سوال
بندہ ناچیز الخادم ویلفیئر سوسائٹی پاکستان کے نام سے شہر کراچی میں ایک فلاحی ادارہ چلاتا ہے۔اس ادارے کے ذریعے غریب مساکین ، یتیم، بیوه ، معذور افراد اور قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے۔ہمارے ادارہ کو زکوۃ ، عطیات اور صدقات کی صورت میں فنڈ دیا جاتا ہے۔آپ کی خدمت میں گزارش کی جاتی ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ:
(۱) ہم زکوۃ، صدقات اور عطیات کو (خصوصا زکوۃ) ہم اپنے ادارے کی تعمیرات یا ادارے کی ضروریات پر خرچ کر سکتے ہیں؟
(۲)نیز یہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ ہم اپنی فنڈنگ سے کسی ضرورت مند کو قرض حسنہ کے طور پر دے سکتے ہیں یا نہیں؟
(۳)جوا سٹاف کام کرتا ہے اسکو کسی فنڈ سے تنخواہ دے سکتے ہیں؟
(۴)یہ رہنمائی بھی فرمائیں کہ ہم تمام مستحق لوگوں کی کسی فنڈ سے کس طرح اور کتنی مدد کر سکتے ہیں ؟
سائل: انتظامیہ الخادم ویلفیئر سوسائٹی پاکستان۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ادارہ کی تعمیر،اسٹاف کی تنخواہ یا کسی ضرورت مند کی قرض حسنہ کی صورت میں مدد الغرض ہر وہ کام جس میں تملیکِ فقیر (یعنی کسی شرعی فقیر کو شے کا مالک بنادینا جس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی ،یا اس قیمت نہ ہوں،یا اتنی مالیت کا ضرورت سے زائد سامان نہ ہو)نہ ہو بلکہ اباحت (دوسروں پر کسی چیز کا استعمال مباح کر دینا)پائی جائے وہاں صدقات واجبہ یعنی زکوۃ،فطرہ ،فدیہ ،منت ،نذر اور تمام تر کفارے وغیرہا کا خرچ جائز نہیں۔ہاں نفلی صدقات کا ان مصارف میں خرچ بلاشبہ جائز ہے۔پھر اگر نفلی صدقات سے امداد ممکن نہ ہو جیسا کہ ہمارے ہاں ویلفیئر اداروں کے پاس اکثر زکوۃ وغیرہ ہی جمع ہوتی ہےتو ان مصارف (یعنی جن میں تملیک نہیں پائی جاتی)میں خرچ کے دو شرعی حل ہیں:
(۱) ادارہ فقیر شرعی کی جانب سے اسکا وکیل بن جائے پھر اپنے اجیروں کو سائلین کی مد د کرنے کاوکیل بنادے۔مثلاً سائلین (فقیر شرعی)کی جانب سے وکیل بن کران کا بل ، گھر کاکرایہ یا ہسپتال و علاج کاخرچہ دینا یا بچوں کی اسکول فیس جمع کروانا وغیرہا۔
یاد رہے کہ متعدد فقراءِ شرعی سے وکالتیں لینا جائز ہے،لیکن ان وکالتوں کا شرعی لحاظ سے وقتا فوقتاً جائزہ لینا ہو گاکہ ان میں سے کوئی وکیل غنی تو نہیں ہو گیا،کیوں کہ ادارے کے پاس اگر اتنی رقم آگئی جس نے تمام مؤکلین کو صاحبِ نصاب بنا دیا تو اب نئی زکوۃوصول کرنے کے لیے نئے شرعی فقیروں سے وکالتیں لینا ہوں گی۔
(۲) زکوۃ کا حیلہ کر لیا جائے۔مثلاً:کھانا کھلانے،سفید پوش خاندان کی مدد کرنے کیلئے۔
