کفالہ اکاؤنٹ میں پیسہ رکھواناکیسا
    تاریخ: 22 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 33
    حوالہ: 428

    سوال

    اسلامی بینک کے کفالہ اکاؤنٹ میں پیسے رکھوا سکتے ہیں؟بینوا توجروا۔

    سائلہ: بنت حواء۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اسلامی بینکوں کے کفالہ اکاؤنٹ میں پیسے رکھوانا جائز ہے۔

    کفالہ اکاؤنٹ مضاربہ اور وکالہ کے بنیادی معاہدوں پر کام کرتا ہے، اور یہ دونوں شرعاً جائز ہیں۔

    مضاربہ میں، صارف کی طرف سے جمع کردہ فنڈز ایک ڈپازٹ پول کے لیے مختص کیے جاتے ہیں، جن کی سرمایہ کاری اسلامی طریقوں سے کی جاتی ہے۔اور وکالہ کے معاہدے کے تحت صارف اس بات سے اتفاق کرتا ہےکہ وہ بینک کو تکافل کوریج کی ادائیگی میں اپنا وکیل (ایجنٹ) مقرر کر رہا ہے جبکہ بینک بطور کلیکٹنگ ایجنٹ اپنا کردار ادا کرتا ہے۔اور تکافل کی بنیاد باہمی امداد ،تعاون ،تناصراور محض نیکی پرہے جس کی قرآن مجید اور احادیث مقدسہ میں بڑی ترغیب وارد ہوئی ہے،جبکہ روایتی انشورنس عقدِ معاوضہ ہو نے کی وجہ سے سود ،قمار(جوئے)،اور غرر(دھوکے) سے مرکب ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

    السنن کبری للبیہقی کی روایت ہے :"أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَكُونُ عِنْدَهُ مَالُ الْيَتِيمِ فَيُزَكِّيهِ، وَيُعْطِيهِ مُضَارَبَةً".ترجمہ:عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھماکے پاس کسی یتیم کا مال تھاآپ اس کی حفاظت کرتے اور اسے مضاربت کے طور پر دیتے تھے۔(السنن الکبری للبیھقی،کتاب القراض، 6/184،رقم:11608،دارالکتب العلمیہ بیروت)

    قرآن مجید میں باہمی امداد کی ترغیب وارد ہوئی ہے،چنانچہ ارشاد ہوا:"وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی".ترجمہ:اور نیکی اور پر ہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔(المائدۃ:2)

    نیکی کا بدلہ دینا سنتِ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام ہے،چنانچہ سنن ابو داود کی روایت ہے :"عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا»".ترجمہ:اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور اس کا بدلہ دیتے تھے۔(سنن ابي داود،کتاب الاجارۃ،باب فی قبول الہدایا،3/290،رقم الحدیث: 3536، المكتبة العصريۃ)

    تکافل اور انشورنس میں فرق کو واضح کرتے ہوئے تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی مدّ ظلہ العالی لکھتے ہیں:’’تکا فل اورمروجہ انشورنس میں کئی و جوہ (پہلو) سے فرق ہے: (۱)تکافل محض عقدِ تبر ع(احسان) ہے ۔(ا قول :ا سکا مطلب یہ ہواکہ کلائنٹ جو رقم جمع کروائے گا وہ رقم اس کی طرف سے ذکر کردہ مخصوص فلاحی کاموں کے لیے فنڈ (چندہ)ہوگی ، قرض ہر گز نہیں ہو گی اور اگر تکافل کمپنی کو ھبہ(گفٹ) کی جائے ۔ تو یہ رقم اس شخص کی ملکیت سے نکل جائے گی اوراب اُس رقم کی مالک تکافل کمپنی ہو گئی اور یہ شخص اس رقم کے حوالے سے کسی قسم کا دعوٰی نہیں کر سکتا اگرچہ کمپنی اس کو فائدہ دے یانہ دے ۔یہ الگ بات ہے کہ کمپنی لوگوں کو اپنی طرف مائل رکھنے کے لیے ان کو فائدہ پہنچانا ضروری سمجھتی ہے وگرنہ ان کے فنڈ میں کوئی اپنی رقم کیوں جمع کروائے گالیکن یہ فائدہ پہنچانا اسی طرح تبرع واحسان ہوگا جس طرح اس شخص نے تکافل کمپنی کو رقم دے کراحسان کیا تھا۔اس کو یوں سمجھوکہ آج تم کسی کے کام آؤ کل کوئی تمہارے کام آئے گا) جبکہ مروجہ انشورنس عقد معاوضہ ہے (ا قول : ا سکا مطلب یہ ہوا کہ کلائنٹ جو رقم جمع کروائے گا وہ رقم اس کی طرف سے کمپنی پرقرض ہی ہے )اور شر عاَدو نوں کے احکام بالکل الگ الگ ہیں۔

    (۲)تکافل میں دی جانے والی رقم ’’وقف فنڈ‘‘کی ملکیت میں جاتی ہے کمپنی اس کی مالک نہیں ہوتی جبکہ مروجہ انشورنس میں ا س رقم کی مالک کمپنی ہوتی ہے۔

    (۳)تکافل کا اصل مقصد تعاون علی البر والتقوی ہے ،کوئی کاروبار نہیں اس لئے تکافل کے کاغذات میں ایسے الفاظ سے گریز کیاجاتاہے جن سے عقد معاوضہ یا کارو بار کا تاثر ملتاہو جیسے کہ بزنس یاکنٹریکٹ کے الفاظ جبکہ انشورنس کا اصل مقصد تجارت اور کا روبار ہے ۔

    (۴)تکافل میں کمپنی کی حیثیت وکیل کی ہے جبکہ انشور نس میں کمپنی اصیل اور مالک ہے۔

    (۵)تکافل نظام میں باقاعدہ شر عی بورڈہوتا ہے۔شریعہ بور ڈ کی نگرانی میں فنڈکو شر یعت کے مطابق جائز کا روبار میں لگایا جاتا ہے۔چنانچہ تکافل رولز 2005 کی رو سے ہر کمپنی کا شریعہ بورڈ ضروری ہے ،جس میں کم سے کم تین ممبر ہوں جن کا عالمِ دین اور خریدوفروخت کے شرعی مسائل پر عبورحاصل ہونا ضروری ہے جبکہ انشو رنس میں اس طرح کی کسی قسم کی کو ئی نگرانی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس طرح کی کو ئی پابندی ہے۔جہاں فائدہ نظر آتا ہے وہا ں سر مایہ کاری ہوتی ہے اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کارو بار شر عا جائز اور حلال بھی ہے یا نہیں ۔(وسیم الفتاوی،غیر مطبوعہ)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 ذو الحجہ1445 ھ/6 جون 2024ء