امام مسجد کا تعویذات دینا

    imam masjid ka taweezat dena

    تاریخ: 11 جون، 2026
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 1424

    سوال

    ایک مولوی صاحب جو کہ امامِ مسجد بھی ہیں مسجد سے متصل حجرے میں دم اور تعویذات کا سلسلہ کرتے ہیں ، حجرہ مسجد میں شامل نہیں ہے البتہ اسکا ایک دورازہ مسجد کی طرف اور دوسرا گلی میں کھلتا ہے نیز امام صاحب تعویذ وغیرہ کا معاوضہ طلب نہیں کرتے البتہ لوگ خود سے کچھ دے جائیں تو منع بھی نہیں کرتے۔تعویذات کے سلسلے میں آنے والوں میں مرد و عورتیں سب شامل ہیں عورتیں اکثر محارم کے ساتھ آتی ہیں البتہ کبھی کبھی ایک سے زائد عورتیں بغیر محارم کے بھی آجاتی ہیں۔ مسجد کمیٹی کے کچھ ممبران نے عورتوں کے آنے پر اعتراض کیا ہے کہ یہ شرعاً درست نہیں ہے۔ ہمیں اسی سلسلے میں شرعی رہنمائی درکار ہے، برائے کرم شرعی فتوٰی صادر فرمائیں۔

    سائل:مفتی محمدصفدر حسین سعیدی : دوڑ ضلع شہیدبینظیر آباد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مسجدخواہ حجرۂ مسجد میں عوضِ مالی پر تعویذ بنانا اور لوگوں کو دینا ناجائز ہے کہ یہ بیع و شراء ہے اور مسجد میں بیع و شراء حرام ہے اور یہ واضح کہ حجرہ بالاتفاق فنائے مسجد ہے ، اور فنائے مسجد حکمِ مسجد میں ہی ہے، لہذا حجرہ میں بھی تعویذ بعوضِ مالی ناجائز ہے۔

    چناچہ سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: عوضِ مالی پر تعویز دینا بیع ہے اور مسجد میں بیع وشرا ناجائز ہے ، اور حجرہ فنائے مسجد ہے اور فنائے مسجد کے لئے حکمِ مسجد ،عالمگیریہ میں ہے: یبیع التعویذ فی المسجد الجامع ویکتب فی التعویذ التوراۃ والانجیل والفرقان و یاخذ علیھا المال ادفع الی الھدیۃ لایحل لہ ذلک کذافی الکبرٰی ۔ترجمہ: یک آدمی مسجد جامع میں تعویذ بیچتا ہے ، اس تعویذ میں تورات، انجیل اور قرآن لکھتا ہے اور اس پر رقم لیتا ہے ، اور یہ کہتا ہے کہ اس کا ہدیہ مجھے دے تو یہ جائز نہیں ۔ الکبرٰی میں اسی طرح ہے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الصلوۃ جلد 8 ص 95، 96)

    یونہی بہار شریعت میں ہے: جامع مسجد میں تعویذ بیچنا، ناجائز ہے جیسا کہ تعویذ والے کیا کرتے ہیں کہ اس تعویذ کا یہ ہدیہ ہے اتنا دو اور تعویذ لے جاؤ۔(بہارِ شریعت جلد 3 ص 489 حصہ 16 مکتبۃ المدینہ)

    یونہی اگر تعویذ بغیر عوض ہو مگر لوگوں کو معلوم ہے کہ اسکے عوض مال دینا ہے اور خود اس کے ذہن میں بھی یہی ہے کہ جو تعویذ لے گا پیسے دے گا اگرچہ کچھ متعین نہ ہو تب بھی حجرہ مسجد میں منع ہے کہ یہ المعروف کالمشروط کے تحت ضمناً بیع ہی ہے اور ابھی گزرا کہ مسجد و حجرۂ مسجد میں بیع ناجائز ہے۔

    تیسری صورت یہ کہ کسی حاجتمند کو خالصتاً للہ تعویذ یا کوئی نفش بناکر دےاور بعد ازاں وہ خود سے کچھ مال پیش کردے اور یہ قبول کرلے تو بلاشبہ یہ صورت جائز بلکہ موجب اجر ہے کہ اس میں مسلمان کا نفع اور حاجت روائی ہے۔

