تراویح سے متعلق مختلف مسائل

    tarawih se mutaliq mukhtalif masail

    تاریخ: 3 جولائی، 2026
    مشاہدات: 26
    حوالہ: 1562

    سوال

    میں محمد شاہد، آپ کی خدمت میں ایک اہم مسئلہ عرض کرنا چاہتا ہوں جس کا تعلق رمضان المبارک میں ادا کی جانے والی نمازِ تراویح اور اس میں کی جانے والی تلاوتِ قرآن سے ہے،ہماری جامع مسجد میں ایک حافظ صاحب امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کی آواز، تلفظ اور قراءت میں خوش الحانی پائی جاتی ہے، لیکن متعدد مرتبہ مشاہدے میں آیا ہے کہ وہ دورانِ تراویح آیات چھوڑ دیتے ہیں۔ کبھی تین چار سطریں، اور بعض اوقات آدھا صفحہ بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ بعض اوقات وہ ان آیات کو بعد میں دہرا لیتے ہیں، کبھی اگلے دن دہراتے ہیں، اور بعض مواقع پر بالکل نہیں دہراتے۔

    لہٰذا گزارش ہے کہ درج ذیل سوالات کی شرعی رہنمائی مرحمت فرمائیں:

    1) اگر حافظِ قرآن تراویح میں بارہا آیات چھوڑ دے اور ان کی تصحیح نہ کرے تو اس کی امامت کا کیا حکم ہوگا؟

    2) کیا ایسے حافظ کو تراویح کی امامت جاری رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟

    3) ایسی تراویح جس میں آیات مکمل نہ پڑھی گئیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہو گی؟

    4) کیا سامع کو لقمہ دینا ضروری ہے؟ اور اگر وہ لقمہ دے، تو کیا مسجد کی انتظامیہ اسے روک سکتی ہے؟

    5) تراویح میں لقمہ دینا کن مواقع پر شرعاً ضروری یا مستحب ہوتا ہے؟

    6) تراویح میں ختمِ قرآن کا کیا درجہ ہے؟ اگر ختم نہ ہو تو کیا حکم ہو گا؟

    یہ مسائل ہم سب کی دینی ذمہ داری اور قرآن پاک کی حفاظت و حرمت سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں تاکہ مسجد اور اہلِ محلہ میں نمازِ تراویح صحیح طریقے سے ادا ہو سکے۔اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں حق پر چلنے کی توفیق دے۔

    سائل: محمد شاہد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1،2: اگر کوئی حافظ دورانِ تراویح جان بوجھ کر آیات ترک کردے اور بعد ازاں تصحیح بھی نہ کرے تو ایسا کرنا خلاف اولٰی ہے اور حافظ کو چاہیے کہ ایسا کرنے سے احتراز کرے نیز اس صورت میں ذمہ داری سامع پر عائد ہوتی ہے کہ جہاں جہاں غلطی کرے لقمہ دے اگر چہ ایک رکعات میں کئی بار لقمہ دینا پڑے،البتہ امامت سے معزول کرنا واجب نہیں ہے۔

    شامی میں ہے: وَيَجْتَنِبُ الْمُنْكَرَاتِ هَذْرَمَةَ الْقِرَاءَةِ، وَتَرْكَ تَعَوُّذٍ وَتَسْمِيَةٍ، وَطُمَأْنِينَةٍ، وَتَسْبِيحٍ، وَاسْتِرَاحَةٍ۔ ترجمہ: "اور (امام پر لازم ہے کہ) منکرات سے اجتناب کرے، جیسے: تیز رفتاری سے قرآن پڑھنا (بلا دھیان)، تعوذ اور تسمیہ چھوڑ دینا، نماز میں اطمینان نہ رکھنا، تسبیح چھوڑ دینا، اور نماز کے درمیان استراحت ترک کرنا۔

