کال سینٹر میں جاب کرنا کیسا
    تاریخ: 24 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 74
    حوالہ: 28

    سوال

    کال سینٹر میں جاب کرنا کیسا ہے جسکا طریقہ کار یہ ہے کہ بیرونِ ملک آن لائن کمپنیاں چیزیں فروخت کرتی ہے کسٹمرز سے ڈیل کرنے کے لئے انہیں کمیشن ایجنٹ یا پرمنٹ ایمپلائیز کی ضرورت ہوتی ہے تو غریب ممالک کے لوگ اس آفر کو قبول کرتے ہیں اور کسٹمر کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ ہم مثلا امریکہ کے رہائشی ہیں میرا نام جیک(کوئی بھی انگریزی فرضی نام) ہے اور وہیں کا کوئی ایڈریس بتاتے ہیں تو وہ آرڈر کرتے ہیں جسکے بعد ہمیں اس کام میں کمیشن ملتا ہے،اگر انہیں سچ بتایا جائے تو آرڈر کینسل کردیتے ہیں۔کیا یہ جاب کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟ سائل:علیم خان: کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    کال سینٹر میں جاب کرنا فی نفسہ تو جائز ہے کہ عمل پر اجرت ہےاور عمل پر اجرت جائز ہےہمارے عرف میں اسے کمیشن ایجنٹ کانام دیا جاتا ہے، لیکن اس کے لئے دو شرطیں ہیں :

    1: جس چیز کے لئے عمل کررہا ہے وہ فی نفسہ جائز ہو۔

    2: جتنا کمیشن مقرر کیا ہے اسکی مقدار معلوم ہو۔

    البتہ اس کام کے لئے جھوٹ بولنا بایں طور کہ خود کو غیر ملکی رہائشی ظاہر کرنا ، اپنا غلط نام اور غلط پتہ بتانا یہ امور شرعاً درست نہیں ہے، بالخصوص اپنا ایسا نام بتانا جو عموماً غیر مسلمین کے ساتھ خاص ہوتا ہے اور زیادہ ممنوع ہے۔ہاں اسکی وجہ سے اس کام کی اجرت حرام نہ ہوجائے گی ، بلکہ اجرت حلال ہی رہے گی اورجھوٹ کا گناہ الگ ہوگااسکی توبہ لازم و ضروری اور آئندہ جاب کرنے کے لئے اس جھوٹ کا سہارا لینا بھی ناجائز ہوگا۔

    اگر کوئی شخص اپنے کسی عمل کے بدلے اپنے اس عمل یا خدمت کا معاوضہ لینا چاہے تو یہ جائز ہے۔ شامی میں ہے:قَالَ فِي الْبَزَّازِيَّةِ: إجَارَةُ السِّمْسَارِ تَجُوزُ لِمَا كَانَ لِلنَّاسِ بِهِ حَاجَةٌ (ملخصا)ترجمہ: بزازیہ میں فرمایا کہ کمیشن کی فیس جائز ہے کیونکہ لوگوں کی اسکو حاجت ہے۔( شامی باب الاجارہ الفاسدۃ جلد 6ص 47)

    نیز فی زمانہ کمیشن ایجنٹ بننا ،بنانا ایک مستقل پیشہ اختیار کرچکا ہے ،گویا اسکو عرف عام کی سی حیثیت حاصل ہوچکی ہے لہذا اسکی اجرت جائز ہے۔علامہ شامی شرح عقود رسم المفتی ص 13 پر فرماتے ہیں والعرف فی الشرع لہ اعتبار ۔۔ ۔۔۔۔۔لذا علیہ الحکم قد یدار:ترجمہ: شریعت میں عرف کا اعتبار ہے۔۔۔۔۔۔ اسی لیے اس پر حکم کا مدار ہے ۔

    جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ اور اللہ تعالٰی کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے: ارشاد باری تعالٰی : وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ۔ ترجمہ : اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔(پارہ: 17، حج: 30)

    یونہی پارہ 14سُوْرَۃُ النَّحْل کی آیت نمبر 105 میں اِرْشادِباری ہے: اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ۔ ترجمہ: جھوٹا بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللّٰہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور وہی جھوٹے ہیں۔ (پارہ: 14، النحل: 105)

    بیان کردہ آیتِ مقدَّسہ کے تحت صَدْرُالاَفاضِل حضرت علّامہ مَوْلانا مُفْتی سَیِّدمحمدنَعیمُ الدِّین مُراد آبادی فرماتے ہیں: جُھوٹ بولنا اور اِفْتِرا کرنا (یعنی کسی پرجھوٹاالزام لگانا) بے اِیمانوں ہی کا کام ہے۔ (خزائن العرفان، پارہ: 14، النحل، تحت الآیہ: 105)

    امام فَخْرُالدِّین محمد بن عُمر رازی فرماتےہیں: یہ آیتِ کریمہ اِس بات پر مضبوط دلیل ہے کہ جُھوٹ تمام کبیرہ گُناہوں میں سب سے بڑا گُناہ اور بَد تَرین بُرائی ہے، کیونکہ جُھوٹ بولنے اورجُھوٹاالزام لگانے کی جُرأت وُہی شَخْص کرتا ہے، جسے اللہ کریم کی نشانیوں پر یقین نہ ہو یا جو شَخْص غیر مُسْلِم ہواوراللہ پاک کا جھوٹ کی مَذَمَّت میں اس طرح کا کلام فرمانا، نہایت ہی سخت تَنْبِیْہ ہے۔ (التفسیر الکبیر: جلد 7 ص 272، الجزءا لعشرون، ملتقطاً)

    یونہی حدیث پاک میں ہے آقا کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جَنَّت میں لے جاتی ہے اور جھوٹ بولنا فِسْق وفُجُور (گناہ)ہے اور فِسق وفُجُور دوزخ میں لے جاتا ہے۔( مسلم، کتاب الادب، باب قبح الکذب ، الحدیث: 2607، ملتقطاً)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:14 رجب المرجب 1444 ھ/06 فروری 2023 ء