    چناچہ سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: غرض نفس عمل یاتعویذ میں کوئی امرخلاف شرع ہو یامقصود میں توناجائزہے ورنہ جائزبلکہ نفع رسانی مسلم کی غرض سے محمود وموجب اجر۔قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ۔ رواہ مسلم عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔تم میں جس سے ہوسکے کہ اپنے بھائی مسلمان کو کوئی نفع پہنچائے تو پہنچائے۔ (امام مسلم نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔) واﷲ تعالٰی اعلم۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الصلوۃ جلد 24 ص 197)

    سو اگر مذکورہ امام کا تعویذ دینا قسمِ سوم سے ہو تو بلاشبہ جائز امر ہے ۔

    رہا عورتوں کا تعویذ لینے آنے کا مسئلہ تو اس متعلق حکم شرع یہ ہے کہ عورتیں اگر مکمل شرعی پردہ کے ساتھ اپنے محارم کے ساتھ تعویذ لینے آئیں اور لمحہ بھر بھی غیر مرد کے ساتھ خواہ تعویذ دینے والا امام ہی کیوں نہ ہو خلوت نہ ہواور انکا تعویذ لینا جائز امر کے لئے ہو تو بلاشبہ انکا تعویذ لینا اور امامِ مذکور کا تعویذ دینا ہر دو جائز ہیں ، کمیٹی والوں کا اس بناء پر اعتراض بے جا ہے ، انہیں چاہیے کہ اعتراض سے باز رہیں اور مسلمین و مسلمات کوتعویذاتِ اسماء الٰہی وکلام الٰہی وذکرالٰہی سے محروم نہ کریں۔

    سیدی اعلٰی حضرت تعویذ سے متعلق رقمطراز ہیں: عملیات وتعویذ اسمائے الٰہی وکلام الٰہی سے ضرورجائزہیں جبکہ ان میں کوئی طریقہ خلاف شرع نہ ہو مثلاً کوئی لفظ غیرمعلوم المعنی جیسے حفیظی، رمضان، کعسلہون اور اور دعائے طاعون میں طاسوسا، عاسوسا، ماسوسا، ایسے الفاظ کی اجازت نہیں جب تک حدیث یا آثار یااقوال مشائخ معتمدین سے ثابت نہ ہو، یونہی دفع صرع وغیرہ کے تعویذ کہ مرغ کے خون سے لکھتے ہیں یہ بھی ناجائزہے اس کے عوض مشک سے لکھیں کہ وہ بھی اصل میں خون ہے، یونہی حب وتسخیر کے لئے بعض تعویذات دروازہ کی چوکھٹ میں دفن کرتے ہیں کہ آتے جاتے ا س پرپاؤں پڑیں یہ بھی ممنوع وخلاف ادب ہے، اسی طرح وہ مقصود جس کے لئے وہ تعویذ یاعمل کیاجائے اگر خلاف شرع ہو ناجائز ہوجائے گا جیسے عورتیں تسخیر شوہر کے لئے تعویذ کراتی ہیں، یہ حکم شرع کا عکس ہے۔ اﷲ عزّوجل نے شوہر کوحاکم بنایاہے اسے محکوم بنانا عورت پرحرام ہے۔ یونہی تفریق وعداوت کے عمل وتعویذ کہ محارم میں کئے جائیں مثلاً بھائی کو بھائی سے جداکرنا یہ قطع رحم ہے اور قطع رحم حرام، یونہی زن وشو میں نفاق ڈلوانا ۔

    حدیث میں فرمایا: لیس منّا من خبب امرأۃ علٰی زوجھا۔جو کسی عورت کو اس کے شوہر سے بگاڑدے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔بلکہ مطلقاً دومسلمانوں میں تفریق بلاضرورت شرعی ناجائزہے۔ حدیث میں فرمایا: لاتباغضوا ولاتدابروا الٰی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وکونوا عباداﷲ اخوانا ۔(لوگو) ایک دوسرے سے عداوت نہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد گرامی تک ''اے اﷲ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی ہوجاؤ۔ (فتاوٰی رضویہ، کتاب الصلوۃ جلد 24 ص196)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:23 جمادی الثانی1444 ھ/16 جنوری 2023 ء