سوال
میں نے پہلی شادی کی جو رجسٹر ہوئی بعد میں دوسری شادی کی جو شرعی تو تھی لیکن رجسٹر نہ ہو سکی پھر کسی مجبوری کہ تحت دوسری بیوی کو طلاق دے دی جس پر دوسری بیوی نے غصے میں میڈیکل کروا کر میرے اوپر زنا بالجبر کا مقدمہ 292 /395A دائر کر دیا جس کی وجہ سے پولیس نے مجھے اٹھا کر جیل میں بند کر دیا ۔جس پر اس خاتون کی ہم نے منت سماجت کی کہ یہ کیس واپس لو تو اس نے کہا کہ ایک شرط پر لوں گی کہ پہلی بیوی کو تین طلاقیں دو !!
میرے وکیل نے کہا کہ اگر یہ کیس واپس نہیں لیتی تو پھر 25 سال کی قید ہو گی کیوں کہ تمہارے پاس نکاح کا کوئی ثبوت نہیں ۔ اب دوسری بیوی نے مجھے اس زنا کے کیس سے معاف کرنے کے لیے ایک سٹام پیپر پر پہلی بیوی کے لیے طلاق ِثلاثہ کی تحریر پر گواہوں کی موجودگی میں دستخط کروا لیےجو کہ میں نے سزا سے بچنے کے لیے طلاق کے پیپر پر دستخط کیے لیکن نہ میں نے منہ سے بولا نہ میری طلاق کی نیت کی۔ پوچھنا یہ تھا کہ مجبوری کی حالت میں کیے گئے دستخطوں کی وجہ سے کیا پہلی بیوی پر طلاق واقع ہوئی یا نہ ہوئی ؟
نوٹ:اپنے ہوش و حواس میں اپنی زوجیت سے الگ کرتے ہوئے طلاقِ ثلاثہ دیتا ہوں،آج کے بعد مذکوریہ میرے نفس پر حرام ہے آج سے مذکوریہ جہاں چاہے اپنی مرضی سے عقد ثانی کر سکتی ہے
سائل: آصف بشیر ولد بشیر احمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں دستخط کرتے وقت اگر آپکی نیت واقعی طلاق کی نہیں تھی اور طلاق نامہ پر دستخط مجبور ہو کر کیے ،رضامندی سے نہیں کیے تو ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
تفصیلی حکم :
سائل نے جن حالت میں دستخط کیے وہ جبر و اکراہ شرعی کی حالت تھی کیوں کہ اگر دستخط نہیں کرتا تو اسے قید وبند و کی صعوبت برداشت کرنا پڑتی نیز معاشرے میں بد نامی اور عزت کی نیلامی کا معاملہ الگ تھا ، اور یہ چیزیں ایسی ہیں کہ آدمی ان سے بچنے کے لیے نا چاہتے ہوئے اس طرح کا اقدام کر گزرتا ہے ،سو اس طرح کے خوف وہراس میں آ کر ،کسی کے مجبور کرنے پر جو طلاق تحریری صورت میں دی جا ئے اس میں جب تک طلاق کی نیت نہ ہو تو طلاق واقع نہیں ہو تی ۔
رد المحتار میں ہے:فلو اکرہ علی ان کتب طلاق امرأتہ فتکتب لاتطلق لان الکتابہ اقیمت مقام العبارۃ باعتبارالحاجۃ ولاحاجۃھنا۔ترجمہ:ردالمحتار میں بحر کے حوالے سے ہے کہ جبر سے مراد لفظ طلاق کہنے پر جبر کیا گیا ہو، اور اگر اس کو اپنی بیوی کو طلاق لکھنے پر مجبور کیا گیا تو اس نے مجبور ہوکر لکھ دی تو طلاق نہ ہوگی، کیونکہ کتابت کو تلفّظ کے قائم مقام حاجت کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور یہاں اس کی حاجت نہیں ہے۔(ردالمحتار کتاب الطلاق جلد03صفحہ 236۔دار الفکر بیروت)
فتاوی ہندیہ (جلد1 صفحہ ،379دار الکتب العلمیہ)میں فتاوی قاضی خان سے منقول ہے واللفظ للقاضی خان:رجل اکرہ بالضرب والحبس علی ان یکتب طلاق امرأ تہ فلانۃ بنت فلان ابن فلان فكتب امرأتہ فلانۃ ابن فلان ابن فلان طالق لا تطلق امرأتہ لان الکتابۃ اقیمت مقام العبارۃ باعتبار الحاجۃ ولا حاجۃ ھھنا۔ترجمہ:ایک شخص کو مار یا قید کے ذریعے مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی بیوی فلانہ بنت فلاں بن فلاں کو طلاق دے پس اس نے اپنی بیوی فلانہ بن فلاں بن فلاں کو طلاق لکھ دی تو اس کی بیوی کو طلاق نہیں ہو گی کیوں کہ کتابت حاجت کی وجہ سے تلفّظ کے قائم مقام ہوتی ہے اور یہاں پر ایسی کوئی حاجت نہیں۔(فتاوی قاضی خان ،کتاب الطلاق ،جلد 02 صفحہ 419،قدیمی خانہ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : مگر یہ سب اس صورت میں جبکہ اکراہ شرعی ہوکہ اُس سے ضرر رسانی کااندیشہ ہوا اور وُہ ایذاء پر قادر ہو ۔(فتاوی رضویہ،جلد17 ،صفحہ 385رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ علیہ الرحمہ در مختار کے حوالہ سے لکھتے ہیں دو ایک کوڑا مارنا ضرب شدید نہیں ہے مگر آلات تناسل اور آنکھ پر مارنا کہ ان پر ایک کوڑا مارنا بھی ضرب شدید ہے۔ حَبْس مدیدیہ کہ ایک دن سے زیادہ ہو۔ ذی عزت آدمی کے لیے ضرب غیر شدید اور حبس غیر مدید میں وہی صورت ہے جو اوروں کے لیے ضرب شدید میں ہے۔
فتاوی نوریہ میں سوال کیا گیا : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مبین و مفتیان شرع متین اندرین مسئلہ کہ زید سےایک مجلس میں مجبور کر کے ایک لکھے ہوئے طلاق نامہ پر انگوٹھا لگوا لیا حالانکہ زید نہ اس سے پہلے طلاق دینے پر رضا مند تھا، نہ بعد میں رضا مند ہوا بلکہ جس وقت نشان انگوٹھے لگوایا گیا، اس وقت بھی انکار کرتا رہا مگر نمبر داردیہ نے ڈرایا اور زد و کوب پر آمادگی ظاہر کی اور باہر نکلنے کے راستے اپنے ملازمین سے بند کروائے، ناچار زید نے طلاق نامہ پر اپنا انگوٹھے لگا دیا لیکن زبانی صراحتہ یا کنایہ زید نے طلاق نہیں دی بلکہ انکار ہی کرتا رہا، آیا یہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں، اگر ہوئی تو غیر مدخول بہا کے حق میں کونسی ہوئی ؟ بینوا توجروا عند الله العظيم۔ اس کے جواب میں حضرت علامہ مفتی ابو الخیر محمد نوراللہ نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : اگر صورت سوال صحیح ہے اور واقعی زیدانکار طلاق کرتا رہا اور جبرا انگوٹھ لگوایا گیا تو طلاق واقع نہیں ہوئی ،
فتاوی عالمگیر میں ہے: رجل اكره بالضرب الضرب والحبس على ان يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان نكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضی خان عالمگیری ج ۲ ص ۶۴۱۶۳) والله تعالى اعلم وعلمه جل مجده اتم واحكم وصلى الله تعالى على حبيبه واله واصحابه وبارك وسلم(فتاوٰ ی نوریہ ،جلد:3،صفحہ:160،دار العلوم حنفیہ فریدیہ بصیر پور ضلع اوکاڑہ)
امام اہلسنت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : اگر کسی کے جبر واکراہ سے عورت کو خطرہ میں طلاق لکھی یا طلاق نامہ لکھ دیا اور زبان سے الفاظِ طلاق نہ کہے تو طلاق نہ پڑے گی۔(فتاوی رضویہ،جلد17 ،صفحہ 385رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاوی فیض الرسول میں ہے:کمرہ میں بند کرنے پر اکراہ شرعی پایا گیا یعنی زید کو ضرر رسانی کا اندیشہ ہوا اور اس نے بند کرنے والوں کو ضرر پر قادربھی سمجھا اس صورت میں اگراس نے طلاق نامہ پر انگوٹھا لگا دیا مگر نہ دل میں طلاق دینے کا ارادہ کیا اور نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا تو طلاق واقع نہ ہوئی۔(فتاوی فیض الرسول جلد 02،صفحہ 117 شبیر برادرز) واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 21 جمادی الثانی 1447ھ/13نومبر2025ھ