شوبز کے کام سے تعلق رکھنے والے شخص کو مکان کرائے پر دینا اور پرائز بونڈز خریدنے کا حکم

    showbiz ke kaam se talluq rakhne wale shakhs ko makan kiraye par dena aur prize bondz khareedne ka hukm

    تاریخ: 17 جولائی، 2026
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 1637

    سوال

    1:۔ ایک مکان ہے جو کہ میں نے کرائے پر دیا ہوا ہے، اسکے دو پورشن ہیں ، جس میں سے ایک پارٹی شیعہ اور دوسرے میں شوبز کے کام سے تعلق رکھنے والی پارٹی ہے یعنی وہ ایڈ وغیرہ بناتی ہے، ان دونوں سے جو کرایہ آرہا ہے وہ میرے لیے جائز ہے یا نہیں ؟

    2:۔اوریہ ہے کہ میں پرائز بونڈ خریدتا رہتا ہوں جس میں میرے انعام وغیرہ بھی نکلتے ہیں ؟ اس سے نکلنے والا منافع جائز ہے یا نہیں؟

    سائل:محمد اقبال ولد محمد عیسٰی :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:۔ مکان یا دوکان کرائے پردینا جائز ہے اگر چہ یہ بات بیان نہ کی گئی ہو کہ دوکان میں کیا کام کرے گااور گھر میں کون رہائش اختیار کرے گا، تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:(تَصِحُّ) (إجَارَۃُ حَانُوتٍ) أَیْ دُکَّانٍ وَدَارٍ بِلَا بَیَانِ مَا یُعْمَلُ فِیہَا) لِصَرْفِہِ لِلْمُتَعَارَفِ۔ترجمہ:دکان اور گھر کو کرایہ پر دینا جائز ہے،اگر چہ اس میں یہ بات بیان نہ کی گئی ہو کہ دکان میں کیا کام کرے گا ، کیونکہ ایسا کرنا معروف ہے۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الاجارۃ باب ما یجوز من الاجارۃ جلد 9ص37)

    تو جب اجارہ جائز ہوا تو اسکی اجرت بھی جائز ہوگی ، لیکن جس مال سے اجارہ دیا جارہا ہے اس مال کا بعینہ حرام ہونا معلوم ہو اس سے اجرت لیناجائز نہیں ہے، جیسے کرائے پر دینے والے کو معلوم ہے کہ یہ کرایہ عین حرام شئی سےحاصل کرکے دیا جارہاہےتو اب یہ کرایہ لینا جائز نہ ہوگا۔

    سیدی اعلیٰ حضرت سے سوال کیا گیا کہ حرام کمائی والوں کو مکان اجارہ پر دینا اور انکے مال سے کرایہ وصول کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ آپ جواباََارشاد فرماتے ہیں :''یہاں دو مقام ہیں، اول یہ کہ ان لوگوں کو سکونت کے لئے مکان، زراعت کے لئے زمین کرایہ پر دینا جائز ہے یانہیں؟ دوم برتقدیر جواز ان کے مال سے اجرت لینا کیسا؟۔ اول(اجارہ پر دینا) کا جواب جواز ہے کہ اس نے تو سکونت وزراعت پر اجارہ دیاہے نہ کسی معصیت پر اور رہنا ،بونا فی نفسہٖ معصیت نہیں۔ اگر چہ وہ جہاں رہیں معصیت کریں گے، جو رزق حاصل کریں معصیت میں اٹھائیں گے، یہ ان کا فعل ہے جس کا اس شخص پر الزام نہیں۔ لاتزر وا زرۃ وزرا خری قلت وبہ ظہر ان المسئلۃ ینبغی ان تکون علی الوفاق بین الامام وصاحبیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم وھوالمستفاد من کلمات العلماء ۔(ترجمہ) کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی میں کہتاہوں اس سے ظاہر ہواکہ یہ مسئلہ امام صاحب اور صاحبین کے مسلک کے موافق ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم، اور علماء کے کلام سے یہی مستفاد ہے۔ردالمحتار میں ہے زیر قول در مختار: جاز اجارۃ بیت سواد الکوفۃ لیتخذ بیت نار اوکنیسۃ اوبیعۃ اویباع فیہ الخمر وقالا لاینبغی ذٰلک۔ زیلعی ملخصا۔ (ترجمہ) کوفہ کی آبادی میں ذمی کو مکان کرایہ پر دینا تاکہ وہ آتشکدہ یا گرجا، عبادت خانہ بنائے یا شراب فروخت کرے تو جائز ہے، صاحبین نے فرمایا، یہ مناسب نہیں ہے۔یہ جواب ِِفقہ ہے باقی دیانۃً اس میں شک نہیں کہ جس کی سکونت سے مسلمانوں کے عقائد یا اعمال میں فتنہ وضلال کا اندیشہ وخیال ہو اسے جگہ دینا معاذاللہ مسلمانوں کو فتنہ پر پیش کرنا ہے،تو یحبون ان تشیع الفاحشۃ (وہ چاہتے ہیں کہ فحاشی پھیلے۔)حقیقۃ نہ سہی اس کی طرف منجر(لے جانے والی )ہے۔ وانما الدین النصح لکل مسلم دین تو یہی ہے کہ سب مسلمانوں کی خیرخواہی کیجئے وباللہ التوفیق۔''

