میں تمہیں طلاق دے دوں گا

    main tumhein talaq de doon ga

    تاریخ: 11 اگست، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 1717

    سوال

    مجھے میرے شوہر نے کہا: میں تجھے طلاق دے دوں گا، میں نے آپ کو نہیں رکھنا ،ان الفاظ کو کئی مرتبہ ادا کیا اور ان کے مطابق ان الفاظ سے مجھے ڈرانا اور دھمکانا مقصد تھا، اور یہی بیان شوہر کا بھی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ان الفاظ سے طلاق ہو گئی یا نہیں۔

    جبکہ ان کی دوسری بیوی سیدہ بتول بخاری موقع پر موجود تھی وہ کہتی ہیں کہ: میرے شوہر نے پہلی بیوی کو کہا کہ"تم میری طرف سے فارغ ہو" اور میں تجھے طلاق دے دوں گا، میں نے یہ الفاظ ایک یا دو مرتبہ سنے تھے ۔

    سید مجتبیٰ بخاری (کزن شوہر و بیوی کے)کہتے ہیں کہ: میں بعد میں گھر آیا تو میں نے ان سے پوچھا کیا معاملہ ہوا ہے تو شوہر نے کہا" میں اپنی بیوی کو فارغ کر چکا ہوں "میں نے دو تین دفعہ پوچھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہو تو اس نے وہی جواب دیا کہ میں اپنی بیوی کو فارغ کر چکا ہوں۔

    سید حذیفہ(کزن شوہر و بیوی کے )علی کہتے ہیں کہ: میں اور سید مجتبیٰ ایک ہی ساتھ تھے یہی الفاظ اس نے کہے کہ" میں اپنی بیوی کو فارغ کر چکا ہوں" دو دفعہ پوچھا اور دونوں دفعہ یہی جواب ملا۔

    آپ سے اس تمام مسئلہ میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔

    سائلہ:تسلیم اختر(بیوی)


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آپ کے ذکر کردہ مسئلے میں آپ کو ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ۔ اس طلاق کے بعد عدت ( اگر حیض والی ہے تو تین حیض ،اگر حمل ہوتو وضع حمل، اگر شوہر فوت ہوجائے تو چارمہینے دس دن ،اگر 9 برس سے کم عمر ہے کہ حیض نہیں آتا یا بڑی عمر ہے کہ حیض آنا بند ہوگیا تو تین مہینے عدت ہے) گزرنے سے پہلے تک آپ کے شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار ہے، اگر شوہر نےعدت گزرنے سے پہلے رجوع کرلیا تو نکاح برقرار رہے گا، لیکن اگرشوہر نے عدت گزرنے سے پہلے رجوع نہیں کیا تو عدت کی مدت پوری ہوتے ہی نکاح ختم ہو جائے گا پھر رجوع کرنا جائز نہیں ہوگا،تاہم عدت گزرنے کے بعد اگر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نئے سرے سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب وقبول کے ساتھ نکاح کرنا ہو گا، اور دونوں صورتوں میں آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔

    تفصیل مسئلہ:

    سید اشفاق بخاری نے اپنی بیوی سے کہا: ’’میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔‘‘ ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ شوہر نے طلاق کا ایقاع (واقع کرنا) نہیں کیا ۔جب کہ وقوع طلاق کیلئے ایقاع(واقع کرنا) شرط ہے۔ ، جبکہ مذکورہ الفاظ محض وعدۂ طلاق پر مشتمل ہیں، اور وعدۂ طلاق سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

    جبکہ ان کی دوسری بیوی کے مطابق اشفاق احمد نے یہ الفاظ کہے: ’’تم میری طرف سے فارغ ہو‘‘ اور ’’میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔‘‘ یہ ان کا دعویٰ ہے، اور اصول یہ ہے کہ دلیل مدعی کے ذمے ہوتی ہے، اور اگر اس کے پاس دلیل نہ ہو تو مدعیٰ علیہ سے قسم لی جاتی ہے۔ اس معاملے میں اشفاق احمد کی بیوی کے پاس اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل نہیں، لہٰذا اشفاق احمد سے قسم لی گئی۔ اس بنا پر اس کی بات کو معتبر مانتے ہوئے، اس معاملے کی حد تک طلاق واقع نہیں ہوگی۔

    یاد رکھا جائے کہ اقرارِ طلاق سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ شوہر کے یہ الفاظ: ’’میں اپنی بیوی کو فارغ کر چکا ہوں‘‘ اقرارِ طلاق ہیں، اور یہ اقرار اس نے دو شخصوں کے سامنے کیا ہے، اس لیے اس سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے۔

    تاجُ الفقہاء استاذ محترم مفتی محمد وسیم اختر المدنی صاحب فرماتے ہیں کہ " میں نے تمہیں فارغ کیا" یا "تم میری طرف سے فارغ ہو" وغیرہم انکی وضع طلاق کے لیے نہیں ہے، اس لیے فقہائے کرام نے انکوکنایہ میں شمار فرمایاتھا لیکن موجودہ دور میں پاکستان کے اکثر شہروں میں یہ الفاظ طلاق کے لیے کثیرالاستعمال ہونے اورعرف وعادت کی وجہ سے ملحق بالصریح ہیں۔کیونکہ آجکل جب کوئی یہ الفاظ اپنی بیوی کوبولتاہے تو بغیرکسی قرینہ خارجیہ کے متبادرالی الفہم طلاق کے معنی ہی ہوتے ہیں۔ (ماخوذ ازوسیم الفتاوی،غیر مطبوعہ)

    دلائل و جزئیات:

