقی رقم خزانے میں جمع کروا دیتا ہے ۔یہ سب کام خفیہ طریقے سے کرتے ہیں اس بارے میںنہ ڈونر کو علم ہوتا ہے نہ کسی اور کو ۔
اگر ہم مسجد کے لیے محنت کریں لوگوں کے پاس جائیں خواری اٹھائیں روڈ ماسٹری کریں اور پیسے جمع کر کرلائیں تو کیا تب کیا اس رقم سے کچھ پرسنٹ اپنی جیب میں رکھ سکتے ہیں ؟اگر رکھ سکتے ہیں تو کتنی ؟جواب عنایت فرمائیں !
سائل:اشرف حسین
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
چندہ جمع کرنے والو ں کی حیثیت وکیل کی ہے اور وکیل اس بات کا امین ہوتا ہے کہ وہ مؤکلین کی جانب سےچندہ کی صورت میں جو امانات ہیں انہیں مقامِ مقصود (یعنی مسجد )تک پہنچائے۔اس میں ذرہ بر خیانت دنیا و آخرت میں رسوائی اور گناہ ہے ۔
عام طور پر مسجد تعمیر ہونے کے بعد چندہ جمع ہونے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مسجد کے اندر ،باہر چندے کےغلے (donation box)رکھے جاتے ہیں ،جن میں لوگوقتًا فوقتًا روپے پیسےڈالتے رہتے ہیں یا پھر جمعہ و عیدین میں نماز کے بعدچندہ کیا جاتا ہے ۔ کسی ایک مسجد کے لیےچندہ جمع کرنے کیوہ صورت جو سوال میں مذکور ہوئی نادرالوقوع ہے ۔
الغرض اگر فی الواقع مسجد کا چندہ جمع ہونے کی یہی صورت ہے کہ لوگوں کے پاس جانا پڑتا ہے اور اس کے لیے ایسے متولی کی ضرورت ہے جس کی عملی کوشش سے چندہ جمع ہوتا ہے ،اور متولی نےاپنے آپ کو اسی کام کے لیے مختص کر رکھا ہے کہ اوقات ِ کار میں اسی کام میں مصروف رہتا ہے ،اس کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیں جو یہ خدمت فی سبیل اللہ انجام دے سکے تو ایسی صورت میں عرف کےمطابق چندہ میں سے کچھ فیصد دینے کی گنجائش ہے لیکن یہ سب کام خفیہ طریقے سے نہ ہوں نہ ہی چندہ جمع کرنےوالے کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہاپنی مرضی سے اس سے پیسے لیتا رہے ۔بلکہارکانِ کمیٹی کسی عالم باعمل مفتی صاحب کے ساتھ مل بیٹھ کر یہ معاملہ عرف کے مطابق حل کریں ۔
یہ جو سوال میں مذکور ہوا (باقی رقم آگے بڑھا دیتا ہوں آگے والا اس رقم سے کچھ فیصد نکال کر پھر باقی رقم خزانے میں جمع کروا دیتا ہے)اس دوسرے شخص کاچندہ سےاپنے لیے رقم نکالنا جائز نہیں اس لیے کہ اس کی جانب سے کوئی عملی کوشش نہیں ۔
تنبیہ :یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین رہے کہ اگر یہ کام محض حصولِ مال کے لیے ہے ، چندہ کرنا محض بہانا ہےتو ایسی صورت میں درج بالا حکم قطعا فائدہ نہ دے گا کہ بہت سے لوگوں نے اس کام کو دھندا بنا رکھا ہے ۔انما الاعما ل بالنیات ۔ترجمہ:اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔
اللہ عزوجل فرماتا ہے : واﷲ یعلم المفسد من المصلح۔ترجمہ:خداخوب جانتا ہے کون بگاڑنے والا ہے اور کون سنوارنے والا۔ ( البقرۃ:220)
حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: رب متخوض فیما شاءت نفسہ من مال اﷲ ورسولہ لیس لہ یوم القٰیمۃ الا النار ترجمہ :بہت وہ کہ اﷲ و رسول کے مال میں اپنی خواہشِ نفس کے مطابق دھنستے ہیں ان کے لئے قیامت میں نہیں مگر آگ (جامع الترمذی باب ماجاء ان الغنی غنی النفس )
