سوال
لڑکے نے جھگڑے کے دوران دو طلاقیں دیں ، ان الفاظ کے ساتھ ''میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں''۔ رجوع ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کیا حکمِ شرعی ہے، برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
سائل:علی غفار:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مستفسرہ میں عورت کو دو طلاقیں رجعی واقع ہوچکی ہیں جسکے فورا بعد عورت کی عدت شروع ہوچکی ہے۔اور اگران دو طلاقوں سے پہلے کبھی طلاق نہیں دی توعدت کے دوران شرعًا رجوع کر سکتا ہے ۔
دوران عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرتے ہی عورت طلاق بائنہ کے ذریعے اس کے نکاح سے نکل جائے گی۔ اب اگر باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا،اور دونوں صورتوں میں(عدت میں رجوع کرے یا عدت کے بعد نکاحِ جدید کرے) شوہر کوآئندہ صرف ایک طلاق کا اختیار رہے گا۔
وگرنہ عورت کو اختیار ہوگا کہ جہاں چاہے نکاح کرے۔
رجوع طریقہ یہ ہے کہ : عورت اگر ایام ِ عدت(تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور حمل والی کی عدت بچہ جننے تک ہے اور جسے حیض نہ آتا ہو اسکی تین ماہ ہے) میں ہے تو شوہر قول یا فعل سے رجوع کرے،یعنی زبان سے کہے کہ میں نے تم سے رجوع کیا یا بیوی سےازدواجی تعلق قائم کر ے ۔تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: وَتَصِحُّ (بِنَحْوِ رَجَعْتُكِ) (وَ) بِالْفِعْلِ مَعَ الْكَرَاهَةِ(بِكُلِّ مَا يُوجِبُ حُرْمَةَ الْمُصَاهَرَةِ) كَمَسٍّ وَلَوْ مِنْهَا ، أَوْ نَائِمًا (ملخصا) ترجمہ: اور '' میں نے تجھ سے رجوع کیا''جیسے الفاظ کے ساتھ رجوع درست ہے ، اور ہر اس فعل سے بھی رجوع درست ہے جو حرمت مصاہرت ثابت کردے، لیکن مکروہ ہے جیسا چھونا(شہوت کے ساتھ)اگر چہ نیند وغیرہ میں چھوئے۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الطلاق باب الرجعۃ جلد 3 ص 398)
عدت کی تفصیل یہ ہے کہ طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ہے ، اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینےاور اگر عورت حاملہ ہوتو تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔قال اللہ تعالٰی وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرہ 228)
اور دوسری جگہ یوں ارشاد ہوا:والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق :4) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:29 شوال المکرم 1445ھ/ 08 مئی 2024 ء