    اسکے تحت شامی میں ہے:(قَوْلُهُ هَذْرَمَةَ) بِفَتْحِ الْهَاءِ وَسُكُونِ الذَّالِ الْمُعْجَمَةِ وَفَتْحِ الرَّاءِ: سُرْعَةُ الْكَلَامِ وَالْقِرَاءَةِ، قَامُوسٌ، وَهُوَ مَنْصُوبٌ عَلَى الْبَدَلِيَّةِ مِنْ الْمُنْكَرَاتِ، وَيَجُوزُ الْقَطْعُ۔ترجمہ:(قولہ: "ہذرمۃ") یعنی ہاء پر زبر، ذالِ معجمہ (یعنی نقطے والی ذال) پر سکون، اور راء پر زبر کے ساتھ، اس کا معنی ہے: بولنے اور پڑھنے میں بہت تیزی کرنا، جیسا کہ "قاموس" (لغت) میں آیا ہے۔ اور یہ لفظ "منکرات" کی قسم کے طور پر منصوب ہے، یعنی "منکرات" میں شامل ہے۔ اور اس کو الگ جملہ ماننا بھی درست ہے۔

    3:اگر تراویح کے دوران قرآن کی آیات ترک ہوگئی تو اس صورت میں ختمِ قرآن کی سنت پر عمل نہ ہوگا جس کی وجہ سے ختم قرآن کے ثواب سے محروم رہیں گے، کیونکہ تراویح میں ایک بار ختمِ قرآن سنت علی الکفایہ ہے۔اکثر کتب فقہ مثل تبیین، فتح، تنویر،ہدایہ، در مختار، ھندیہ و طحطاوی وغیرہ میں ختمِ قرآن کا حکم بلفظِ سنت بلاتاکید آیا ہے ،اورعباراتِ فقہاء سے یہی مستفاد،وفتاوٰی رضویہ سے یہی مصرح ہے۔لہذا اگر ایک آیت بھی رہ جائے تو ختمِ قرآن نہ کہلائے گا جس کے سبب ختم قرآن کا ثواب حاصل نہ ہوگا البتہ تراویح کا ثواب ضرور مل جائے گا۔

    محیطِ برہانی میں ہے: والحاصل: السنة الختم في التراويح مرة ..... وإذا غلط في القراءة في التراويح فترك سورة أو آية وقرأ ما بعدها، فالمستحب له أن يقرأ المتروكة ثم المقروءة ليكون على الترتيب وكذا في (فتاوى قاضيخان) وإذا فسد الشفع وقد قرأ فيه، لا يعتد بهما قرأ فيه، ويعيد القراءة ليحصل له الختم في الصلاة الجائزة۔ ترجمہ: اور حاصل کلام یہ ہے کہ تراویح میں قرآن مجید کا ایک مرتبہ ختم کرنا سنت ہے۔۔۔ اور اگر تراویح میں قراءت کے دوران غلطی ہو جائے، مثلاً کوئی سورت یا آیت چھوڑ دے اور اس کے بعد کی تلاوت کر لے، تو مستحب یہ ہے کہ وہ چھوڑی ہوئی آیت یا سورت دوبارہ پڑھے، پھر اس کے بعد وہ آیات پڑھے جنہیں اس سے پہلے پڑھ چکا تھا، تاکہ قرآنی ترتیب باقی رہے۔ یہی بات فتاویٰ قاضی خان میں بھی موجود ہے۔ اور اگر تراویح کی شفع (یعنی دو رکعت) فاسد ہو جائے اور اس میں قرآن پڑھا گیا ہو، تو اس میں کی گئی قراءت معتبر نہیں ہوگی، بلکہ وہ قراءت دوبارہ دہرائے، تاکہ قرآن کا ختم ایسی نماز میں ہو جو صحیح اور جائز ہو۔( كتاب الصلاة، فصل: في التراويح: 1/175، دار الفكر)

