commission lena kaisa aur is ka hukum
سوال
میں ایک کارخانہ والے کو ایک جگہ سےگارمینٹس کا کام دلواؤں اور اس کام میں کسی بھی نوعیت کا حصہ(جیسے وقت دینا اور سپلائی کرنا)ڈالوں پھر اسکے عوض فی پیس پر کچھ رقم بطور معاوضہ لوں ،تو یہ صورت شرعا جائز ہے یا نہیں؟
سائل :نور عالم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر کوئی شخص اپنے عمل یا خدمت کا معاوضہ لینا چاہے تو یہ جائز ہے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ جتنا معاوضہ ہے اسکی مقدار معلوم ہو، اور اس شخص نےاس چیز کی خریداری یا فروخت میں کسی طرح کا عمل بھی کیا ہو ، نیز اس میں کسی طرح کی دھوکہ بازی کا عنصر شامل نہ ہو۔چناچہ بخاری شریف میں ہے :وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لاَ بَأْسَ أَنْ يَقُولَ: بِعْ هَذَا الثَّوْبَ، فَمَا زَادَ عَلَى كَذَا وَكَذَا، فَهُوَ لَكَ " وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: " إِذَا قَالَ بِعْهُ بِكَذَا، فَمَا كَانَ مِنْ رِبْحٍ فَهُوَ لَكَ، أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، فَلاَ بَأْسَ بِهِ۔ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا: اس میں حرج نہیں کہ کوئی کسی کو کہے یہ کپڑا اس قیمت پربیچ دو،پھر جو اس سے زائد ہو وہ تمہارا ہے ۔ علامہ ابن سیرین نے فرمایا ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ یہ چیز اتنے میں بیچ دو اور(اس سے زیادہ )جو نفع ملے وہ تمہارا ہے یا ہم دونوں نصف نصف کے حق دار ہوں گے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔(صحیح البخاری کتاب الاجارہ باب اجرۃ السمسرۃ ج 3ص92)
یوں ہی شامی میں ہے: قَالَ فِي الْبَزَّازِيَّةِ: إجَارَةُ السِّمْسَارِ تَجُوزُ لِمَا كَانَ لِلنَّاسِ بِهِ حَاجَةٌ (ملخصا)ترجمہ: بزازیہ میں فرمایا کہ کمیشن کی فیس جائز ہے کیونکہ لوگوں کی اسکو حاجت ہے۔(رد المحتار علی الدرالمختار باب الاجارہ الفاسدۃ جلد 6ص 47)
نیز فی زمانہ کمیشن بننا ،بنانا ایک مستقل پیشہ اختیار کرچکا ہے ،گویا اسکو عرف عام کی سی حیثیت حاصل ہوچکی ہے لہذا اسکی اجرت جائز ہے۔علامہ شامی شرح عقود رسم المفتی میں فرماتے ہیں:والعرف فی الشرع لہ اعتبار ۔۔۔۔۔۔۔لذا علیہ الحکم قد یدارترجمہ: شریعت میں عرف کا اعتبار ہے۔۔۔۔۔۔ اسی لیے اس پر حکم کا مدار ہے ۔( شرح عقود رسم المفتی ص 13،البشرٰی)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:3ذوالحجہ 1439 ھ/15اگست 2018 ء