سوال
جناب آپ سے یہ مسئلہ پوچھنا ہے کہ میں نے بینک اسلامی میں پیسے رکھوائے ہوئے ہیں اس پر کچھ منافع ملتا ہے مجھے بتادیں کہ یہ سود تو نہیں ہے ؟ یا سود سے پاک ہے۔
سائل: محمد افضل
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر اسلامی بینک میں پیسے مضاربہ یا مشارکہ کی بنیاد پر رکھوائے گئے ہیں اور بینک مضاربہ اور مشارکہ کا معاملہ تمام شرائط کے ساتھ انجام دیتا ہے تو اس پر ملنے والا نفع سود نہیں ہے ، اور اگر معاملہ شرائط کے مطابق نہیں ہے مثلا ایک فکس اماؤنٹ کا نفع دیتا ہے تو یہ معاملہ جائز نہیں ہے۔
اسکی تفصیل یہ ہے کہ بعض اوقات پیسے آپکے ہوتے ہیں اور کام بینک کرتا ہے اسکو مضاربہ کہتے ہیں ، اور نفع کا ریشو فیصدمیں فکس کر لیتا ہے۔یا اسی طرح بعض اوقات بینک بھی پیسے لگاتا ہے اور آپ کے بھی پیسے ہوتے ہیں اور اور نفع کاریشو فیصد میں فکس کر لیتا ہےیہ دونوں صورتیں شرعا جائز ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں مضاربہ کی تعریف یوں ہے: '' (هِيَ) شَرْعًا (عَقْدُ شَرِكَةٍ فِي الرِّبْحِ بِمَالٍ مِنْ جَانِبِ) رَبِّ الْمَالِ (وَعَمَلٍ مِنْ جَانِبِ) الْمُضَارِبِ '' ترجمہ: شریعت کے اعتبار سے مضاربہ ایسا عقد ہے جس میں نفع میں شرکت ہوتی ہے ، اس طرح کی رب المال کی جانب سے مال ہوتا ہے اور مضارب کی جانب سے کام ۔(تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب المضاربۃ جلد 5ص 645 الشاملہ)
بدائع الصنائع میں ہے: الشَّرِكَةُ فِي الْأَصْلِ نَوْعَانِ: شَرِكَةُ الْأَمْلَاكِ، وَشَرِكَةُ الْعُقُودِ فَشَرِكَةُ الْعُقُودِ أَنْوَاعٌ ثَلَاثَةٌ: شَرِكَةٌ بِالْأَمْوَالِ، وَشَرِكَةٌ بِالْأَعْمَالِ، وَتُسَمَّى شَرِكَةَ الْأَبْدَانِ وَشَرِكَةَ الصَّانِعِ، وَشَرِكَةٌ بِالتَّقَبُّلِ، وَشَرِكَةٌ بِالْوُجُوهِ واما بیان جَوَازِ هَذِهِ الْأَنْوَاعِ الثَّلَاثَةِ فَقَدْ قَالَ أَصْحَابُنَا: إنَّهَا جَائِزَةٌ. ترجمہ:شرکت کی ابتداء دو اقسام ہیں شرکت املاک ، شرکت عقود۔ پھر شرکت عقود کی تین اقسام ہیں ،شرکت اموال، شرکت اعمال(اسکو شرکۃ الصنائع اور شرکت تقبل بھی کہتے ہیں)، اورتیسری قسم شرکت وجوہ، اور شرکت کی یہ تینوں اقسام جائز ہیں۔
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے (وَكَوْنُ الرِّبْحِ بَيْنَهُمَا شَائِعًا) فَلَوْ عَيَّنَ قَدْرًا فَسَدَت. ترجمہ:اور اسکی شرط یہ ہے کہ نفع دونوں کے درمیان شائع ہو (مثلا نصف ،نصف یا دو تہائی اور ایک تہائی وغیرہ) اوراگر رقم کی کوئی مقدار متعین کر لی تو مضاربہ فاسد ہوجائے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 04 صفر المظفر 1440 ھ/15اکتوبر 2018 ء