انتقال کی عدت میں گھر سے باہر نکلنا

    inteqal ki iddat mein ghar se bahar nikalna

    تاریخ: 11 اگست، 2026
    مشاہدات: 18
    حوالہ: 1718

    سوال

    کیا فرماتے ہیں علماء ِ دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ

    عرض ہے کہ میں ایک بیوہ عورت ہوں۔ میرے شوہر کا حال ہی میں انتقال ہو گیا ہے ۔ اور میں اس وقت عدت کے ایام گزار رہی ہوں، ایک نجی اسکول میں بطورِ معلمہ ملازمت کرتی ہوں ،میں اس دوران اپنی ملازمت جاری رکھنا چاہتی ہوں تاکہ اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات اٹھا سکوں اور یہ ملازمت میں نے بڑی مشکل سے حاصل کی ہے ،اور مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے اسے جاری نہ رکھا تو یہ ملازمت میرے ہاتھ سے چلی جائے گی ۔ اسکول انتظامیہ نے بھی اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ مکمل پردے کا اہتمام کیا جائے گا۔ اور شرعی احتیاط کا خاص خیال رکھا جائے گا ۔ تاکہ شرعی حدود کی مکمل پاسداری ہو سکے۔میں اس مسئلہ میں آپ کی رہنمائی چاہتی ہوں۔

    سائلہ: سمعیہ معراج


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شریعت کے مطابق جس گھر میں عورت اپنے شوہر کے انتقال کے وقت رہتی تھی، اسی گھر میں عدّت گزارنا واجب ہے، اور کسی شرعی ضرورت کے بغیر عدّت کے دوران گھر سے باہر نکلنا حرام ہے، یہاں تک کہ عدّت پوری ہو جائے۔البتہ اگر عدّتِ وفات کے دوران عورت کے پاس گھر کے اخراجات اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے لیے کوئی رقم موجود نہ ہو، تو ایسی مجبوری کی حالت میں وہ دن کے اوقات میں شرعی پردے کا اہتمام کرتے ہوئے ملازمت پر جا سکتی ہے، بشرطیکہ رات کا زیادہ حصہ واپس اپنے گھر میں گزار سکے۔لیکن اگر اس کے پاس بقدرِ ضرورت رقم موجود ہو، یا گھر میں رہتے ہوئے کوئی جائز ذریعۂ آمدنی اختیار کر کے اپنے اخراجات پورے کر سکتی ہو، تو پھر اس کے لیے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔کیونکہ عورت کا عدّت میں گھر سے نکلنا صرف اسی وقت جائز ہے جب سخت مجبوری ہو اور کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہے؛ اور جب ضرورت ختم ہو جائے تو گھر سے باہر جانے کی شرعی اجازت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

    لِہٰذا آپ کی بیان کردہ صورت میں، اگر عورت کے لیے گھر سے باہر نکلنا واقعی ناگزیر ہو ۔ یعنی گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اس کا باہر جانا ضروری ہو، اور نہ جانے کی صورت میں گھر کا گزارہ ممکن نہ رہے، یا اس کی ملازمت ختم ہونے کا خدشہ ہو جبکہ کسی دوسری جگہ ملازمت ملنے کے امکانات بھی کم ہوں ، تو ایسی حالت میں صرف ملازمت کے اوقات میں، اور اوپر بیان کردہ شرائط و حدود کی رعایت کے ساتھ، اس کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت ہے۔

    عورت کے لیے ملازمت جائز ہونے کی چند شرائط ہیں ، اگر ان میں سے کوئی ایک بھی نہ پائی جائے ،تو عورت کےلیے ملازمت کرنا ،جائز نہیں ، چنانچہ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنّت رحمۃُ اللہِ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: یہاں پانچ شرطیں ہیں: (۱)کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے۔ (۲)کپڑے تنگ وچست نہ ہو جو بدن کی ہیأت ظاہر کریں۔(۳) بالوں یا گلے یا پیٹ یاکلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہو۔ (۴)کبھی نامحرم کے ساتھ کسی خفیف دیر کے لئے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو۔ (۵)اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی مظنہ فتنہ نہ ہو۔ یہ پانچ شرطیں اگر جمع ہیں، تو حرج نہیں اور ان میں ایک بھی کم ہے تو(عورت کانوکری کرنا) حرام۔

    دلائل و جزئیات:

    عورت اپنی عدت اسی مکان میں گذارے گی جس مکان میں شوہر کے انتقال کے وقت موجود تھی۔ جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے : علی المعتدۃ ان تعتد فی المنزل الذی یضاف الیھا بالسکنی حال وقوع الفرقۃ والموت ترجمہ: عدت والی پر لازم ہے کہ وہ اس مکان میں عدت گزارے جس میں جدائی اور موت کے وقت سکونت پذیر تھی ۔(فتاوی عالمگیری ،جلد1،ص: 535،مطبوعہ کوئٹہ)

    درمختار میں ہے: تعتدان أی: معتدۃ طلاق و موت فی بیت وجبت فیہ و لا تخرجان منہ الا أن تخرج أو ینھدم المنزل أو تخاف انھدامہ أو تلف مالھا أو لا تجد کراء البیت و نحو ذٰلک من الضرورات فتخرج لأ قرب موضع الیہ ترجمہ: موت اور طلاق کی عدت والی عورتیں اسی مکان میں عدت گزاریں جس میں عدّت واجب ہوئی ہو، اور وہاں سے نہ نکلیں سوائے یہ کہ ان کو زبردستی نکالا جائے یا وہ مکان گرجائے یا گرنے کا خطرہ ہو یا مال کے ضائع ہوجانے کا خطرہ ہو یا مکان کرایہ پر ہو اور عورت کرایہ نہ دے پائے، اور دیگر ایسی ضروریات کی وجہ سے مجبور ہو، تو قریب ترین مکان میں منتقل ہوجائے۔ (ردالمحتارعلی الدر المختار، جلد5، صفحہ229، مطبوعہ کوئٹہ)

    بہار شریعت میں ہے : جس مکان میں عدت گزارنا واجب ہے ،اُس کو چھوڑ نہیں سکتی، مگر اُس وقت کہ اسے کوئی نکال دے ،مثلاً:طلاق کی عدت میں شوہر نے گھر میں سے اس کو نکال دیا، یا کرایہ کامکان ہے اور عدت عدتِ وفات ہے، مالک مکان کہتا ہے کہ کرایہ دے یا مکان خالی کر اور اس کے پاس کرایہ نہیں یا وہ مکان شوہر کا ہے، مگر اس کے حصہ میں جتنا پہنچا وہ قابل سکونت نہیں اورورثہ اپنے حصہ میں اسے رہنے نہیں دیتے یا کرایہ مانگتے ہیں اور پاس کرایہ نہیں یا مکان ڈھ رہا ہویا ڈھنے کا خوف ہو یاچوروں کاخوف ہو، مال تلف ہو جانے کا اندیشہ ہے یا آبادی کے کنارے مکان ہے اور مال وغیرہ کا اندیشہ ہے، تو ان صورتوں میں مکان بدل سکتی ہے۔ (بھار شریعت،جلد2،حصہ 8،ص :245،246،مکتبۃ المدینہ)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: عبدالخالق بن محمد عیسیٰ

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاريخ اجراء : 1447 ھ/14 نومبر 2025ء