    دوم کا جواب یہ کہ جس مال کا بعینہ حرام ہونا معلوم ہو اس سے اجرت لیناجائز نہیں، مثلا اجارہ دینے والے کو خبر ہے کہ یہ روپیہ زید نے غصب یاسرقہ، یار شوت یا ہندہ نے زنا یا غنا کی اُجرت یاکسی مسلمان نے خمروخنزیر کی قمت میں حاصل کئے ہیں، تو ان کالینا اسے روانہیں نہ اپنے آتے میں نہ ویسے،فی الہندیۃ عن المحیط عن محمد فی کسب المغنیۃ ان قضی بہ دین لم یکن لصاحب الدین ان یأخذہ۔ ہندیہ میں د محیط سے ہے کہ امام محمد سے منقول ہے کہ مغنیہ عورت کی کمائی سے قرض کی ادائیگی کرنا چاہے تو قرض خواہ کو وہ لینا ناجائز ہے۔

    ورنہ فتوٰی مطلقا جواز پر ہے، یعنی اگر چہ اس کے پاس اموال حرام ہونا یقینی ہو، مگریہ روپیہ کہ اس کرایہ میں دیتا ہے بعینہٖ اس کا حرام ہونا معلوم نہیں تو لینا جائز، اگرچہ اس کا اکثرمال حرام ہی ہو۔ فی الہندیۃ عن الظہیریۃ عن الامام الفقیہ ابی اللیث قال بعضہم یجوز مالم یعلم انہ یعطیہ من حرام قال محمدو بہ نأخذ مالم نعرف شیأا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی واصحابہ ۔ ہندیہ میں ظہیریہ کے حولے سے امام ابولیث سے منقول ہے کہ بعض نے فرمایا جب تک حرام سے ادائیگی کا علم نہیں ہے، اس وقت تک لے سکتاہے امام محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہمارا یہی مختارہے کہ جب تک بعینہٖ حرام ہونے کاعلم نہیں ہے، یہی امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب رحمہم اللہ تعالٰی کا قول ہے۔'' (فتاویٰ رضویہ کتاب الاجارہ جلد 19ص 441 تا 444رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    2:۔ دوسرے سوال کا جواب بھی جواز میں ہے، یعنی پرائز بونڈ خریدنا اور اس پر ملنے والا منافع دونوں جائز و حلال ہیں ۔ بعض علماء کرام نے پرائز بانڈ کے بارے میں اختلاف کیا ہے ،لیکن ہمارے نزدیک پرائز بونڈ لینا جائز ہے اور اس پر ملنے ولا انعام بھی جائز اور حلال ہے ، پرائز بونڈز میں ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں پائی جاتی ۔کیونکہ ناجائز ہونے کے دو اسباب ہو سکتے ہیں ، سوداور جوا اور یہ دونوں اس میں میں نہیں پائے جاتے۔سود اس لیے نہیں پایا جاتا کیونکہ "سود قرض پر متعین اضافہ بطور شرط ہوتا ہے۔ جبکہ 200، 500، 1000 روپے والے بانڈ پر لاکھوں روپے کا انعام نکل آنا یہ سود نہیں ہے بلکہ انعام کی صورت ہے ۔ اور جوا اس لیے نہیں پایا جاتا کیونکہ جوئے میں ساری رقم ڈوب جاتی ہے یا پھر کئی گنا زیادہ آ جاتی ہے۔ یہاں انعام نکلنے یا نہ نکلنے، دونوں صورتوں میں اصل زر محفوظ رہتا ہے۔توناجائز ہونے کے جب دونوں امکان براہ راست موجود نہیں ہیں تو پھر پرائز بانڈز کا لین دین اور اس پر ملنے والے انعام کے ناجائز ہونیکی کوئی ایک وجہ بھی نہ ہوئی لہذا یہ جائز ہے۔ہمارے تمام علمائے اہل السنہ کا یہی موقف ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09 رجب المرجب 1440 ھ/16 مارچ 2019 ء