مناسخہ دو بطن کا مسئلہ

    manasikha do baton ka masla

    تاریخ: 30 اپریل، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1247

    سوال

    ہمارے دادا کا انتقال 1987 میں ہواجبکہ دادی کا 1965 میں۔ دادا کی جائیداد میں دو منزلہ عمارت ہے جو مکمل اسی حالت پر باقی ہے اس میں کسی بھی وارث کی جانب سے کسی بھی طرح کی تعمیرات وغیرہ نہیں کی گئی، دادا کی اولاد میں تین بیٹے (زاہد، شاہد ،سلیم)اور پانچ بیٹیاں (انجم،شمیم،عائشہ ، شاہین، روبینہ)ہیں۔دادا کی تمام اولاد حیات ہے ماسوائے میرے والد یعنی شاہد قریشی کے ، ان کا انتقال 2018 میں ہوا، انکے ورثاء میں ایک بیوی(نغمہ بیگم)چار بیٹیاں (بینا، رعنہ،سعدیہ اور یمنٰی)اور دو بیٹے (ماجد ،فیضان ) ہیں۔

    اسکے بعد ماجد کا انتقال ہوا انکے ورثاء میں ایک بیوی(حمیرا)دو بیٹے(حسین،حمزہ)ایک بیٹی(زینب)ہے۔

    سوال یہ ہے کہ شرعی لحاظ سے دادا کی جائیداد میں میرے والد کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟اگر بنتا ہے تو کتنا اور کس حساب ہے؟ مکمل رہنمائی کردیں۔

    سائل: فیضان قریشی:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مسئولہ میں آپکے والدکا، دادا کی وراثت سے شریعت کے مقرر کردہ اصول کے مطابق حصہ ہوگا۔

    مالِ وراثت کی تقسیم کی تفصیل:

    امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔

    تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے 21120 حصے کیے جائیں گے ۔ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے:

    زاہد:3840، سلیم:3840 ، انجم:1920، شمیم:1920، عائشہ :1920 ، شاہین:1920، روبینہ:1920 ، نغمہ بیگم:620 ، فیضان :840 ، بینا:420، رعنہ:420، سعدیہ:420

    یمنٰی:420 ، حمیرا:105 ، حسین:238، حمزہ:238 ، زینب :119

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    فائدہ:رقم تقسیم کرنے کاحسابی طریقہ: گھر کی مارکیٹ ویلیو لگواکر فتوی میں بیان کردہ کل حصوں کو (21120) پر تقسیم کریں جو جواب آئے اس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھر اس محفوظ جواب کو ہر وارث کے حصہ سے ضرب کریں جو جواب آئے گا وہ ہر وارث کی رقم ہوگی جو بطورِ وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہی ہے۔پھر آخر میں تمام ورثاء کی رقم کو ملاکر چیک کرلیں اگر وہ کل مجموعہ کل جائیداد کی رقم کے برابر ہے تو تقسیم درست ہے ورنہ نہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاريخ اجراء:15 محرم الحرام 1443 ھ/24 اگست 2021 ء