makan mein ishtirak aur walidain se husn e sulook
سوال
میرا ایک بیٹا شادی شدہ ہے، اس نے ایک مکان خریدا جس میں زیادہ ترپیسے بیٹے نے دیئےمکان ایک کروڑ تیس لاکھ کا تھا۔ اس میں صرف بیس لاکھ ہمارے تھے باقی بیٹے کے۔ میں میرا شوہر اور ایک بیٹا جو کہ ابنارمل ہےایک فلور پر رہتے ہیں جبکہ اس گھر کے تین فلور ہیں۔ بیٹے اور اسکی بیوی کا تقاضا ہے کہ یہ مکان مکمل طور پر بیٹے کے نام کردیا جائے ، انکا کہنا ہے کہ اگر آپ نے نام نہیں کیا اور ایسے ہی انتقال ہوگیا تو اللہ کے گھر آپکو جواب دینا ہوگا۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم نے انکے نام کردیا تو بعد میں ہمیں کہیں اور نہ جانا پڑ جائے اور اس مکان کا یک فلور ہم نے کرائے پر دے رکھا ہے جس سے ہم اپنا گھر وغیرہ چلاتے ہیں بعد میں ہم کیسے گزارا کریں گے ؟ کیا بیٹے کے مکان میں یا اس پر والدین کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ۔ ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں تاکہ بروزِ حشر عذاب سے بچ سکیں۔
سائل: : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
چونکہ مکان کی کل رقم بیٹے نے ادا نہیں کی بلکہ کل رقم کا بعض والدین نے ادا کیا ہے لہذا جس قدر رقم والدین نے ادا کی وہ اس مکان میں اس رقم کی بقدر حصہ کے مالک ہیں۔لہذا بیٹے یا اسکی بیوی کا یہ تقاضا کہ یہ مکان مکمل انکے نام کردیا جائے ، درست نہیں ہے کہ وہ کل کا مالک نہیں ہے البتہ اسے اتنا اختیار حاصل ہے کہ جتنی رقم والدین نے اداکی وہ انہیں ادا کرکے کل مکان کا مالک بن جائے بعد ازاں اپنے نام کرواسکتا ہے۔ یہ تو بات تھی دونوں کے حصہ کے اعتبارسے اس مکان کا حکم۔
مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )
بیٹے کو والدین کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیارنہیں کرنا چاہیے، بلکہ بہتر یہ ہے کہ اگروالدین کا گزر بسر ہو بھی رہا ہے اور بیٹا صاحبِ حیثیت و صاحبِ استطاعت ہے تو ایک فلور مکمل والدین کی ملک کردے ، کہ والدین نے اسے پالا ، پڑھایا ، بڑا کیا حتٰی کہ یہ اسکی اپنے قدموں پر کھڑا ہوگیا۔ اسکے اس عمل کی برکت سے اللہ تعالٰی دین و دنیا کی برکتیں نصیب فرمائے گا۔
ہاں۔۔۔۔! اگر والدین محتاج ہیں اور ان کے نان و نفقہ کے لئے کوئی متبادل انتظام بھی نہ ہو، تو اس صورت میں والدین کا نفقہ بالغ مالدار اور صاحبِ حیثیت اولاد پر واجب ہوگا۔ جیساکہ ہندیہ میں ہے: وعلی الرجل المرسر أن ینفق علی أبویہ إذا کانوا فقراء۔ترجمہ: اورمالدار بیٹے پراسکے والدین کا خرچہ لازم ہے جبکہ وہ تنگدست ہوں۔
والدین سے حسن سلوک کو اسلام نے اپنی اساسی تعلیم قرار دیا ہے۔اور ان کے ساتھ مطلوبہ سلوک بیان کرنے کے لئے ''احسان'' کی جامع اصطلاح استعمال کی جس کے معانی کمال درجہ کا حسن سلوک ہے۔
ہرمرداورعورت پراپنےماں باپ کےحقوق اداکرنافرض ہے۔والدین کےحقوق کےبارےمیں قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے : وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُھُمَا أَوْ کِلاَھُمَا فَلاَ تَقُل لَّھُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْھَرْھُمَا وَقُل لَّھُمَا قَوْلاً کَریْمًا،وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِي صَغِیرًا۔ترجمہ:اورآپ کے رب نے حکم فرما دیا ہےکہ تم اللہ کےسوا کسی کی عبادت مت کرواوروالدین کےساتھ حسنِ سلوک کیا کرو،اگرتمہارے سامنےدونوں میں سےکوئی ایک یا دونوں بڑھاپےکوپہنچ جائیں توانہیں ''اف''بھی نہ کہنااورانہیں جھڑکنا بھی نہیں اوران دونوں کےساتھ بڑےادب سے بات کیا کرواور ان دونوں کےلئے نرم دلی سے عجزو انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے رہو اے میرے رب!ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے)پالا تھاo''(الاسراء، 17: 23 – 24)
والدین کی خدمت و اطاعت اور تعظیم و تکریم عمر کے ہر حصے میں واجب ہےبوڑھے ہوں یا جوان، لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت سے ہے کہ اس عمر میں جاکر ماں باپ بھی بعض مرتبہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور عقل و فہم بھی جواب دینے لگتی ہے اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔ وہ خدمت کے محتاج ہوجاتے ہیں تو ان کی خواہشات و مطالبات بھی کچھ ایسے ہوجاتے ہیں جن کا پورا کرنا اولاد کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لئے قرآن حکیم میں والدین کی دلجوئی اور راحت رسانی کے احکام دینے کے ساتھ انسان کو اس کا زمانہ طفولیت (یعنی بچپن کا زمانہ) یاد دلایا کہ کسی وقت تم بھی اپنے والدین کے اس سے زیادہ محتاج تھے جس قدر آج وہ تمہارے محتاج ہیں تو جس طرح انہوں نے اپنی راحت و خواہشات کو اس وقت تم پر قربان کیا اور تمہاری بے عقلی کی باتوں کو پیار کے ساتھ برداشت کیا اب جبکہ ان پر محتاجی کا یہ وقت آیا تو عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ ان کے ان سابق احسان کا بدلہ ادا کرو۔
جس طرح قرآن حکیم میں والدین کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے اسی طرح کئی احادیثِ مبارکہ میں بھی والدین کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔چناچہ صحیح مسلم میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ» ، قِيلَ: مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ»حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ناک غبار آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو (یعنی ذلیل و رسوا ہو)کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون ہے؟ حضور نے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔(مسلم، الصحیح، کتاب البر و الصلۃ، باب رعم أنف من أدرک أبویہ، 4: 1978، رقم: 2551 )
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کی خدمت کرنے کو جہاد سے افضل قرار دیا۔ صحیح بخاری میں ہے:عن عَبْد اللَّهِ بْن عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الجِهَادِ، فَقَالَ: «أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ»ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شریک جہاد ہونے کی اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا، آپ نے اس سے دریافت کیا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں زندہ ہیں آپ نے فرمایا فَفِيْھَا فَجَاِھد یعنی بس اب تم ماں باپ کی خدمت میں رہ کر جہاد کرو یعنی ان کی خدمت سے ہی جہاد کا ثواب مل جائے گا۔ (بخاری الصحیح، 3: 1094، رقم: 2842 )۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب