امامت و اذان ترک کرنے پر اجرت

    imamat o azaan tark karne par ujrat

    تاریخ: 16 جولائی، 2026
    مشاہدات: 97
    حوالہ: 1628

    سوال

    ہمارے ادارے کے تحت 52 مساجد ہیں ۔ جہاں ادارہ ائمہ اور مؤذنین کو نماز پڑھانے اور اذان دینے کااجارہ دیتا ہے۔ان ائمہ ومؤذنین میں سے کچھ حضرات اذان و نماز کے وقت موجود تو ہوتے ہیں لیکن وہاں اذان یا نماز کوئی اور پڑھاتا ہے ۔اس صورت حال میں یہ ائمہ و مؤذنین حضرات اجارہ کے مستحق ہونگے یا نہیں ؟

    سائل:طاہر:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ہمارے متاخرین علماء نے تعلیم قرآن،اسی طرح دیگر امور دین مثلا اذان،امامت،تدریس وغیرہ پر اجرت لینا جائز قرار دیا ہے ۔چناچہ علامہ شامی شرح عقود میں لکھتے ہیں :اتفقت النقول عن ائمۃ الثلاثۃ،ابی حنیفۃ و ابی یوسف ومحمد : ان الاستیجار علی الطاعات باطل لکن جاء من بعدھم من المجتھدین الذین ھم اہل التخریج والترجیح فافتوا بصحتہ علی تعلیم القرآن للضرورۃ ، فانہ کان للمعلمین عطایا من بیت المال وانقطعت فلو لم یصح الاستیجار واخذ الاجرۃ لضاع القرآن وفیہ ضیاع الدین لاحتیاج المسلمین الی الاکتساب ، وافتی من بعدھم ایضا من امثالھم بصحتہ علی الاذان، والامامۃ ، لانھما من شعائر الدین فصحوا الاستیجار علیھما للضرورۃ ایضا۔ترجمہ : ہمارے ائمہ ثلاثہ امام اعظم، امام ابو یوسف ،امام محمد سے منقول ہے کہ عبادات پر اجارہ باطل ہے ۔ لیکن ان کے بعد جو مجتہدین آئے جوکہ اصحاب تخریج و ترجیح تھے انہوں نے ضرورت کی بناء پر تعلیم قرآن پر اجرت کو جائز قرار دیا ، کیونکہ پہلے زمانوں میں معلمین کو بیت المال سے وظائف ملتے تھے جوکہ آج کل نہیں ملتے پس اگر تعلیم قرآن پراجارہ و اجرت لینا جائز نہ ہو تو قرآن کا ضیاع لازم م آئے گا اور اس میں ضیاع دین ہے ، کیونکہ مسلمان کمانے کے محتاج ہونگے ۔ پھر انکے بعد جو لوگ آئے انہوں نے تعلیم قرآن کی مثل مثلا اذان، امامت وغیرہ پر بھی اجارہ صحیح قرار دیا کیونکہ یہ بھی دین کے شعائر ہیں۔ تو انہوں نے ضرورتا اجارہ جائز قرار دیا۔(شرح عقود رسم الفتی، ص 13، 14 مکتبۃ البشرٰی کراچی)

    علامہ شامی کی مذکورہ بحث سے معلوم ہوا کہ فی زمانہ اذان و امامت کا اجارہ جائز ہے۔لہذا جب ان سے اجارہ کیا جائے گا تو اسکی دو صورتیں ہونگی یا تو یہ اجیر خاص ہونگے یا اجیر عام یا اجیر واحد۔ اگر ادارہ نے ان سے وقت طے کیا ہے کہ آپ اس وقت سے اس وقت تک کے اجیر ہیں تو اس صورت میں یہ تمام حضرات وقت کے پابند ہونگے اور محض وقت دینے سے یعنی وہاں موجود ہونے سے ہی اجرت کے مستحق ہوجائیں گے خواہ یہ خود امامت یامؤذنی کریں یا کوئی اور کرے ۔لیکن اگر ادارہ نے ان سے وقت طے نہیں کیا بلکہ ان سے نمازیں پڑھانے اور اذان دینے کا اجارہ کیا ہے تو یہ لوگ اسی وقت اجرت کے مستحق ہونگے جب امامت یا مؤذنی کریں گے اگر کسی وقت کسی نے اذان نہیں دی یا امامت نہیں کی تو وہ اجرت کا مستحق نہ ہوگا۔

    اسکی تفصیل یہ ہے کہ اجیر کی دو اقسام ہیں۔1:اجیر مشترک ۔ 2: اجیر خاص ۔ اجیر مشترک وہ اجیر ہوتا ہے جو ایک وقت میں کئی لوگوں کا اجیر ہوسکتا ہے ، اور یہ کام کرکے دینے کی وجہ سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے ، تسلیم نفس کی وجہ سے اجرت کا مستحق نہیں ہوتا۔اور اجیر خاص جس کو اجیر واحد بھی کہتے ہیں ،یہ وہ اجیر ہے جو ایک وقت میں ایک شخص کا اجیر ہوسکتا ہے ،اس کے اجارہ کے صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اجارہ کا وقت معلوم ہو مثلا گھنٹوں کے حساب سے یا دنوں کے یا مہینوں کے حساب سے معلوم ہو۔ اجارہ کی اس قسم میں کام معلوم ہونا ضروری نہیں ،البتہ عرف میں اس سے جو کام لیا جاسکتا سے وہی لیا جائے گا اسکے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں لیا جاسکتا۔چناچہ علامہ علاء الدين،ابوبكربن مسعودبن احمد كاسانی حنفی متوفى 587ھ فرماتے ہیں : والأجير قد يكون خاصا وهو الذي يعمل لواحد وهو المسمى بأجير الواحد، وقد يكون مشتركا وهو الذي يعمل لعامة الناس وهو المسمى بالأجير المشترك ۔۔۔أن المنفعة تختلف باختلاف محل المنفعة فيختلف استيفاؤها باستيفاء منافع المنازل بالسكنى، والأراضي بالزراعة، والثياب۔۔۔ والصناع بالعمل من الخياطة، والقصارة ونحوهما، وقد يقام فيه تسليم النفس مقام الاستيفاء كما في أجير الواحد حتى لو سلم نفسه في المدة ولم يعمل يستحق الأجر۔ ترجمہ:اجیر کبھی خاص ہوتا ہے ،یہ وہ ہےجو ایک کے لئے عمل کرتا ہےاسے اجیر واحد کہتے ہیں اور کبھی اجیر مشترک ہوتا ہے،یہ وہ اجیر ہے جو تمام لوگوں کے لئے کام کرتا ہے اسکو اجیر مشترک کہتے ہیں ۔منفعت کے محل کی وجہ سے منفعت مختلف ہوجاتی ہے پس منفعت کا حصول بھی مختلف ہوجاتا ہے لہذا گھر کی منفعت رہائش ہے حاصل ہوگی ،زمین کی زراعت سے،کپڑوں کی پہننے سے ،کاریگر مثلا درزی،دھوبی وغیرہ کی منفعت اس کے کام سے حاصل ہوگی اور کبھی تسلیم نفس ہی منفعت کے قائم مقام ہوتا ہے جیساکہ اجیر واحد کہ اگر اس نے خود کو طے شدہ وقت میں سپرد کیے رکھا اور کچھ کام نہ کیا تو بھی اجرت کا مستحق ہوگا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الاجارۃ فصل فی رکن الاجارۃ جلد 4 ص 175۔ ملخصا و ملتقطا)

