Hindu larki se baghair musalman kiye shadi karne ki soorat mein larke se taaluqat ka hukam
سوال
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ مندرجہ ذیلُ معاملات میں آپ کی رہنمائی درکار ہے ۔ ایک مسلمان والدین کے بیٹے نے کچھ سال پہلے ایک ہندو لڑکی سے شادی کرلی اور تاحال اس کواسلام قبول کیۓ بغیر اس کے ساتھ ازدواجی زندگی گزار رہا ہے ۔ والدین کئ سال اس سے قطع تعلق کیۓ رہے مکر کجھ عرصے سے اس کی محبت میں اس سے تھوڑا بہت ملنا شروع کر چکے ہیں مگر اس کی بیوی سے کوئ رابطہ نہیں ہے ۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایسی صورت حال میں شریعت کہاں تک تعلق رکھنے کی اجازت دیتی ہے ۔ کیا ان والدین کو اپنے اس بیٹے سے مکمل قطع تعلق کرلیناچاہیۓ ؟ نیز کیا ایسی اولاد ان کی جائیداد میں اتنے ہی حصے کی حق دار ہے جتنا دوسرے بیٹے ۔ جزاک اللہ خیر ا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مسلمان مرد کا کسی بھی غیر مسلم سے عورت سوائے کتابیہ کے نکاح اصلاً جائز نہیں کہ یہ نکاح اصلاً منعقد ہی نہیں ہوا ، یہ نکاح از سر باطل و مردود ہے،بلکہ یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہے، لہذا مذکورہ لڑکا جتنا عرصہ اس ہندو لڑکی سے ساتھ رہے گا حرام میں مبتلا رہے گا،اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی اولاد کا نسب بھی اس سے ثابت نہ ہوگا۔
پھر اگر اس نے یہ نکاح حلال سمجھ کر کیا ہے تو یہ خود دائرہ اسلام سے خارج ہے کہ اس نے اللہ کے حرام کردہ کو حلال جانا۔اس صورت میں دین مختلف ہونے کے سبب کسی بھی طرح کی وراثت کا مستحق نہ ہوگا کہ اختلافِ دِینَین ، مانعِ اِرث ہے۔
اگر حلال سمجھتے نہیں کیا تو لازم ہے فوراً اس عمل سے توبہ کرے لڑکی سے فوراً جدا ہوجائے یا اسے مسلمان کرکے نکاح کرلے، اگر بار ہا سمجھائے جانے کے باوجود بھی اپنی اس غلطی پر مصر اور بضد ہو، اس ہندو لڑکی سے علیحدگی کے لیے تیار نہ ہو تا ہو،تو اس صورت میں والدین اور خاندان والوں پر لازم ہے کہ اسکا سوشل بائیکاٹ کریں، سلام کلام ، میل جول سب ترک کردیں ، کسی بھی تقریب میں شرکت سے منع کریں۔ البتہ اس صورت میں دیگر اولاد کی طرح وراثت کا اہل ہوگا۔
کافرہ غیر کتابیہ سے نکاح کی ممانعت کی ایک حکمت یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی مشرکہ عورت سے نکاح کر لے تو اس صورت میں نکاح کے مقاصدمحبت، پاکدامنی، عفت و عصمت مفقود ہوسکتے ہیں،کیونکہ جب دو افراد کے درمیان یہ واضح دینی عداوت اور نظریاتی اختلاف موجود ہو تو ان کا یہ رشتہ کسی بھی صورت دلی سکون، اطمینان اور باہمی پیار محبت کا سبب بن ہی نہیں سکتا، حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ باہمی سکون، دلی راحت اور سچی محبت کا وجود ہی مقاصدِ نکاح کے حصول کے لیے سب سے بنیادی اور لازمی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے جس کے بغیر ازدواجی زندگی کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
نیزجب کسی مشرکہ یا کافرہ کے ساتھ قلبی اور جذباتی تعلقات استوار کر لیے جائیں تو اس کا ناگزیر اور لازمی نتیجہ یہی سامنے آئے گا کہ مسلمان مرد کے دل میں اپنے سچے دین اسلام کی وہ قدر و منزلت، اہمیت اور احترام باقی نہیں رہے گا جو ہونا چاہیے اور رفتہ رفتہ اس کے دل میں کفر و شرک کی طرف میلان اور جھکاؤ پیدا ہونے لگے گا یا پھر کم از کم یہ نقصان تو یقینی طور پر ہوگا کہ کفر و شرک سے ایمان کا تقاضا سمجھ کر جو فطری نفرت اور بیزاری ایک سچے مسلمان کے دل میں ہونی چاہیے وہ آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی اور دل اس غیریت سے بالکل خالی ہو جائے گا جس کا حتمی اور ہولناک انجام پھر یہی نکل سکتا ہے کہ وہ مرد خود بھی (انہی گہرے اثرات اور محبت کے زیرِ اثر) معاذ اللہ کفر و شرک کی دلدل میں مبتلا ہو جائے۔
دلائل و جزئیات:
مشرک عورتوں سے نکاح کے بارے میں اللہ کریم کا واضح ارشاد ہے: وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ اُولٰٓىٕكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۔ ترجمہ: اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ عورت سے اچھی ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو اور (مسلمان عورتوں کو) مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ مشرک تمہیں پسندہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے حکم سے جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (پ 02، البقرة: 221)
ملک العلماءعلامہ کاسانی حنفی لکھتے ہیں:منها أن لاتكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما، فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة؛ لقوله تعالى:{ وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ}۔۔۔أن الأصل أن لا يجوز للمسلم أن ينكح الكافرة؛ لأن ازدواج الكافرة والمخالطة معها مع قيام العداوة الدينية لايحصل السكن والمودة الذي هو قوام مقاصد النكاح۔ ترجمہ: مسائلِ نکاح میں سے یہ بھی ضروری ہے کہ مرد کے مسلمان ہونے کی صورت میں عورت مشرکہ نہ ہو، لہذا مسلمان کا مشرکہ عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:” اورمشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں “ اصل یہ ہے کہ مسلمان کو کسی کافرہ (غیرکتابیہ)سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں، کیونکہ کافرہ سے رشتہ ازدواج قائم کرنا اور پھر اُس کے ساتھ اختلاط رکھنا، حالانکہ دونوں میں عداوتِ دینی موجود ہو، کسی صورت حصولِ سکون اور باہمی پیار محبت کا سبب نہیں ہو سکتا، حالانکہ باہمی سکون اور محبت مقاصد نکاح کے حصول کے لیے بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔(بدا ئع الصنائع، جلد03،کتاب النکاح، صفحہ458،مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: مسلمان عورت کا نکاح مطلقاً کسی کافر سے نہیں ہوسکتا۔ کتابی ہو یا مشرک یا دہریہ یہاں تک کہ ان کی عورتیں جو مسلمان ہوں انھیں واپس دینا حرام ہے۔ مسلمان مرد کافرہ کتابیہ سے نکاح کرسکتا ہے۔ لیکن غیر کتابیہ سے مسلمان مرد کو نکاح حرام ہے۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 11 ص 508 تا 511، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)
اگر باوجود سمجھانے کےلڑکا اس ہندو لڑکی کو چھوڑنے پر راضی نہیں تو اسکا فسق ظاہر ہے اور جب فسق ظاہر تو اسکی تعظیم حرام کہ فاسق کی تعظیم حرام ، لہذا اس کے ساتھ ،میل جول رکھنا،بلا وجہ شرعی بے تکلف ہونا،کھانا پینا ، تقاریب میں شرکت کرنا شرعا منع ہے،کہ اس سے تعلقات رکھنے اور نرم رویہ رکھنے میں اسکو فسق پر جری کرنا ہے۔ یونہی اس کو اپنے گھر میں آنے کی اجازت دینا بھی حرام ہے کیوں کہ ان تمام امور میں اسے عزت دینا ہے، اور ایسے لوگ عزت و احترام کے اہل نہیں ہیں۔ بلکہ فاسق و ظالم ہیں ۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:وَلاَ تَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ۔ترجمہ کنز الایمان :اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔ (ھود: 113)
اس آیت کے تحت تفسیر کشاف میں ہے:وفي الکشاف: والنھی تناول للانحطاط في ھواھم والانقطاع إلیھم ومصاحبتھم ومجالستھم وزیارتھم ومداھنتھم والرضا بأعمالھم والتشبہ بھم والتزیي بزیھم ومد العین إلی زہرتھم وذکرھم بما فیہ تعظیم لھم ترجمہ:اور آیت میں مذکور نہی انکی نفسانی خواہشات کی تکمیل گرانے اور ختم کرنے کو شامل ہے ، یونہی آیت میں انکی صحبت، مجلس، انکی زیارت،ا ن سے مداہنت، انکے اعمال پر رضا مندی، اور ان سے مشابہت، اور انکی عادات اپنانے ،انکی عیادت کرنے اور انکا ایسا ذکر کرنے جس سے انکی تعظیم ظاہر ہو کی ممانعت ہے۔(تفسیر کشاف: جلد 2 ص 95)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
الجـــــواب صحــــیـح
ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
محمد زوہیب رضا قادری
04 محرم الحرام 1448ھ/ 20 جون 2026 ء