انعامی بانڈ کی خرید و فروخت کا حکم

    inaami bond ki khareed o farokht ka hukum

    تاریخ: 10 جون، 2026
    مشاہدات: 32
    حوالہ: 1422

    سوال

    PRICE BOND ہم بینک سے لیتے ہیں جسکی مالیت حکومت کی متعین کردہ قیمت کے حساب سے ہوتی ہے۔اور اسکی قرعہ اندازی ہر تین ماہ پر ہوتی ہے ،اور انعام کی صورت میں ہمیں بینک سے (TEX)ادا کرنے کے بعد انعام کی رقم مل جاتی ہے ۔بہت سارے لوگ اس کا کاروبار کرتے ہیں وہ آپکی رقم جو کہ انعام اور PRISE BOND کی اصل رقم ملا کر آپکو دیتے ہیں ،ساتھ ہی اس زائد رقم بھی آپکو دیتے ہیں مثلا :پرائز بونڈ کی اصل قیمت 40000 ہے اوراس پر نکلنے والا انعام (PRIZE) 500000کل ملا کر یہ 540000روپے بنے۔اور وہ اس رقم کے ساتھ کچھ زائد رقم دے کر ہم سے خرید لیتے ہیں ۔

    سوال یہ ہے کہ مندرجہ بالا صورت میں زائد رقم بھی دی گئی ہے ،کیا یہ زائد رقم لینا جائز ہے؟یہ سود تو نہیں؟ جبکہ زائد رقم دینے کی وجہ ہمیں نہیں پتہ اور نہ ہی یہ پتہ ہے PRIZE BONDکو لیکر یہ کاروباری لوگ کیا کریں کریں گے ۔کہ حکومت سے لین دین کریں گے یا کاروبار کریں گے ۔براے کرم ہماری رہنمائی فرمائیں اور اگر ناجائزہے تو پھر اس زائد رقم کا کیا کیا جائے؟جزاک اللہ

    سائل: عبداللہ : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ بالا صورت عقد بیع کی ایک صورت ہے جوکہ جائز ہے کیونکہ پیسوں کے عوض پرائز بونڈ کمی بیشی کے ساتھ بیچنا جائز ہے ۔اور یہ سود نہیں ہے۔

    اسکی تفصیل یہ ہے کہ ہم احناف کے ہاں سود کے حرام ہونے کی علت قدر مع الجنس ہے ، تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:وَعِلَّتُهُ الْقَدْرُ وَالْجِنْسُ) يَعْنِي بِالْقَدْرِ الْكَيْلَ فِي الْمَكِيلِ وَالْوَزْنَ فِي الْمَوْزُونِ ترجمہ:اور اسکی علت(حرمت)قدر اور جنس ہے یعنی مکیلی چیزوں کیل اور موزونی چیزوں میں وزن۔ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق جلد 4 ص 85)

    قدر سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ وزن سے بکتی ہوں تو ان اشیاء کا وزن یا اگر وہ ناپ کرکے بکتی ہوں تو ان اشیاء کا ناپ ۔اور جنس سے مراد یہ ہے کہ خریدی اور بیچی جانے والی چیز ایک جیسی ہی ہو جیسے گندم کے بدلے گندم۔

    اشیاء میں کمی زیادتی کے حلال اور حرام ہونے کا قاعدہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ان الفاظ میں مذکور ہے۔فَإِنْ وُجِدَا حَرُمَ الْفَضْلُ) أَيْ الزِّيَادَةُ (وَالنَّسَاءُ) (وَإِنْ عَدِ مَا) بِكَسْرِ الدَّالِ (حَلَّا) كَهَرَوِيٍّ بِمَرْوِيَّيْنِ لِعَدَمِ الْعِلَّةِ فَبَقِيَ عَلَى أَصْلِ الْإِبَاحَةِ (وَإِنْ وُجِدَ أَحَدُهُمَا) أَيْ الْقَدْرُ وَحْدَهُ أَوْ الْجِنْسُ (حَلَّ الْفَضْلُ وَحَرُمَ النِّسَاءُ) ترجمہ:اور اگر یہ دونوں یعنی قدر اور جنس دونوں موجود ہوں تو کمی ،زیادتی اور ادھاد دونوں حرام ہیں، اور اگر دونوں یعنی قدر اور جنس دونوں معدوم ہوں تو دونوں یعنی کمی،زیادتی اور ادھاد حلال ہیں جیسے ایک ہروی کپڑے کو دو مردی کپڑوں کے بدلے بیچنا جائز ہے کیونکہ یہاں (حرمت کی) علت موجود نہیں ہے لہذا اصل اباحت پر باقی رہے گی۔ اور اگر ان دونوں یعنی قدر اور جنس میں سے ایک موجود ہو خواہ اکیلی قدر ہو یا اکیلی جنس ہو ، تو کمی ، زیادتی حلال اور ادھار حرام ہے۔(تنویر الابصار مع الدر المختار جلد5ص168)

    ان قواعد کی بنیاد پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ پرائز بونڈ کی پیسوں کے عوض بیع کمی بیشی کے ساتھ جائز ہے کیونکہ پرائز بونڈ اور پیسےدونوں ہی عددی چیز ہیں ،نہ مکیلی چیز ہے نہ موزونی یعنی نوٹوں کو نہ وزن کرکے بیچا جاتا ہے اور نہ ہی ناپ کرکے۔لہذا ان میں ربو کی علت نہ پائی گئی اور جب ربو کی کوئی ایک علت نہ ہو تو کمی بیشی جائز ہوتی ہے۔ لہذا فریقین آپس میں جس مقدار پر راضی ہوجائیں ،اس مقدار پر خرید و فروخت بصورت نقد جائز ہے جبکہ ادھار میں کمی زیادتی حرام اور سود ہے۔

    سیدی اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں رقمطراز ہیں : فاقول: نعم يجوز بيعه بازيد من رقمه بانقص منه کيفما تراضيا لم علمت ان تقديرها بهذا المقادير انما حدث باصطلاح الناس وهما لاولاية للغير عليهما کما تقدم عن الهداية والفتح فلهما ان يقدرا بما شاءا من نقص وزيادۃ۔ ترجمہ:(تومیں کہتا ہوں) ہاں نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم کو جتنے پر رضا مندی ہوجائے اس کا بیچنا جائز ہے اس لئے کہ اوپر معلوم ہوچکا کہ نوٹ کا ان مقداروں سے اندازہ کرنا صرف لوگوں کی اصطلاح سے پیدا ہوا ہے اوربائع و مشتری پر ان کے غیر کی کوئی ولایت نہیں، جیساکہ ہدایہ و فتح القدیر سے گزرا تو ان دونوں کو اختیار ہے کہ کم زیادہ جتنا چاہیں اندازہ مقرر کرلیں۔(فتاویٰ رضویہ جلد 17 ص 445رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں :نوٹ کے سرے سے قدر ہی نہیں رکھتا کہ نہ مکیل ہے نہ موزون بلکہ معدود ہے تو بہزار خرابی اگر اتحاد جنس کا چاک رفو بھی ہوجائے تو اتحاد قدر کا پیوند کدھر سے آئے گا تفاضل تو اب بھی حلال رہا۔(فتاویٰ رضویہ جلد 17 ص 528)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:03 رمضان المبارک1440 ھ/09 مئی 2019 ء