حیلہ شرعی صرف انتہائی ضرورت کے وقت جائز قرار دیا گیا ہے۔لہذا ویلفیئر کے منتظمین کا اپنے ملازم(جو ان کے دباؤ میں ہوتا ہے) سے زکوۃ کا حیلہ کر کے کروڑوں اربوں روپے اپنے بینکوں میں جمع کرلینا اور اپنی صواب دید پر اس طرح خرچ کرنا گویا اس رقم کے مالک ہیں،ناجائز ہے کیونکہ یہاں کوئی ضرورت شرعی نہیں ہے۔ہزاروں مستحقین موجود ہیں جن کو زکوۃ دی جاسکتی ہے تو پھر حیلہ کر کے بینک بیلنس بڑھانے میں کونسی ضرورت شرعی ہے ؟بلا ضرورت شرعی حیلہ کر نا ناجائز ہے کہ اس میں فقراء اور مستحقِ زکوۃ لوگوں کا حق مارنا اور باطل کرنا ہے جو کہ حرام ہے ۔البتہ ضرورت و حاجتِ شرعیہکی وجہ سے ایسے کام کے لیے حیلہ کرنا جو باعثِ ثواب ہو جائز ہے ،اور جو حیلہ محض منفعت کے حصول،یا خواہشِ نفس کی تکمیل کے لیے ہوجائز نہیں کہ اس سے مقصدِ شریعت کو فوت کرنا ہے جو کہ قبیح جرم ہے ۔
حیلہ شرعی کی شرائطِ جواز:
(۱)ضرروت ہو۔ یعنی جس کام کے لیے،جس غرض کیلئے حیلہ کیا جا رہا ہے ،اس کی حاجت ہو اور زکوۃ کی رقم کے سواکوئی دوسرا ذریعہ نہ ہو جسکے ساتھ اس کام کو مکمل کیا جا سکتا ہو۔
(۲)باعثِ ثواب ہو۔وہ کام کسی معصیت یا محض مباح پر مبنی نہ ہو ۔بلکہ اس کے کرنے میں اجر ہو۔
(۳)حیلہ شرعی کی وجہ سے مقصد ِشریعت فوت نہ ہوتا ہو کہ زکوۃ سے مقصود اللہ کی رضا،مال کی پاکی،اورغربا و فقرا کی امدادکرناہے ۔
جب ضرورت و حاجت شرعیہ کا تحقق ہو جائے تو حیلہ کرنےکا طریقہ یہ ہے کہ رقم وغیرہ کسی شرعی فقیرکی ملک کی جائے۔پھر وہ شرعی فقیر اسرقم پر قبضہ کرنے کے بعداپنی خوشی سے بطور تحفہ واپس کر دے ،بہتر یہ ہے کہ جس نیک کام کے لیے اس سے حیلہ کروایا گیا اس کار خیر میں ازخود رقم دے کہ یوںثواب کا بھی مستحق ہو گا ۔مگر یاد رہے کہ عمومی طور پرہمارےفلاحی اداروں یا مدارس کی حیثیت وکیل کی سی ہوتی ہے،اس لیے منتظمین یہ حیلہ خود نہیں کر سکتے اگرچہ شرعی فقیر ہوں۔
سوالات کے جوابات براہ راست ملاحظہ ہوں:
(۱)صدقات واجبہ کے علاوہ دیگر فنڈز ادارے کی تعمیرات یا دیگر ضروریات کیلئے خرچ کئے جاسکتے ہیں۔
(۲)فنڈز میں سے صدقات واجبہ کسی کو قرض حسنہ کے طور پر دینے کی اجازت نہیں ،الا یہ کہ مذکورہ دو شرعی حل کو یہاں بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔البتہ صدقات نافلہ سے مطلقا مدد کرسکتے ہیں۔
(۳)ترجیحی طور پر نفلی صدقات سے تنخواہ دی جائے ۔اگر یہ ممکن نہ ہو تو مذکورہ شرعی حل کے مطابق تنخواہ دی جاسکتی ہے۔
(۴)فنڈز میں سے صدقہ واجبہ سے مدد کی صورت یہ ہے کہ کسی فقیر شرعی کو شے کا مالک بنادیا جائے۔مثلاً(۱) راشن بیگ بنا کر فقیر ِشرعی کو زکوۃ کی نیت سے دینا۔(۲)فقیر ِشرعی کے استعمال کیلئے میڈیکل کی اشیاء (ادویات وغیرہ)خریدی جاسکتی ہیں۔(۳) نابالغ یتیم مستحق ِ زکوۃ بچوں کو کورسدلایا جا سکتا ہے۔(۴)نابالغ غیر ِیتیم بچوں کو کورس اس صورت میں دلایا جاسکتا ہے جب کہ ا ن کا والد شرعی فقیر ہو۔(۵) بالغ فقیر شرعی بچوں کو بھی کورس دلایا جا سکتا ہے۔البتہ زکوۃ کی رقم سے فیس نہیں اداکی جا سکتی۔(۶) فقیر شرعی بچوں،بچیوں کی شادی کے لیے ایسیچیز دینا جس کی تملیک ممکن ہوجائز ہے ،ورنہ نہیں جیسے شادی کے اخراجات، مثلاً کھاناکھلانا وغیرہا کہ ان میں تملیک نہیں پائی جاتی۔
رہے نفلی صدقات تو چاہے کسی مسلمان کی مدد کرے یا غیر مسلم کی،سید کی کرے یا غیر سید کی،امیر کی کرے یا فقیر کی تمام جائز ہے۔
