بینک میں ( fixed deposit ) فکس ڈیپازٹ کروانا
تاریخ: 23 اکتوبر، 2025
مشاہدات: 72
حوالہ: 22
سوال
آج کل کسی قابلِ اعتماد و لائق بھروسہ شخص کے نہ ہونے کی صورت میں کسی اسلامی یا غیر اسلامی بینک میں فکس ڈپوزٹ کروانا جائز ہے یا نہیں؟جس سے رقم جمع کرواکر منافع لے سکیں۔اس پر فتن دور میں عمر رسیدہ حضرات جو کہ کما نہیں سکتے اپنے سیونگ کا پیسہ کسی ایسی جگہ لگاسکتے ہیں کہ جہاں سے انہیں نفع کی امید ہو ۔ یہ جائز ہے یا نہیں؟
نیز کیا سیلانی میں ایسی کوئی سہولت ہے کہ جس میں پیسے رکھواکر نفع مل جائے۔
سائل:بندہ خدا:کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
غیر اسلامی کنونشنل بینک میں پیسے رکھ کر نفع لینا ناجائز و حرام اور سود ہے البتہ اسلامی بینک میں مضاربہ یا مشارکہ کی بنیاد پر پیسے رکھوانا جائز ہے،جبکہ بینک مضاربہ اور مشارکہ کا معاملہ اسکی تمام شرعی شرائط کے ساتھ انجام دے ۔ پھر اس پر ملنے والا نفع سود بھی نہیں ہے ۔ اور اگر معاملہ شرائط کے مطابق نہیں ہے مثلاہر ماہ نفع ایک فکس اماؤنٹ کی صورت میں دیتا ہے تو یہ معاملہ جائز نہیں ہے ۔
اسکی تفصیل یہ ہے کہ بعض اوقات پیسے آپکے ہوتے ہیں اور کام بینک کرتا ہے اسکو مضاربہ کہتے ہیں ، اور نفع کا ریشو فیصدمیں فکس کر لیتا ہے۔یا اسی طرح بعض اوقات بینک بھی پیسے لگاتا ہے اور آپ کے بھی پیسے ہوتے ہیں اور اور نفع کاریشو فیصد میں فکس کر لیتا ہےیہ دونوں صورتیں شرعا جائز ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔تنویر الابصار مع الدر المختار میں مضاربہ کی تعریف یوں ہے:'' (هِيَ) شَرْعًا (عَقْدُ شَرِكَةٍ فِي الرِّبْحِ بِمَالٍ مِنْ جَانِبِ) رَبِّ الْمَالِ (وَعَمَلٍ مِنْ جَانِبِ) الْمُضَارِبِ ''ترجمہ: شریعت کے اعتبار سے مضاربہ ایسا عقد ہے جس میں نفع میں شرکت ہوتی ہے ، اس طرح کی رب المال کی جانب سے مال ہوتا ہے اور مضارب کی جانب سے کام ۔(تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب المضاربۃ جلد 5ص 645 الشاملہ)
بدائع الصنائع میں ہے:الشَّرِكَةُ فِي الْأَصْلِ نَوْعَانِ: شَرِكَةُ الْأَمْلَاكِ، وَشَرِكَةُ الْعُقُودِ فَشَرِكَةُ الْعُقُودِ أَنْوَاعٌ ثَلَاثَةٌ: شَرِكَةٌ بِالْأَمْوَالِ، وَشَرِكَةٌ بِالْأَعْمَالِ، وَتُسَمَّى شَرِكَةَ الْأَبْدَانِ وَشَرِكَةَ الصَّانِعِ، وَشَرِكَةٌ بِالتَّقَبُّلِ، وَشَرِكَةٌ بِالْوُجُوهِ واما بیان جَوَازِ هَذِهِ الْأَنْوَاعِ الثَّلَاثَةِ فَقَدْ قَالَ أَصْحَابُنَا: إنَّهَا جَائِزَةٌ، ترجمہ:شرکت کی ابتداء دو اقسام ہیں شرکت املاک ، شرکت عقود۔ پھر شرکت عقود کی تین اقسام ہیں ،شرکت اموال، شرکت اعمال(اسکو شرکۃ الصنائع اور شرکت تقبل بھی کہتے ہیں)، اورتیسری قسم شرکت وجوہ، اور شرکت کی یہ تینوں اقسام جائز ہیں۔(بدائع الصنائع ، کتاب الشرکۃ
، انواع الشرکۃ،جلد 2 ص 56)
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے:(وَكَوْنُ الرِّبْحِ بَيْنَهُمَا شَائِعًا) فَلَوْ عَيَّنَ قَدْرًا فَسَدَت۔ترجمہ:اور اسکی شرط یہ ہے کہ نفع دونوں کے درمیان شائع ہو (مثلا نصف ،نصف یا دو تہائی اور ایک تہائی وغیرہ) اوراگر رقم کی کوئی مقدار متعین کر لی تو مضاربہ فاسد ہوجائے گا۔( تنویر الابصار مع الدرالمختار ،کتاب الشرکۃ، جلد 5 ص 648)۔
نیز سیلانی میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
محمد زوہیب رضا قادری
10ربیع الثانی 1442 ھ/26 نومبر 2020 ء