    مدعی کے ذمہ دلیل اور مدعی علیہ پر قسم ہوتی ہے، جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے:عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّﷺ قَالَ: «الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. ترجمہ:حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"دعویٰ کرنے والے پر دلیل (گواہی) دینا لازم ہے، اور جس پر دعویٰ کیا گیاہے اُس پر قسم ہے.(مشکاۃ المصابیح:کتاب الامارۃ والقضاء،باب الاقضیۃ والشھادۃ۔حدیث:3769)

    ثبوتِ طلاق کے لیے شوہر کا اقرار یا گواہ ضروری ہیں ، طلاق کے ثبوت کے لیے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے، جیسا کہ مبسوط سرخسی میں ہے:وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - يَقُولُ: شَرْطُ الطَّلَاقِ إذَا كَانَ لَا يَثْبُتُ إلَّا بِالشَّهَادَةِ فَلَا بُدَّ فِيهِ مِنْ شَهَادَةِ رَجُلَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ كَسَائِرِ الشُّرُوطِ ترجمہ: طلاق کی جو شرط ہو، اگر وہ صرف گواہی کے ذریعے ہی ثابت ہو سکتی ہو، تو اس میں لازماً دو مردوں کی گواہی یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے، جیسے دیگر شرائط میں ہوتا ہے۔(کتاب الطلاق:باب ما لا یقع فیہ الطلاق علی المراۃ،جلد:6،ص106دار المعرفة بيروت لبنان)

    طلاق کا جھوٹا اقرار کرنے سے بھی قضاءً طلاق واقع ہوجاتی ہے،جیسا کہ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے : ولو أقر بالطلاق کاذبا أو ھازلا وقع قضاءً ترجمہ: اور اگر جھوٹ میں یا مذاق میں طلاق کا اقرار کیا تو قضا ء طلاق واقع ہوجائے گی ۔(رد المحتار علی الدر المختار ، جلد4، کتاب الطلاق ، ص: 428، مطبوعہ :کوئٹہ )

    کنایہ سے طلاق دینے کاعرف ہوجائیگا تو اس سے طلاقِ رجعی ہی واقع ہوگی جیساکہ جدالممتار میں ہے: وَالْحَاْصِلُ أَنَّ اللَّفْظَ إِذَا كَاْنَ مُتَعَيِّناً فِيْ إِفَاْدَةِ مَعْنَى الْبَيْنُوْنَةِ بِنَفْسِ مُؤَدَّاْهُ عِنْدَ إِرَاْدَةِ الطَّلَاْقِ فَهُوَ إِذَا تُعُوْرِفَ فِيْ الطَّلَاْقِ لَمْ يَحْتَجْ إِلَى النِّيَّةِ وَكَاْنَ الْمُرَاْدُ بِهِ الْبَاْئِنُ إِذْ هُوَ الْمَعْنَى الْمُؤَدَّى بِهِ فَتَعَاْرُفُ الطَّلَاْقِ بِهِ تَعَاْرُفُ الْبَاْئِنِ وَبِخِلَاْفِ مَاْ لَاْ يَدُلُّ عَلَى الْبَيْنُوْنَةِ بِنَفْسِ مُؤَدَّى لَفْظِهُ وَإِنْ وَقَعَ بِهِ الْبَاْئِنُ عِنْدَ النِّيَّةِ أَوِ الدَّلَاْلَةِ لِأَجَلِ كَوْنِهِ كَنَاْيَةً فَهُوَ إِذَا تُعُوْرِفَ بِهِ الطَّلَاْقُ لَاْ يَقَعُ بِهِ إِلَّا الرَّجْعِيُّ لِأَنَّ الْبَيْنُوْنَةَ لَمْ تَكُنْ مُؤَدَّى نَفْسِهُ بَلْ لِأَجَلِ كَوْنِهِ كِنَاْيَةً وَقَدْ زَاْلَ بِتَعَاْرُفِ الطَّلَاْقِ بِهِ فَهَذَا هُوَ الْقَوْلُ الْفَصْلُ وَلِلّهِ الْحَمْدُ . ترجمہ :حاصل کلام یہ ہے کہ طلاق کے ارادے کے وقت کسی لفظ کی محض ادائیگی کرناہی بینونت کا معنی دینے کے لیے متعین ہو، تو جب وہ طلاق میں متعارف ہو جائے تو نیت کی محتاجی نہ رہے گی اور اس سے بائنہ ِطلاق ہی مراد ہوگی، کیونکہ اس لفظ سے یہی معنی اداکئے جاتے ہیں، تو اس لفظ سے طلاق کا عرف ہونابائنہ طلاق کا عرف ہو نا ہے، برخلاف اس لفظ کے جس کی محض ادائیگی بینونت پر دلالت نہیں کرتی اگرچہ کنایہ ہونے کی وجہ سے نیت یا دلالتِ حال کے وقت اس سے طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے،تو جب اس سے طلاق دینے کاعرف ہوجائیگا تو اس سے طلاقِ رجعی ہی واقع ہوگی کیونکہ بینونت ہونا محض اس لفظ کو ادا کرنے کے سبب نہیں تھابلکہ اس کے کنایہ ہونے کی وجہ سے تھا،اور اس لفظ کے طلاق کے لیے معروف ہونے کے سبب کنایہ ہونا زائل ہو گیا۔ یہی قولِ فیصل ہے۔اور اللہ ہی کے لیے حمدہے۔ (جدالممتار علی ردالمحتار باب الکنایات، ج:5، ص:130، ادارہ اہلسنۃ ، کراچی)۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: عبدالخالق بن محمد عیسیٰ

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 1447 ھ/15اپریل 2026ء