دلائل و جزئیات:
زکوۃ کے سات مصارف کے حوالے سے ارشادِ باری تعالی ہے:اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ.ترجمہ:زکوۃ تو انہيں لوگوں کے لئے ہے محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصيل کرکے لائيں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنيں چھوڑانے ميں اور قرضداروں کو اوراللہ کی راہ ميں اور مسافر کو ۔(التوبۃ:60)
علامہ علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:"الأصل فيه قوله تعالى: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ} الآية فهذه ثمانية أصناف وقد سقط منها المؤلفة قلوبهم لأن الله تعالى أعز الإسلام وأغنى عنهم وعلى ذلك انعقد الإجماع".ترجمہ: مصارفِ زکاۃ ميں اصلاً اللہ عزوجل کا فرمان ہے(صدقات تو محتاج اور نرے نادار لوگوں کے لیے ہے )پس يہ آٹھ مصارف ہيں اور ان مصارف سے المؤلفة قلوبهم(یعنی جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے) ساقط ہوگيا ہے کيونکہ اللہ تعالی نے اسلام کو عزّت بخشی اور ان لوگوں سے غنی فرماديا اور اسی پر اجماع ہے۔(الھدايۃ،کتاب الزکاۃ، باب من يجوز دفع الصدقۃ إليہ ومن لا يجوز،1/110،دار احیاء التراث العربی)
نفلی صدقے کے متعلق علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:" وَأَمَّا صَدَقَةُ التَّطَوُّعِ فَيَجُوزُ صَرْفُهَا إلَى الْغَنِيِّ؛ لِأَنَّهَا تَجْرِي مَجْرَى الْهِبَةِ".ترجمہ:البتہ نفلی صدقہ غنی کو بھی دیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ دینا ہبہ کی طرح ہوگا۔ (بدائع الصنائع، 2/47،دار الكتب العلمية)
زکوۃ میں تملیک کی بابت جزئیات:
تنویر الابصار میں ہے: "هي تمليك جزء مال عينه الشارع من مسلم فقير غيرهاشمى ولا مولاه مع قطع المنفعة عن الملك من كل وجه لله تعالى ". ترجمہ: زکوۃ شریعت میں اللہ عزوجل کیلئے مال کاایک حصہ جو شرع نے مقرر کیا ہے مسلمان فقیر کو ما لک کر دینا ہے اور وہ فقیر نہ ہاشمی ہواور نہ ہاشمی کا آزاد کردہ غلام، اور اپنا نفع اس مال سے بالکل جدا کر لے۔ (تنویر الابصار ، 3/203-206، دار المعرفۃ بيروت)
علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"(لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد)... أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء".ترجمہ:زکوۃ کا مال مسجد وغیرہ کی تعمیر میں صرف نہیں کیا جاسکتا۔حیلہ یہ ہے کہ وہ فقیر پر صدقہ کرے پھر وہ فقیر کو یہ امور بجا لانے کا حکم دے۔( الدر المختار ، باب المصرف ، 2/344-345)
علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"(قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه".ترجمہ: جس طرح پل بنانا،حوض بنانا،راستوں کو درست کرنا،نہریں کھودنا،حج،جہاد اور ہر ایسا عمل جس میں تملیک نہیں ہوتی۔ (رد المحتار علی الدر المختار ، باب المصرف ، 2/344)
مزید علامہ حصکفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم".ترجمہ: اگر کسی یتیم کو زکوۃ کی نیت سے کھانا کھلایا تو زکوۃ ادا نہ ہوگی ہاں اگر وہ کھانا اس کے سپر د کر دے تو ادا ہوگئی۔(الدر المختار،کتاب الزکاۃ،2/257،دار الفکر)
مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:’’مباح کر دینے سے زکوۃ ادانہ ہوگی ، مثل فقیر کو بہ نیت زکوۃ کھانا کھلا دیاز کو ۃ ادا نہ ہوئی کہ مالک کر دینا نہیں پایا گیا ، ہاں اگر کھانا دے دیا کہ چاہے کھائے پالے جائے تو ادا ہوگئی ‘‘۔ (بہار شریعت،1/874، مكتبۃ المدينہ)
مجددِ اعظم امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ زکوۃ کا رکن تملیکِ فقیر ہے جس کام میں فقیر کی تملیک نہ ہوکیسا ہی کارِحسن ہو جیسے تعمیرِ مسجد یا تکفینِ میّت یا تنخواہِ مدرسانِ علمِ دین، اس سے زکوۃ نہیں ادا ہوسکتی‘‘۔(فتاوی رضویہ ،10/270،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
شرعی فقیر کی وکالت سے غیر ممکن التملیک مصرف میں زکوۃ کا جواز:
علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"(قوله: فيجوز لو بأمره) أي يجوز عن الزكاة على أنه تمليك منه والدائن يقبضه بحكم النيابة عنه ثم يصير قابضا لنفسه".ترجمہ:زندہ شرعی فقیر کے دَین( قرض )کو، اس کی اجازت سے ادا کرنا ، جائزہے ، یعنی زکوۃ کے طور پر جائز ہوجائے گا ، اس بناء پر کہ اس ( زکوٰۃ دینے والے) کی طرف سے مالک بنانا پایا گیا اور قرض خواہ نیابت کے طور پر مقروض کی طرف سے قبضہ کرے گا، پھر ( گویا کہ ) یہ مقروض کا اپنا قبضہ کرنا ہی شمار ہو گا۔(رد المحتار علی الدر المختار،2/345،دار الفکر)
ادارے کا وصولیِ زکوۃ کے وکیل بننے کی بابت جزئیہ:
رد المحتار میں ہے:"فَلَوْ كَانُوا مُتَعَدِّدِينَ لَا بُدَّ أَنْ يَبْلُغَ لِكُلِّ وَاحِدٍ نِصَابًا لِأَنَّ مَا فِي يَدِ الْوَكِيلِ مُشْتَرَكٌ بَيْنَهُمْ، فَإِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، وَمَا فِي يَدِ الْوَكِيلِ بَلَغَ نِصَابَيْنِ لَمْ يَصِيرُوا أَغْنِيَاءَ فَتُجْزِي الزَّكَاةُ عَنْ الدَّفْعِ بَعْدَهُ إلَى أَنْ يَبْلُغَ ثَلَاثَةَ أَنْصِبَاءَ إلَّا إذَا كَانَ وَكِيلًا عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ بِانْفِرَادِهِ، فَحِينَئِذٍ يُعْتَبَرُ لِكُلِّ وَاحِدٍ نِصَابُهُ عَلَى حِدَةٍ، وَلَيْسَ لَهُ الْخَلْطُ بِلَا إذْنِهِمْ؛ فَلَوْ خَلَطَ أَجْزَأَ عَنْ الدَّافِعِينَ وَضَمِنَ لِلْمُوَكِّلِينَ". ترجمہ:پس اگر متعدد فقیر ہوں تو ضروری ہے کہ ہر ایک کا حصہ مکمل نصاب کو پہنچے کیوں کہ جو کچھ وکیل کے ہاتھ میں ہے ان مؤکلوں کے مابین مشترک ہے۔پس اگر مؤکلین تین ہوں اور وکیل کے پاس جو زکوۃ ہے وہ دو نصابوں کو پہنچتی ہے تو وہ سب اغنیا نہیں ہوں گے،پس اس کے بعداگر( کسی نے مزید زکوۃ دی تو)ادا ہو جائے گی جب تک کہ کل رقم تین نصابوں کو نہ پہنچ جائے۔ مگر جب ہر کی جانب سے الگ الگطور پر وکیل بنا تو اس صورت میں ہر ایک کے نصاب کا الگ الگ اعتبار کیا جائے گا ۔اور ان کی اجازت کے بغیر مالِ زکوۃ کو ملانا جائز نہیں ہو گا ۔پس اگر خلط ملط کر دیا تو مزکین (زکوۃ دینے والوں) زکوۃ ادا ہو جائے گی۔اور یہ وکیل مؤکلین کو ضمان دے گا ۔(رد المحتار کتاب الزکوۃ ، 2/269،دار الفکر بیروت)