    امام فخر الدين عثمان بن علی بن محجن، زيلعی حنفی المتوفى: 743 ھ فرماتے ہیں : قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ الْكَرْخِيُّ فِي مُخْتَصَرِهِ الْأَجِيرُ الْمُشْتَرَكُ الْقَصَّارُ وَالصَّبَّاغُ وَالْخَيَّاطُ وَالصَّائِغُ وَكُلُّ مَنْ يَسْتَحِقُّ الْأَجْرَ لِعَمَلِهِ دُونَ تَسْلِيمِ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ الْكَرْخِيُّ الْأَجِيرُ الْخَاصُّ مَنْ اسْتَحَقَّ الْأَجْرَ بِالْوَقْتِ دُونَ الْعَمَلِ وَذَلِكَ كَرَجُلٍ اسْتَأْجَرَ رَجُلًا لِيَخْدُمَهُ شَهْرًا بِخَمْسَةِ دَرَاهِمَ أَوْ كُلَّ شَهْرٍ بِخَمْسَةِ دَرَاهِمَ۔۔۔۔لِيَعْمَلَ عَمَلًا مِنْ الْأَعْمَالِ سَمَّاهُ كُلُّ شَهْرٍ بِكَذَا كَذَا أَوْ كُلُّ يَوْمٍ بِكَذَا أَوْ كُلُّ سَنَةٍ بِكَذَا أَوْ كَذَا فَهَذَا هُوَ الْخَاصُّ. إلَى هُنَا لَفْظُ الْكَرْخِيِّ فِي مُخْتَصَرِهِ،وَقَالَ فِي شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ الْأَجِيرُ الْمُشْتَرَكُ هُوَ أَنْ يَتَقَبَّلَ الْعَمَلَ مِنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، وَأَجِيرُ الْوَحَدِ أَنْ يَتَقَبَّلَ الْعَمَلَ مِنْ الْوَاحِدِ، وَفِي الْأَجِيرِ الْمُشْتَرَكِ الْعَقْدُ إنَّمَا يَقَعُ عَلَى تَسْلِيمِ الْعَمَلِ لَا عَلَى تَسْلِيمِ النَّفْسِ وَالْعَقْدُ فِي أَجِيرِ الْوَحَدِ يَقَعُ عَلَى تَسْلِيمِ النَّفْسِ إلَيْهِ فِي الْمُدَّةِ لَا عَلَى تَسْلِيمِ الْعَمَلِ. إلَى هُنَا لَفْظُ شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ، وَقَالَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ عَلَاءُ الدِّينِ الْإِسْبِيجَابِيُّ فِي شَرْحِ الْكَافِي وَالْأَصْلُ فِيهِ أَنَّ كُلَّ مَنْ يَنْتَهِي عَمَلُهُ بِانْتِهَاءِ مُدَّةٍ مَعْلُومَةٍ فَهُوَ أَجِيرٌ وَحَدٌ، وَكُلُّ مَنْ لَا يَنْتَهِي عَمَلُهُ بِانْتِهَاءِ مُدَّةٍ مُقَدَّرَةٍ فَهُوَ أَجِيرٌ مُشْتَرَكٌ۔ترجمہ:شیخ ابوالحسن کرخی نے اپنی مختصر میں فرمایا اجیر مشترک دھوبی، رنگریز،درزی،کاریگر اور ہر وہ شخص ہے جو اپنے کام سے اجرت کا مستحق ہو نہ کہ تسلیم نفس سے۔ پھر امام کرخی فرماتے ہیں اجیر خاص وہ ہے جو وقت کی وجہ سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے نہ کہ تسلیم نفس سےاسکی مثال یہ ہے مثلا کسی شخص نے دوسرے کو ایک ماہ اجارہ پر رکھا تاکہ وہ (مثلا ) پانچ درہم کے عوض اسکی خدمت کرے گا یا پورا ماہ پانچ درہم کے عوض اسکی خدمت کرے گا یا کوئی بھی کام کریگااور ہرماہ یا ہر دن یا ہر سال کے پیسے مقرر کرلئے تو یہ اجیر خاص ہے۔یہاں امام کرخی کا وہ کلام ختم ہوا جو انہوں نے اپنی مختصر میں کیا ہے۔ پھر شرح الطحاوی میں فرمایا اجیر مشترک وہ ہے جو ایک وقت میں کئی لوگوں سے کام لے سکتا ہے ، اور اجیر واحد وہ اجیر ہے جو ایک وقت میں ایک شخص کا کام لےسکتا ہے ۔ اجیر مشترک میں عقد تسلیم عمل پر وارد ہوتا ہے جبکہ اجیر واحد میں عقد طے شدہ مدت تک تسلیم نفس پر وارد ہوتا ہےنہ کہ تسلیم عمل پر یہاں شرح الطحاوی کے الفاظ ختم ہوئے۔شیخ الاسلام علاء الدین اسبیجابی نے شرح الکافی میں فرمایا اس میں اصل یہ ہے کہ ہر وہ شخص اجیر واحد ہے جسکا عمل مدت کے احتتام سے ختم ہوجائے۔اور جس کا عمل مدت کے اختتام سے ختم نہ ہو وہ اجیر مشترک ہے۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق مع حاشیہ چلپی،کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر جلد 5 ص 135 ملخصا و ملتقطا)

    نیز ہمارے ہاں عرف میں بھی جب امامت یا مؤذنی کا اجارہ کیا جاتا ہے تواسی بات پر اجارہ ہوتا ہے کہ نماز پڑھائے گااور اذان دےگا۔لہذا بحکم عرف بھی یہ وہاں موجود ہوکر اذان نہ دے تو اجرت کا مستحق نہ ہوگا۔ علامہ شامی شرح عقود رسم المفتی ص 13 پر فرماتے ہیں والعرف فی الشرع لہ اعتبار ۔۔ ۔۔۔۔۔لذا علیہ الحکم قد یدار۔ ترجمہ: شریعت میں عرف کا اعتبار ہے۔۔۔۔۔۔ اسی لیے اس پر حکم کا مدار ہے ۔

    اسی میں ص 270 پر ہےوالاحکام تبتنی علی العرف، فیعتبر فی کل اقلیم و فی کل عصر عرف اہلہ(ایضا)۔ترجمہ:احکام کی بنیاد عرف پر بھی ہے لہذا ہر ملک اور زمانے میں وہاں کا عرف ہی معتبر ہے۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:05 رجب المرجب 1441 ھ/01 مارچ 202 ء