manasikha teen batn aur zindagi mein kiye gaye akhrajat ka hukm
سوال
1:ہماری والدہ کا والد سے پہلے انتقال ہوچکاتھا،ہمارے والد نے ایک مکان خریدا ،جس میں آدھے پیسے والد کے اور آدھے بھائیوں کے تھے۔اس وقت چار بھائی(فاروق،اقبال، امین، یاسین) اور تین بہنیں(میمونہ، خیرالنساء،رضیہ)موجود تھیں۔والد کا انتقال 2007 میں ہوا۔
والد کے انتقال کے بعد ایک بھائی فاروق کا انتقال ہوا۔اسکی ایک بیوی(بلقیس)ایک بیٹا(فرید)اور دوبیٹیاں (عائشہ،مدیحہ)ہیں۔
اس بھائی کے بعد ایک بہن (میمونہ) کا بھی انتقال ہوااسکے ورثاء میں صرف اسکا شوہر (الیاس)ہے۔اسکی کوئی اولاد نہیں ہے۔
اس وقت تین بھائی (اقبال، امین، یاسین)اور دو بہنیں (خیرالنساء،رضیہ)زندہ ہیں۔تمام لوگوں میں وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟
2: ایک بیٹے امین نے گھر کے تمام اخراجات کئے۔اور اور یاسین نے شادیاں، بیماریوں وغیرہ میں پیسے خرچ کئے۔امین کا کہنا ہے کہ چونکہ میں نے تمام شادیوں، بیماریوں وغیرہ کی مد میں اخراجات کئے ہیں اس لئے میرا حصہ دوسروں سے زیادہ ہونا چاہیے۔کیا ان کا یہ کہنا درست ہے یا نہیں؟
3:اگر ان دو بھائیوں کو وراثت سے انکے اخراجات نہیں دیئے جائیں گے تو کیا دوسرے بہن بھائی اپنی رضامندی سے انہیں اپنے حصہ میں سے کچھ یا مکمل دے سکتے ہیں یا نہیں؟ اقبال نے کسی طرح کا کوئی خرچہ نہیں کیا تو کیا انہیں بھی مکمل حصہ دینا ضروری ہے حالانکہ اس نے کسی طرح کے اخراجات میں اپنا حصہ نہیں ملایا ۔
سائل:یاسین: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)
پوچھی گئی صورت میں اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا بیان کیا گیا ہے توحکم شرع یہ ہے کہ مکان کی مارکیٹ ویلیو کودو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ایک حصہ بیٹوں کو دیا جائے گا جو انکا مشترکہ مکان میں حصہ تھا ۔ بقیہ ایک حصہ وراثت میں تقسیم ہوگا ۔ تقسیم کی تفصیل درج ذیل ہے۔
کل حصے : 176
اقبال:34 ، امین:34 ، یاسین:34 ، خیرالنساء:17 ، رضیہ:17 ، بلقیس:4 ، فرید:14، عائشہ:7 ، مدیحہ:7 ، الیاس:8
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے :قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)
بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)
فائدہ : رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل رقم کو مبلغ یعنی176پرتقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
2: امین نے شادیوں پرجوخرچہ کیااگراس نے ان سےاجازت لی تھی جن کی شادی پر خرچہ کیا کہ ساراخرچہ انکےحصےسےکیاجائےگا تو وہ خرچہ ان کےحصہ سےلیاجائےگااوراگربغیراجازت اپنی مرضی سےخرچہ کیاتوتمام ورثاء کوانکاپوراپوراحق دیاجائےگااورامین کواس خرچہ کےمطالبےکا حق نہیں ہوگا ۔ اسی طرح امین نےجوکچھ بیماریوں یا گھریلو اخراجاتکی مد میں خرچ کیا،اسکا بھی یہی حکم ہے۔
امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتےہیں:اوربعینہٖ یہی حال صرف شادی کاہےجس نےصرف کیافقط وہی اس کامتحمل ہوگااجازت نہ دینےوالوں یانابالغوں کواس سےکچھ تعلق نہیں وہ اپناحصہ متروکہ پدری سےپوراپوراپائیں گےاورصَرف شادی کامطالبہ صرف دختر سےنہیں ہوسکتا مگریہ کہ اس سےٹھہرالیاہوکہ ہم یہ ساراصَرف تیرےحساب میں مجرالیں گے،وذٰلک لان ماکانوا مضطرین فی ذٰلک وماسبیلہ ھذا ففاعلہ متبرع الا ان یشرط الرجوع کما اذا کفن الاجنبی المیت اوقضی دین غیرہ بلااذنہ والمسئلتان فی الدرالمختار والعقود الدریۃ۔ترجمہ:یہ اسلئےہےکہ وہ اس میں مجبورنہیں تھےنہ اسکی یہ سبیل ہےلہٰذاایساکرنے والا متبرع قرارپائےگا سوائےاس کےکہ اس نےرجوع کی شرط کی ہوجیساکہ کوئی اجنبی میت کوکفن پہنائےیاکسی کی اجازت کےبغیراس کاقرض اداکردے۔ یہ دونوں مسئلے در مختار اور عقود الدریہ میں مذکورہیں۔(فتاوی رضویہ :ج26،ص 131،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاویٰ رضویہ میں ہے:فان من انفق فی امر غیرہ بغیر امرہ ولامضطرا الیہ فانہ یعد متبرعا فلایرجع بشئ۔ترجمہ:کیونکہ جس نےغیر کےمعاملہ میں اس کےحکم اورکسی مجبوری کےبغیرخرچ کیاتووہ خرچہ بطورنیکی ہوگالہذااس خرچہ کی وصولی کےلئےرجوع نہ کرسکےگا۔(فتاوی رضویہ : ج18، ص178، رضافاؤنڈیشن لاہور)۔
تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:أَنْفَقَ بِلَا إذْنِ الْآخَرِ وَلَا أَمْرَ قَاضٍ، فَهُوَ مُتَبَرِّعٌ كَمَرَمَّةِ دَارٍ مُشْتَرَكَةٍ.ترجمہ:اگر کسی شریک نے دوسرے کی اجازت کے بغیر ، یونہی قاضی کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ کیا تو وہ متبرع ہے ،جیسا کہ مشترکہ مکان میں خرچ کرنا۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب المزارعۃ جلد 6 ص 284)
3:وراثت سے انکا جو حصہ بنتا ہو وہ لینے کے بعد کل یا بعض جتنا چاہیں اس بھائی کو دے سکتے ہیں اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ۔ البتہ جس بھائی نے اخراجات وغیرہ کی مد میں رقم نہیں لگائی اسکا حصہ کم نہ ہوگا اسے مکمل حق دیا جائے گا۔دیگر بھائیوں اور بہنوں کا اپنے حصہ وراثت میں سے دینااحسان ہے جو اس احسان کا بدلہ ہے جو اس نے شادی وغیرہ کی صورت میں کیا ۔ قال اللہ تعالٰی :هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ۔ترجمہ کنز الایمان:نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی۔(سورۃ الرحمان: آیت نمبر 60)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:18 شوال المکرم 1441 ھ/10 جون 2020 ء