    شامی میں ہ:(قَوْلُهُ وَالْخَتْمُ مَرَّةً سُنَّةٌ) أَيْ قِرَاءَةُ الْخَتْمِ فِي صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ سُنَّةٌ وَصَحَّحَهُ فِي الْخَانِيَّةِ وَغَيْرِهَا، وَعَزَاهُ فِي الْهِدَايَةِ إلَى أَكْثَرِ الْمَشَايِخِ. وَفِي الْكَافِي إلَى الْجُمْهُورِ، وَفِي الْبُرْهَانِ: وَهُوَ الْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْمَنْقُولُ فِي الْآثَارِ.ترجمہ: تراویح میں ختمِ قرآن سنت ہے اور اسی کو خانیہ وغیرھا میں صحیح قرار دیا اور ہدایہ میں اسکو اکثر مشائخ کی طرف اور کافی میں جمہور ی طرف منسوب کیا ۔ اور برہان میں ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ سے یہی منقول ہے اور آثار میں یہی منقول ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار شرح تنویرالابصار جلد 2 ص46)

    سیدی اعلٰی حضرت س فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں :تراویح میں ختمِ قرآن عظیم ہو تو مقتدی کو بتانا چاہئے جبکہ امام سے نہ نکلے یا وہ آگے رواں ہو جائے اگرچہ اس غلطی سے نماز میں کچھ خرابی نہ ہو کہ مقصود ختمِ کتابِ عزیز ہے اور وہ کسی غلطی کے ساتھ پورا نہ ہو گا ۔ (فتاوٰی رضویہ شریف ج7، ص 282رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    4،5 : اگر امام تراویح کے دوران کسی مقام پر رک جائے اور آگے نہ پڑھ پائے، یا رواں تلاوت کرتے ہوئے کوئی آیت یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ کر بغیر کسی توقف یا غلطی کے آگے نکل جائے، اور نہ ہی اتنی دیر خاموشی اختیار کرے جو نماز کے فساد کا باعث بنے، اور نہ ہی اس سے معنی میں خرابی پیدا ہوتو ایسی صورت میں اگرچہ نماز شرعاً درست شمار ہوگی، تاہم مقتدی کو امام کو لقمہ دینا مستحب ہے بلکہ بعض صورتوں میں واجب ہو جاتا ہے، تاکہ قرآن کی تلاوت درست ہو۔ اگر حافظ غلطی کرتا رہے اور سامع لقمہ نہ دے، تو یہ بھی سستی اور تقصیر شمار ہو گیالبتہ مسجد کی انتظامیہ کو سامع کو لقمہ دینے سے روکنے کا کوئی شرعی اختیار نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تراویح کی نماز کا ایک اہم مقصد قرآنِ کریم کا مکمل ختم کرنا ہوتا ہے، اور اگر کوئی آیت یا حصہ رہ جائے اور لقمہ نہ دیا جائے تو یہ مقصد ادھورا رہ جاتا ہے، اگرچہ نماز اپنی ظاہری شرائط کے لحاظ سے صحیح ہوجائے گی۔

    ہندیہ میں ہے: ويكره للمقتدي أن يفتح على إمامه من ساعته؛ لجواز أن يتذكر من ساعته فيصير قارئا خلف الإمام من غير حاجة. كذا في محيط السرخسي، ولا ينبغي للإمام أن يلجئهم إلى الفتح؛ لأنه يلجئهم إلى القراءة خلفه، وإنه مكروه، بل يركع إن قرأ قدر ما تجوز به الصلاة، وإلا ينتقل إلى آية أخرى. كذا في الكافي، وتفسير الإلجاء : أن يردد الآية، أو يقف ساكتا. كذا في النهاية۔ترجمہ: اور مقتدی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ فوراً امام کو لقمہ دے، کیونکہ ممکن ہے کہ امام خود ہی فوراً یاد کر لے، اور اس صورت میں مقتدی بلا ضرورت قراءت کرنے والا بن جائے، جیسا کہ "محیط السرخسی" میں ہے۔ اور امام کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مقتدیوں کو لقمہ دینے پر مجبور کرے، کیونکہ اس طرح وہ انہیں اپنے پیچھے قراءت پر مجبور کرے گا، حالانکہ امام کے پیچھے قراءت کرنا مکروہ ہے۔ بلکہ امام کو چاہیے کہ اگر اس نے اتنی قراءت کرلی ہے جس سے نماز صحیح ہو جاتی ہے تو رکوع کر لے، ورنہ کسی اور آیت کی طرف منتقل ہو جائے، جیسا کہ "کافی" میں ہے۔ اور "الْإلجاء" (مجبور کرنے) کی تشریح یہ ہے کہ امام کسی آیت کو بار بار دہرائے یا خاموش کھڑا رہے، جیسا کہ "نہایہ" میں بیان کیا گیا ہے۔(فتاوٰی ہندیہ ،کتاب الصلاة، الفصل الأول فیما یفسدها: ج 1، ص 99،)

