کرائے پر چیز لے کر آگے زیادہ کرایہ پر دینا
    تاریخ: 9 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 997

    سوال

    ہم لوگوں کا کام یہ ہے کہ ہم ہوٹل کے کمرے ایک سال کے لیے کرائے پر لیتے ہیں پھر جس ریٹ پر لیے ہوتے ہیں اس سے زیادہ ریٹ پر آگے رینٹ پر دیتے ہیں ۔تو کیا ہمارا کرائے پر لی ہوئی چیز کو یوں آگے کرائے پر دینا جائز ہے کہ نہیں ؟بینوا توجروا!!

    سائل:حافظ محمد سلیمان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ہوٹل کے کمرے جس ریٹ پر لیے انہیں اسی ریٹ یا اس سےکم پر آگے فروخت کرنا تو جائز ہے لیکن زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کے لیے درج ذیل تین امور میں سےکوئی ایک کرنا ضرروی ہو گا ورنہ زیادہ قیمت پر دینا جائز نہیں ہو گا۔

    تین امور:

    1۔خلافِ جنس اجارہجس جنس کے عوض کمرہ کرائے پر لیا گیا ، اس کے بجائے کسی دوسری جنس کے عوض آگے کرائے پر دیا جائے۔

    مثلاً:اگر روپوں میں کمرہ کرائے پر لیا ہے تو آگے ڈالر یا دینار میں کرائے پر دے دیا جائے۔یا اگر دینار میں لیا ہو تو آگے روپوں میں دے دیا جائے۔اس صورت میں اختلافِ جنس کی بنا پر زائد لینا جائز ہو جاتا ہے۔

    2۔ کسی دوسری چیز کو شامل کرکے مجموعی اجارہ:کمرے کے ساتھ اپنی طرف سے کوئی اور چیز شامل کر دی جائے، پھر دونوں کے مجموعے پر اجارہ کیا جائے۔مثلاً:کمرے کے ساتھ کوئی اور قابلِ اجارہ جیسے گاڑی وغیرہ شامل کر لی جائے ۔

    3۔ کمرے میں نفع بخش یا ضروری اضافہ (تحسینِ منفعت)اپنی طرف سے کمرے میں کوئی ایسا کام یا اضافہ کر دیا جائے جو اس کی منفعت، معیار یا قیمت کو بڑھا دے، مثلاً:ٹیبل اور کرسیاں،ٹی وی، ریفریجریٹر، گیزر،سی سی ٹی وی کیمرہ،ایئر کنڈیشنر یا دیگر سہولیات ایسی صورت میں زائد کرایہ اس اضافی منفعت کے بدلے شمار ہوگا، لہٰذا جائز ہوگا۔

    مبسوط میں ہے: ”فان اجرها باكثر مما استاجرها به تصدق بالفضل الا ان يكون اصلح منها بناء او زاد فيها شيئا فحينئذ يطيب له الفضل“ یعنی :کسی نے اجارے پر لی ہوئی چیز آگے زائد اجرت پر دےدی، تو اب منافع صدقہ کرے گامگر یہ کہ وہ اس کی عمارت میں کوئی بہتری لائے یا پھر اس میں کسی چیز کااضافہ کر ے، تو اب اس کےلیے زیادتی لیناجائز ہے۔(المبسوط، جلد15، صفحہ130، بیروت)

    درمختار میں ہے: ”ولو اجر باکثر تصدق بالفضل الا فی مسئلتین: اذا اجرھا بخلاف الجنس او اصلح فیھا شیئا“ ترجمہ:اگر کسی نے اجارے پر لی ہوئی چیز زیادہ اجارے پر کسی دوسرے کو دے دی، تو اب وہ منافع صدقہ کرےگا، مگر دو صورتوں میں منافع صدقہ کرنا ضروری نہیں: پہلی صورت جب اس نے خلافِ جنس چیز پر اجارہ کیا یا اس چیز میں کوئی اصلاح کرکے بہتر کیا ہو۔(الدرالمختار، جلد9، صفحہ47، کوئٹہ)

    ردالمحتار میں درج بالا عبارت کے تحت ہے: ”وکذا اذا اجر مع مااستاجر شیئا من مالہ یجوز ان تعقد علیہ الاجارۃ فانہ تطیب لہ الزیادۃ“ ترجمہ:اسی طرح اگر اجارے پر چیز لینے والا شخص اس چیز کے ساتھ اپنی کوئی چیز ملا کر اجارے پر دے دے، تب بھی عقد اجارہ جائز ہے اور اس کے حق میں منافع جائز ہوگا۔(ردالمحتار، جلد9، صفحہ47، کوئٹہ)

    بہار شریعت میں ہے: ”مستاجر نے مکان یا دکان کو کرایہ پر دے دیا، اگر اتنے ہی کرایہ پردیا ہے جتنے میں خو دلیا تھا یاکم پر جب تو خیر اور زائد پر دیا ہے تو جوکچھ زیادہ ہے ،اسے صدقہ کردے۔ہاں اگرمکان میں اصلاح کی ہو اسے ٹھیک ٹھاک کیا ہو تو زائد کا صدقہ کرنا ضرور نہیں یاکرایہ کی جنس بدل گئی مثلاًلیا تھا روپے پردیا ہو اشرفی پر اب بھی زیادتی جائز ہے۔ جھاڑودیکر مکان کو صاف کرلینایہ اصلاح نہیں ہے کہ زیادہ والی رقم جائز ہوجائے اصلاح سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا کام کرے جو عمارت کے ساتھ قائم ہو مثلاًپلاستر کرایا یا مونڈیر بنوائی۔“(بھار شریعت، جلد3، حصہ14، صفحہ124، مکتبۃ المدینہ)

    کرائے پر لی گئی چیز کو آگے کرائے پردے کر اس سےمنافع کمانے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: ” تین صورتوں میں جائز ہے (1) اس کے ساتھ اپنے پاس سے اور کوئی چیز ملا کر دونوں کو مجموعۃ زیادہ پر دے۔(2) اس زمین کو کنواں کھود کریا اور کام نفع کا بڑھاکر کرایہ پر دے۔ (3) کرایہ کی جنس بدل دے، مثلا اس کے پاس دس روپے سال پر ہے یہ ذیلی کو ایک اشرفی کرائے پردے یاجتنی اشرفیاں ٹھہریں یو نہی نوٹ یا پیسہ یا اکنیاں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد20، صفحہ210، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:21شعبان المعظم 1447ھ/10فروری2026ھ