حیلہ شرعیہ کی بابت جزئیات:
حیلہ کے طریقے کے متعلق فتاوٰی ہندیہ میں ہے:"وَالْحِیلَۃُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِمِقْدَارِ زَکَاتِہِ) عَلَی فَقِیرٍ، ثُمَّ یَأْمُرَہُ بَعْدَ ذَلِکَ بِالصَّرْفِ إلَی ہَذِہِ الْوُجُوہِ فَیَکُونَ لِلْمُتَصَدِّقِ ثَوَابُ الصَّدَقَۃِ وَلِذَلِکَ الْفَقِیرِ ثَوَابُ بِنَاء ِ الْمَسْجِدِ وَالْقَنْطَرَۃِ ".ترجمہ:حیلہ کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی زکوٰۃ کی مقدار کسی فقیر کو دے، پھر اسے اِن وجوہ پر خرچ کرنے کو کہے، اس طرح صدقہ کرنے والے کو صدقہ کا ثواب اور اس فقیر کو تعمیرِ مسجد اور تعمیرِ پُل کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔( فتاوی عالمگیریہ کتاب الحیل لفصل الثالث فی مسائل الزکوۃ جلد 6ص445)
فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہے:"وهي ما يتوصل به إلى مقصود بطريق خفي وهي عند العلماء على أقسام بحسب الحامل عليها فإن توصل بها بطريق مباح إلى إبطال حق أو إثبات باطل فهي حرام".ترجمہ: حیلہ یہ ہے کہ جائز طریقے سے کسی مقصود تک پہنچنا۔ اور علماء کے نزدیک حیلہ کرنے والے کے اعتبار سے اس کی کئی اقسام ہیں: پس اگر جائز طریقے سے غیر کے حق ( خواہ اللہ کا حق ہو جیسے زکوۃ یا بندے کا حق)کو باطل یا باطل چیز (مثلاًسود، رشوت، پگڑی وغیرہ)کو حاصل کرنے کے لئے کیا جائے حرام ہے۔(فتح الباری لابن حجر،کتاب الحیل،12/326،دار المعرفۃ)
بلاضرورت شرعی حیلہ شرعی کرنا مسلمان فقیر اور مستحق ِزکوۃ کا حق باطل کرنا ہے جیسا کہ فتح الباری میں اسی صفحہ پر ہے:"وَإِنْ كَانَتْ لِإِبْطَالِ حَقِّ مُسْلِمٍ فَلَا بَلْ هِيَ إِثْمٌ وَعُدْوَانٌ".ترجمہ: اگر حیلہ شرعی سے کسی مسلمان کا حق باطل کرنا ہو تو یہ جائز نہیں بلکہ یہ گناہ اور زیادتی ہے۔(فتح الباری لابن حجر،کتاب الحیل،12/326،دار المعرفۃ)
قربانی کی کھالوں میں حیلہ شرعی کی حاجت نہیں،چنانچہ فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:’’چرم قربانی بغیر حیلہ شرعی کے مدرسہ میں دے سکتے ہیں اس لئے کہ چرم قربانی میں تملیک شرط نہیں‘‘۔(فتاوی فیض رسول،1/493،شبیر برادرز لاہور)
نوٹ :
آپ کا ادارہ فلاحی ادارہ ہے ،جس میں زکوۃ کے ساتھ ساتھ ،صدقاتِ واجبہ و نافلہ کے مسائل آئے روز آئیں گے،جن کو سمجھنا، اور ان کا حل نکالنا ہر کس و ناکس کی بات نہیں ۔ آپ کوادارے کے تمام تر شرعی معاملات میں رہنمائی کے لیے ایک مستند ،سنی مفتی کو بطور شرعی ایڈوائزر رکھنا ضروری ہو گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:26 ذوالحجۃ 1444 ھ/15جولائی 2023ء