    6: تراویح میں ایک بار ختمِ قرآن سنت علی الکفایہ ہے، دو بار فضیلت جبکہ تین بار افضل ہے ۔اکثر کتب فقہ مثل تبیین، فتح، تنویر،ہدایہ، در مختار، ھندیہ و طحطاوی وغیرہ میں ختمِ قرآن کا حکم بلفظِ سنت بلاتاکید آیا ہے ،اورعباراتِ فقہاء سے یہی مستفاد،وفتاوٰی رضویہ سے یہی مصرح ہے۔بلاضرورت ختم قرآن ترک نہیں کرنا چاہیے بالخصوص اس صورت میں جب وافر مقدار میں ھٖاظ موجود ہوں جیساکہ آج کل ایک مسجد میں تراویح پڑھانے کے لئے کئی کئی حفاظ خواہشمند ہوتے ہیں ، اور کئی ایک ایسے جو اچھے حافظ ہوتے ہیں لیکن تراویح پڑھانے کی جگہ نہ ملنے کے سبب تراویح پڑھانے سے محروم رہتے ہیں، البتہ اگر ختم قرآن کی وجہ سے لوگ تراویح ہی ترک کررہے ہیں تو بہتر ہے کہ ختم قرآن کے بجائے مختصر سورتیں پڑھی جائیں اور تراویح قائم کی جائے۔ایسا کرنا نہ صرف جائز بلکہ اولٰی ہے اور امام پر اسکا کوئی گناہ نہ ہوگا۔

    یہ اس لئے بھی جائزہےکہ اگر ختم قرآن کیا جائے تو لوگ تراویح ہی نہ پڑھیں گےاس صورت میں اس حکم کی وجہ سے کہ جو سنت علی الکفایہ ہے ایک دوسرے حکم کا ترک لازم آئے گا ،جو کہ سنت مؤکدہ ہے اور سنت علی الکفایہ کی وجہ سے سنت مؤکدہ کا ترک ہر گز جائز نہیں۔

    بعض علماء نے تو تراویح میں ختم قرآن کے مسئلے میں لوگوں کے احوال کی رعایت کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص اپنے زمانے کے احوالسے واقف نہیں وہ جاہل ہے۔بلکہ اگر ختم قرآن،ترکِ تراویح تو کجا ،محض قلتِ جماعت کا سبب بن رہا ہو تو بھی ختم قرآن کو ترک کردینے کی اجازت


    موجود ہے ،کئی ایک کتب فقہ میں تصریح ہے کہ اگر تطویلِ قرات کے سبب جماعت میں قلت ہورہی ہو تو محض اتنا قرآن پڑھا جائے جس سے قوم متنفر نہ ہو کیونکہ تکثیرِ جماعت ،تطویل قرات سے افضل و اولٰی ہے۔

