mansasikha panch batn ka sharai masla
سوال
ہمارے والد کے بعد والدہ کا انتقال ہوا جائیداد والدہ کی ہے ، والدہ کے انتقال کے وقت 4 بیٹے (عمران، فرمان، نعمان، سہیل)اور سات بیٹیاں (نجمہ، شہناز، شاہدہ، شاہینہ، زاہدہ، شبانہ، ارم)حیات تھی جبکہ ایک بیٹے کا انتقال پہلے ہی ہوچکاہے، بعد ازاں ایک بیٹی (نجمہ ) کا انتقال ہوا، اسکے ورثاء میں شوہر(امین) چار بیٹیاں (عابدہ،سہلا،عظمٰی، لبنٰی) اور تین بیٹے (سیفی،کاشف،زوہیب) ہیں۔بعد ازاں ایک اوربیٹے عمران کا انتقال ہوگیا اسکے ورثاء میں ایک بیوی(خدیجہ) ایک بیٹا (کاشف) اور ایک بیٹی(ثناء) ہے۔پھر ایک اور بیٹے فرمان کا انتقال ہوگیا اسکے ورثاء میں ایک بیوی(صائمہ) دو بیٹے(فرحان، فیضان) اور دو بیٹیاں (رمشاء، فریحہ) ہیں۔پھر ایک اور بیٹی کا انتقا ل ہوگیا انکے شوہر کا انتقال پہلے ہوچکا جبکہ اولاد میں سات بیٹے(ظفر،سکندر،شکیل ،عقیل، جمیل، نبیل،مظفر)اور دو بیٹیاں(کنول، نیلمہ)ہیں۔
سائل:حاجی ابوبکر: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مستفسرہ میں امور متقدمہ علی الارث (تجہیز و تکفین، ادائے قرض، ایک تہائی سے وصیت) کے بعد جائیدا دکے کل 10800 حصص ہونگے، ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے:
کل حصص: 3600
ہر وارث کا حصہ:
نعمان :480،سہیل:480، شاہدہ: 240 ، شاہینہ :240 ،زاہدہ:240 ، شبانہ:240 ، ارم :240 ،امین:60 ، عابدہ:18 ، سہلا :18 عظمٰی:18 ، لبنٰی:18 ،سیفی:36 ، کاشف:36
زوہیب :36 ،خدیجہ:60 ، کاشف:280 ، ثناء:140 ، صائمہ:60 ، فرحان :140 ،فیضان:140 ، رمشاء:70 ، فریحہ:70 ، ظفر:30 ، سکندر:30 ، شکیل:30 ، عقیل:30 ، جمیل:30 ، نبیل :30 ،مظفر: 30 ،کنول:15 ، نیلمہ:15
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے ،لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے :قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)
بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)
فائدہ : رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل رقم کو مبلغ یعنی10800پرتقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:18 شوال المکرم 1445ھ/ 27 اپریل 2024 ء