اﷲ عزوجل فرماتا ہے : من کان فقیرافلیأکل بالمعروف۔ترجمہ جو حاجتمند ہو وہ معروفطریقےسے کھائے۔(النساء:6)
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے:(ويبدأ من غلته بعمارته ) ثم ما هو أقرب لعمارته كامام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ترجمہ : اور وقف کی آمدن سب سے پہلے اس کی عمارت پر لگائی جائے گی ، عمارت کے بعد آمدنی اس چیز پر صَرف کی جائے گی جو عمارت سے قریب تر ہو جیسے مسجدکے ليے امام اور مدرسہ کے ليے مدرس (اس لیے کہ ان سے مسجد و مدرسہ کی آباد کاری ہے ) انہیں بقدر کفایت دیا جائےگا ۔(تنویر الابصار و درمختار ، کتاب الوقف ،جلد 6، صفحہ 562، مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ اس کے تحت لکھتے ہیں :أَيْ مَصَالِحِ الْمَسْجِدِ يَدْخُلُ فِيهِ الْمُؤَذِّنُ وَالنَّاظِرُ۔ترجمہ:مصالح مسجد میں مؤذن اور نگران (دیکھ بھال کرنے والا)بھی داخل ہو گا ۔(تنویر الابصار و درمختار ، کتاب الوقف ،جلد 6، صفحہ 562، مطبوعہ کوئٹہ)
اماماہلسنت امام احمد رضا کان علیہ الرحمہ نگرانِ وقف کو مالِ وقف سے اجرت دینے کے حوالے فرماتے ہیں: جو ماہوار مقرر ہوا اگر اس کے صدق ِسعی وحسنِ خدمت کے لحاظ سے بقدر اجرِ مثل کے نہیں تو ضرور اجرِ مثل کی تکمیل کردی جائے گی، اور اگر واقعی اجر مثل بھی اسکے واجبی صرف کو کفایت نہ کرے تو وقف کی فاضلات سے تاحد کفایت ماہوار میں اضافہ بھی ممکن، مگر نہ یوں کہ بطور خود کہ خود ہی مدعی اور خود ہی حاکم ہونا ٹھیک نہیں، بلکہ وہاں کے افقہ اہل بلد عالم سنی دیندار کی طرف رجوع کرے یا متعدد معزز متدین ذی رائے مسلمانان شہر کے سپردکردے وہ بعد تحقیقات کامل اجر مثل تک حکم دیں یا بشرط صدق حاجت وعدم کفایت تاقدر کفایت اضافہ کریں، اس تقدیر پر ان کو یہ بھی ملحوظ رہے کہ جب واقف خود ہی متولی ہوا اور خود ہی وقت وقف یہ ماہوار تجویز کیا تو اب کون سی بات حادث ہوئی کہ وہ ماہوار ناکافی ہوگیا، ردالمحتار: الناظر بشرط الواقف فلہ ماعینہ لہ الواقف ولو اکثر من اجر المثل کمافی البحر ولوعین لہ اقل فللقاضی ان یکمل لہ اجر المثل بطلبہ کما بحثہ فی انفع الوسائل، ویأتی قریبا مایؤیدہ، وھذا مقید لقولہ الاٰتی لیس للمتولی اخذ زیادۃ علی ماقررلہ الواقف اصلا۔ترجمہ: نگران کو واقف کی شرط کے مطابق مقررہ وظیفہ ملے گا اگرچہ یہ مروج سے زائد ہو، اور اگر واقف کا مقرر کردہ مروج سے کم ہو تو اس کے مطالبہ پر مروج تک مکمل کرنے کا اختیار ہے جیسا کہ اس کو انفع الوسائل نے بحث کے طور پر ذکر کیا ہے، اور اس کی مزید تائید عنقریب آئے گی اور یہ اس کے آئندہ قول کے ''متولی کو مقررہ پر زیادتی کا ہرگز اختیار نہیں ہے'' سے مقید ہے۔(فتاوی رضویہ جلد 16،صفحہ 216 رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:29ربیع الثانی 41444 ھ/25نومبر 2022 ء