    تنویر الابصار مع الدر میں ہے:(وَالْخَتْمُ)مَرَّةً سُنَّةٌ وَمَرَّتَيْنِ فَضِيلَةٌ وَثَلَاثًا أَفْضَلُ.(وَلَا يُتْرَكُ)الْخَتْمُ (لِكَسَلِ الْقَوْمِ)لَكِنْ فِي الِاخْتِيَارِ،الْأَفْضَلُ فِي زَمَانِنَا قَدْرُ مَا لَا يَثْقُلُ عَلَيْهِمْ، وَأَقَرَّهُ الْمُصَنِّفُ وَغَيْرُهُ. وَفِي الْمُجْتَبَى عَنْ الْإِمَامِ: لَوْ قَرَأَ ثَلَاثًا قِصَارًا أَوْ آيَةً طَوِيلَةً فِي الْفَرْضِ فَقَدْ أَحْسَنَ وَلَمْ يُسِئْ، فَمَا ظَنُّك بِالتَّرَاوِيحِ؟ وَفِي فَضَائِلِ رَمَضَانَ لِلزَّاهِدِيِّ: أَفْتَى أَبُو الْفَضْلِ الْكَرْمَانِيُّ وَالْوَبَرِيُّ أَنَّهُ إذَا قَرَأَ فِي التَّرَاوِيحِ الْفَاتِحَةَ وَآيَةً أَوْ آيَتَيْنِ لَا يُكْرَهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عَالِمًا بِأَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلٌ.ترجمہ:اور ایک بار ختم قرآن سنت ، دو بار فضیلت جبکہ تین بار افضل ہے۔ اور قوم کی سستی کہ وجہ سے ختم قرآن ترک نہیں کیا جائے گا۔ لیکن الاختیار میں ہے کہ ہمارے زمانے میں افضل یہ ہے کہ اتنا پڑھا جائے جو قوم پر ثقل کا باعث نہ بنے اور مصنف وغیرہ نے اسی کو برقرار رکھا۔ اور مجتبٰی میں امام سے منقول ہے کہ اگر کسی نے فرض میں تین چھوٹی یا ایک بڑی آیت پڑھی تو اس نے اچھا کیا نہ کہ برا ۔تو تراویح میں تیرا کیا خیال ہے ؟ اور زاہدی کی فضائل رمضان میں ہے کہ ابو الفضل کرمانی نے اور وبری نے فتوٰی دیا کہ اگر کسی نے تراویح میں سورۃ الفاتحہ اور ایک یا دو آیات پڑھیں تو مکروہ نہیں ہے اور جو شخص اپنے زمانے سے واقف نہ ہو تو وہ جاہل ہے۔

    اسکے تحت شامی میں ہے:(قَوْلُهُ وَالْخَتْمُ مَرَّةً سُنَّةٌ) أَيْ قِرَاءَةُ الْخَتْمِ فِي صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ سُنَّةٌ وَصَحَّحَهُ فِي الْخَانِيَّةِ وَغَيْرِهَا، وَعَزَاهُ فِي الْهِدَايَةِ إلَى أَكْثَرِ الْمَشَايِخِ. وَفِي الْكَافِي إلَى الْجُمْهُورِ، وَفِي الْبُرْهَانِ: وَهُوَ الْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْمَنْقُولُ فِي الْآثَارِ.ترجمہ: تراویح میں ختمِ قرآن سنت ہے اور اسی کو خانیہ وغیرھا میں صحیح قرار دیا اور ہدایہ میں اسکو اکثر مشائخ کی طرف اور کافی میں جمہور ی طرف منسوب کیا ۔ اور برہان

    میں ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ سے یہی منقول ہے اور آثار میں یہی منقول ہے۔

