"بینک لون ، پرائز بانڈ اور قسطی نظام کے شرعی احکام
    تاریخ: 23 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 58
    حوالہ: 23

    سوال

    1:حکومت پاکستان سے پرائز بانڈز خریدنا اور اس کا انعام اپنے پاس رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ 2: بینک سے گاڑی قسطوں پر لے کر اپنے گھر کے استعمال میں لانا یا کسی کمپنی میں رینٹ پہ چلانا کیسا؟ 3: بینک سے لون لے کر گھر بنانا یا کاروبار کرنا کیسا ؟ بینک اس پر ٪25 اوپر لیتی ہے یعنی ایک لاکھ پر 25 ہزار۔قرآن و حدیث کے مطابق جواب عنایت فرمائیں۔ سائل:عبدالستار : کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: پرائز بونڈ خریدنا اور اس پر ملنے والا منافع دونوں جائز و حلال ہیں ۔ بعض علماء کرام نے پرائز بانڈ کے بارے میں اختلاف کیا ہے ،لیکن ہمارے نزدیک پرائز بونڈ لینا جائز ہے اور اس پر ملنے ولا انعام بھی جائز اور حلال ہے ،اس میں ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں پائی جاتی ۔ کیونکہ ناجائز ہونے کے دو اسباب ہو سکتے ہیں ، سوداور جوا اور یہ دونوں اس میں میں نہیں پائے جاتے۔سودتو اس لیے نہیں پایا جاتا کیونکہ "سود قرض پر متعین اضافہ بطور شرط'' ہوتا ہے۔ جبکہ 200، 500، 1000 روپے والے بانڈ پر لاکھوں روپے کا انعام نکل آنا یہ سود نہیں ہے بلکہ انعام کی صورت ہے ۔ اور جوا اس لیے نہیں پایا جاتا کیونکہ جوئے میں ساری رقم ڈوب جاتی ہے یا پھر کئی گنا زیادہ آ جاتی ہے۔ یہاں انعام نکلنے یا نہ نکلنے، دونوں صورتوں میں اصل زر محفوظ رہتا ہے۔توناجائز ہونے کے جب دونوں امکان براہ راست موجود نہیں ہیں تو پھر پرائز بانڈز کا لین دین اور اس پر ملنے والے انعام کے ناجائز ہونیکی کوئی ایک وجہ بھی نہ ہوئی لہذا یہ جائز ہے۔ہمارے تمام علمائے اہل السنہ کا یہی موقف ہے۔ البتہ پرائز بانڈ کی ایک جدید صورت جسے پریمیئم بانڈ کہا جاتا ہے اسے خریدنا اور اس سے ملنے والا انعام دونوں ہی ناجائز و حرام ہیں، اس سے بچنا واجب ہے کیونکہ پریمیئم بانڈکی خریداری کے لئے جمع کروائی رقم قرض کے حکم میں ہوتی ہے ، اور جس دن سے یہ بانڈز خریدا جائے اس دن سے ٹھیک ہر تین ماہ یا چھ ماہ بعد بانڈ ہولڈر کو اضافی رقم کی صورت میں ایک متعین منافع دیا جاتا ہے خواہ اسکا انعام نکلے یا نہ نکلے چونکہ یہ صورت قرض پر منفعت کی صورت ہے اور قرض پر ہر طرح کی منفعت سود ہے لہذا سود ہونے کے سبب پریمیئم بانڈ ناجائز و حرام ہے۔ 2: قسطوں میں اشیاء کی خرید و فروخت اگر حدود شرع میں ہو تو فی نفسہ جائز ہے۔ لیکن بیع بالتقسیط (قسطوں پر خرید و فروخت) کے جائز ہونے کی چند شرائط ہیں : 1: قسط کی رقم اور مدت متعین ہو ۔ 2: قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کسی طرح کا کوئی جرمانہ یا قسط سے اضافی رقم دینے کی شرط نہ ہو۔ 3: جس چیز کو قسطوں پر فروخت کررہے ہیں وہ چیز فروکت کنندہ کی ملک اور اسکے قبضے میں ہو۔ 4: اگر کسی وجہ سے بیع ختم کرنا پڑے تو لازم ہے کہ مشتری نے جس قدر رقم ایڈوانس یا اقساط کی صورت میں ادا کی اسکو واپس کی جائے، البتہ اگر مشتری کی ملک میں مبیع( جس چیز کو بیچا ) کے اندر کوئی ایسا عیب یا خرابی پیدا ہوگئی جو عقد کے وقت نہ تھی تو اس عیب کی بمقدار مشتری سے ضمان لیا جاسکتا ہے ۔ لہذااگر مذکورہ شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے کسی بھی ادارے یا بینک میں قسطوں پر خرید و فروخت کا معاملہ کیا جائے تو یہ جائز و حلال ہے۔اسکے بعد وہ گاڑی ذاتی استعمال میں لائی جائے یا کسی کمپنی میں چلائی جائےاس میں کوئی قباحت نہیں۔ مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے : الْبَيْعُ مَعَ تَأْجِيلِ الثَّمَنِ وَتَقْسِيطِهِ صَحِيحٌ يَلْزَمُ أَنْ تَكُونَ الْمُدَّةُ مَعْلُومَةً فِي الْبَيْعِ بِالتَّأْجِيلِ وَالتَّقْسِيطِ۔ ترجمہ: قسطوں میں بیع صحیح ہے ، اس بیع میں لازم ہے کہ قسط اور اسکی ادائیگی کی مدت معلوم ہو۔( مجلة الأحكام العدلية،الْمَادَّةُ 245،الْمَادَّةُ 246 جلد 1 ص 50) بدائع الصنائع میں ہے : لامساواة بين النقد والنسيئة لان العين خير من الدين والمعجّل اکثر قيمة من الموجل ترجمہ: نقد اور ادھار برابر نہیں، کیونکہ معین و مقرر چیز ادھار سے بہتر ہے اور ادھار کی قیمت ،نقد کی قیمت سے زائد ہوتی ہے۔( بدائع الصنائع فصل فی شرائط الصحۃ فی البیوع جلد5 ص187) اسی میں ہے: لواشتری شيئا نسيئة لم يبعه مرابحة حتی يبيّن لان للاجل شبهة المبيع وإن لم يکن مبيعا حقيقة لانه مرغوب فيه الاتری ان الثمن قد يزاد لمکان الاجل ترجمہ:اگر ایک چیز ادھار خریدی، اسے بطورِ مرابحہ اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اس کی وضاحت نہ کر دے کیونکہ مدت، مبیع (بکاؤ مال)کے مشابہ ہے، گو حقیقت میں مبیع نہیں، کیونکہ مدت کی رعایت بھی رغبت کا باعث ہوتی ہے، دیکھتے نہیں کہ مدت مقررہ کی وجہ سے کبھی قیمت بڑھ جاتی ہے۔( بدائع الصنائع ،فصل فی بیان ما یجب بیانہ فی المرابحۃ ج5 ص 224) مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب تفہیم المسائل جلد2 ص328 میں لکھتے ہیں: '' مختلف افراد،کمپنیاں اور ادارے نئی الیکٹرانک اشیاء کی اقساط پر خرید وفروخت کا کاروبار کرتے ہیں ، فریقین میں قیمت جو ظاہر ہے رائج الوقت مارکیٹ ویلیو سے زیادہ ہوتی ہے ،طے ہوجاتی ہے اور یہ بھی طے ہوجاتا ہے کہ ماہانہ اقساط اور ادائیگی کتنی مدت میں ہوگی اور مسلم فیہ یا مبیع خریدار کے حوالے کرکے اس کی ملک میں دے دیا جاتا ہے تو یہ عقد شرعا صحیح ہے ، بشرطیکہ اس میں یہ شرط شامل نہ ہو کہ اگر خدا نخواستہ مقررہ مدت میں اقساط کی ادائیگی میں تاخیر ہوگئی اور ادائیگی کی اضافی مدت کے عوض قیمت میں کسی خاص شرح سے کوئی اضافہ ہوگا ۔ اور اگر تاخیر مدت کی عوض قیمت میں اضا فہ کردیا تو یہ سود ہے اور حرام ہے ۔ فی نفسہ حدود شرع کے اندر اقساط کی بیع جائز ہے۔ 3: بینک سے لون لینا ناجائز و حرام ہے، کیونکہ یہ معاملہ واضح طور پر سود اورقرض پر نفع کا معاملہ ہےکیونکہ بینک جو بھی قرضہ دے رہاہے اس پر رقم کی خاص شرح بطور نفع لے رہا ہے، جبکہ قرض پر نفع لینا جبکہ عقد میں مشروط ہو سود ہے اور سود لینا یا دینا دونوں حرام ہے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا۔ ترجمہ: اﷲ نے تجارت (سوداگری) کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔(الْبَقَرَة ، 2 : 275) مسند الحارث باب فی القرض یجر المنفعۃ جلد 1 ص500 میں ہے :عَنْ عُمَارَةَ الْهَمْدَانِيِّ: قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلہ سَلَّمَ: «كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا۔ ترجمہ: عمارہ ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا '' ہر وہ قرض جو نفع دے وہ سود ہے۔ بدائع الصنائع جلد 7 ص 395 میں ہے :(وَأَمَّا) الَّذِي يَرْجِعُ إلَى نَفْسِ الْقَرْضِ: فَهُوَ أَنْ لَا يَكُونَ فِيهِ جَرُّ مَنْفَعَةٍ، فَإِنْ كَانَ لَمْ يَجُزْ، نَحْوُ مَا إذَا أَقْرَضَهُ وَشَرَطَ شَرْطًا لَهُ فِيه ِ مَنْفَعَةٌ؛ لِمَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ «نَهَى عَنْ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا» ؛ وَلِأَنَّ الزِّيَادَةَ الْمَشْرُوطَةَ تُشْبِهُ الرِّبَا؛ لِأَنَّهَا فَضْلٌ لَا يُقَابِلُهُ عِوَضٌ، وَالتَّحَرُّزُ عَنْ حَقِيقَةِ الرِّبَا، وَعَنْ شُبْهَةِ الرِّبَا وَاجِبٌ۔ترجمہ:اور جوشرائط نفس قرض کی طرف لوتتی ہیں وہ یہ ہے کہ وہ اقرض ایسا ہو جس سے نفع حاصل نہ ہو تا ہو اور اگر ایسا ہوا تو یہ جائز نہیں ہے،جیسے جب قرض دیا اور اس میں نفع کی شرط لگادی تو یہ حرام ہے کیونکہ نبی کریم ﷺسے مروی ہے کہ آپ نے اس قرض سے منع فرمایا جو نفع دیتا ہو،کیونکہ اس زیادتی کی شرط سود کی طرح ہے اور کیونکہ یہ ایسی زیادتی ہے ، جس کے مقابلے میں کوئی چیز نہیں ہے،اور سود اور سود کے شبہہ سے بچنا واجب ہے ۔۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب الجواب الصحیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی کتبہ: محمد زوہیب رضا قادری تاریخ اجرا: 2 جمادی الثانی 1444 ھ/26 دسمبر 2022 ء