    شامی میں در کے قول والافضل فی زماننا کے تحت مذکور ہے: (قَوْلُهُ الْأَفْضَلُ فِي زَمَانِنَا إلَخْ) لِأَنَّ تَكْثِيرَ الْجَمْعِ أَفْضَلُ مِنْ تَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ حِلْيَةٌ عَنْ الْمُحِيطِ. وَفِيهِ إشْعَارٌ بِأَنَّ هَذَا مَبْنِيٌّ عَلَى اخْتِلَافِ الزَّمَانِ، فَقَدْ تَتَغَيَّرُ الْأَحْكَامُ لِاخْتِلَافِ الزَّمَانِ فِي كَثِيرٍ مِنْ الْمَسَائِلِ عَلَى حَسَبِ الْمَصَالِحِ، وَلِهَذَا قَالَ فِي الْبَحْرِ: فَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمُصَحَّحَ فِي الْمَذْهَبِ أَنَّ الْخَتْمَ سُنَّةٌ لَكِنْ لَا يَلْزَمُ مِنْهُ عَدَمُ تَرْكِهِ إذَا لَزِمَ مِنْهُ تَنْفِيرُ الْقَوْمِ وَتَعْطِيلُ كَثِيرٍ مِنْ الْمَسَاجِدِ خُصُوصًا فِي زَمَانِنَا فَالظَّاهِرُ اخْتِيَارُ الْأَخَفِّ عَلَى الْقَوْمِ.ترجمہ:کیونکہ جماعت کی کثرت طولِ قرات سے افضل ہے ۔حلیہ نے محیط سے ذکر کیا ہے۔اور اس میں اس بات کی طرف آگاہی ہے کہ یہ (ختم قرآن فی التراویح)اختلاف زمان پر مبنی ہے ، کیونکہ زمانے کے اختلاف سے مصلحت کے پیشِ نظر بہت سے مسائل میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے اسی لئے بحر میں فرمایا :حاصل یہ ہے کہ صحیح مذہب یہ ہے کہ ختم قرآن سنت سے لیکن جب ختم قرآن سے قوم کا متنفر ہونا اور بہت سی مساجدکا ویران ہونا لازم آئے تواس صورت میں ختم قرآن کا اہتمام لازم نہیں آتابالخصوص ہمارے زمانے میں(جبکہ لوگ دینی امور میں غفلت اور سستی کا شکار ہیں۔)تو ظاہر یہ ہے کہ قوم پر تخفیفی معاملہ اختیار کیا جائے۔(رد المحتار علی الدر المختار شرح تنویرالابصار جلد 2 ص 47،46)

    حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے:"وسن ختم القرآن فيها" أي التراويح "مرة في الشهر على الصحيح" وهو قول الأكثر رواه الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله۔ يقرأ في كل ركعة عشر آيات أو نحوها "وإن مل به" أي بختم القرآن في الشهر "القوم قرأ بقدر ما لا يؤدي إلى تنفيرهم في المختار" لأن الأفضل في زماننا ما لا يؤدي إلى تنفير الجماعة كذا في الاختيار وفي المحيط الأفضل في زماننا أن يقرأ بما لا يؤدي إلى تنفير القوم عن الجماعة لأن تكثير القوم أفضل من تطويل القراءة وبه يفتى. وقال الزاهد يقرأ كما في المغرب أي بقصار المفصل بعد الفاتحة۔ ترجمہ:اور تراویح میں پورے ماہ میں ایک بار ختم قرآن سنت ہے اور یہی اکثر کا قول ہے امام حسن نے امام اعظم ابوحنیفہ سے یہی روایت کیا ۔ ہر رکعت میں دس آیات یا دس آیات کی مقدار پڑھے ، لیکن اگر قوم رمضان میں ختم قرآن سے بے رغبتی کا اظہار کرے تو امام اتنافقط پڑھے کہ جس سے قوم متنفر نہ ہو۔کیونکہ ہمارے زمانے میں افضل یہ ہے کہ اتنا پڑھے جس سے جماعت متنفر نہ ہو اسی طرح الاختیار میں ہے اور محیط میں ہے کہ ہمارے زمانے میں افضل یہ ہے کہ اتنا پڑھے جس سے قوم جماعت سے متنفر نہ ہوکیونکہ قوم کی کثرت طولِ قرات سے افضل ہے ،اور اسی پر فتوٰی ہے۔اور زاہد نے فرمایا کہ تراویح میں اتنی قرات کرے جتنی مغرب میں ہوتی ہے یعنی فاتحہ کے بعد قصار مفصل (سورۃ البینہ سے الناس تک )پڑھے۔(حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح ، ص 414، 415)

    سیدی اعلٰی حضرت سے سوال کیا گیا کہ ایک حافظ صاحب تراویح پڑھانے کی وجہ سے روزے چھوڑتے ہیں ، آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں :

    سبحان اﷲ!نزد علماء قیام نماز کہ خود فرض است بغرض مراعات روزہ ساقط گردد اینجاروزہ رمضان بہرادائے سنّتے حاشا بلکہ بہر تفاخرے بہ حصول امامتے بلکہ بہر فعلے ناجائزے گناہے حرامے عفو مے شود ان ھذا الاجھل صریح او عناد قبیح ایں عزیز راگویند کہ حق سبحانہ، وتعالٰی صومِ رمضان بر تو وہمگناں فرض عین فرمودہ است و قرآن در تراویح ختم کردن نہ فرض ست ونہ سنتِ عین۔ترجمہ:سبحان اﷲ! علماء کے نزدیک روزہ کی خاطر نماز میں قیام ساقط ہوجاتا ہے حالانکہ یہ قیام فرض ہے صورتِ مذکورہ میں تو سنت کی خاطر نہیں بلکہ حصول امامت پر تفاخر کے لیے روزہ رمضان ترک کیا جارہا ہے بلکہ ناجائز، حرام اور گناہ فعل کے لیے ترک ہے، اللہ تعالٰی معاف فرمائے ۔یہ تو جہالت صریح اور عناد قبیح ہے اس عزیز سے کہا جائے کہ ا ﷲ سبحانہ وتعالٰی نے تجھ پر روزہ رمضان فرضِ عین فرمایاہے اور تراویح میں قرآن ختم کرنا نہ فرض نہ سنّتِ عین۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الصوم جلد 10 ص 335)

    کچھ آگے لکھتے ہیں:اے برادر! روزہ فرضِ عین ست و فرض عین بر فرضِ کفایہ مقدم وختمِ قرآن در تراویح سنّتِ کفایہ است وسنت کفایہ از سنت عین مؤخرایں چہ ستم بے خردی باشک کہ سنتِ کتایہ بر فرضِ عین مقدم دارند، من العلماء من وسع فی ترک الختم لکسل القوم قائلاان من لم یکن عالما باھل زمانہ فھو جاھل کما فی الدرمختار عن الزاھدی عن الو بری والکرمانی وفیہ عن الاختیار الافضل فی زماننا قدر مالا یثقل علیہم قال اقرہ الصنف وغیرہ وعن المجتبیٰ عن الامام لوقرأ ثلاثا قصارا او اٰیۃ طویلۃ فی الفرض فقد احسن ولم یسیئ قال الزاھدی فما ظنک بالتراویح۔ترجمہ:اے میرے بھائی! روزہ فرض عین ہے اور فرضِ عین فرضِ کفایہ پر مقدم ہوتا ہے، اور ختمِ قرآن تراویح میں سنتِ کفایہ ہے اور سنت کفایہ سنتِ عین سے مؤخر ہوتی ہے ، یہ کیا ظلم ہے کہ سنتِ کفایہ کو فرض عین پر مقدم کردیا گیا ہے، بعض علماء نے قوم میں سُستی و کاہلی پیدا ہوجانے کی وجہ سے ختمِ قرآن کو ترک کردینے کی بھی گنجائش یہ کہتے ہوئے روا رکھی ہے کہ جو شخص اپنے زمانے کے حالات سے آگاہ نہیں وُہ جاہل ہے جیسا کہ درمختار میں زاہدی سے اور وہاں وبری اور کرمانی کے حوالے سے ہے اور اسی میں الاختیارسے ہے کہ ہمارے زمانے میں اتنی مقدار افضل ہے جو بوجھ نہ بنے، اور کہا کہ اسے ہی مصنّف وغیرہ نے ثابت رکھا ہے، المجتبےٰ میں امام صاحب سے منقول ہے کہ اگر کسی نے فرائض میں تین آیات چھوٹی یا بڑی پڑھیں تو اس نے بہت اچھا کیا اور وہ گنہگار نہیں۔ زاہدی کہتے ہیں کہ پھر تراویح کے معاملہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الصوم جلد 10 ص 336)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: محرم الحرام 1447ھ/ 19 جولائی2025 ء