builder ka shart lagana kaisa
سوال
ایک بلڈر نے اسکیم شروع کی جس کے تحت وہ دوکان ایک کروڑ روپے میں لوگوں کو بیچے گا جس کا 5 فیصد ڈاؤن پیمنٹ لے گا جبکہ بقیہ ماہانہ اقساط کی صورت میں ، پھر اگلے مرحلے میں وہی بلڈر اس دوکان کو واپس کرائے پر لے لے گا ، کرایہ 50 ہزار ماہانہ ہے اور وہ بلڈر یہ آفر کرتا ہے کہ آپ تین سال کا کرایہ یکمشت ایڈوانس لے لو۔ جو شخص یہ معاہدہ نہ کرے اسکو دوکان فروخت نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل: عبدالرحمان : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اولِ نظر میں صورت مسئولہ کا حکم شرع دیکھا جائے تو اگر دونوں عقد ایک دوسرے پر موقوف ہوں جیسا کہ سوال سے بھی واضح ہے ، تو یقینا صفقتان فی صفقہ اور شرطِ فاسد کی وجہ سے ناجائز ہوگا، اوراگر دونوں عقد علیحدہ علیحدہ کیے جائیں ،ایک دوسرے پر موقوف ہونے کی شرط نہ لگائی جائے تو صورت ِ جواز بن سکتی ہے۔
1: نبی کریم ﷺ نے صفقتان فی صفقۃ سے منع فرمایا۔چناچہ مسند احمد بن حنبل میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ،قَالَ،نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ۔ ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سودے میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا۔( مسند احمد بن حنبل،ج 6 ص 324،حدیث نمبر 3783)
ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے: فيصير صفقتان في صفقة واحدة وهي منهي عنه۔ترجمہ:تو یہ ایک سودے میں دو سودے ہیں جو کہ (بحکم ِ حدیث )ممنوع ہے۔( ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، باب الاجارۃ الفاسدۃ ، ج3 ص 241)
علامہ ابن نجیم تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق باب البیع الفاسد ج4ص43پر لکھتے ہیں:وَکَذَلِکَ صَفْقَتَانِ فِی صَفْقَۃٍترجمہ :اور اسی طرح صفقتان فی صفقۃ یعنی ایک سودے میں دوسرا سودا(بھی بیع فاسد کی قسم ہے)۔
2: اس معاہدہ میں یہ شرط کہ دکان اسی کو فروخت کی جائے گی جو بعد میں اسی بلڈر کو کرائے پر دے گا '' شرطِ فاسد ہے، کہ یہ مقتضائے عقد کے خلاف ہے ،اور شرطِ فاسد ،عقودِ مالیہ میں اس عقد کو فاسد کردیتی ہے لہذا اس شرط کی وجہ سے بھی یہ معاہدہ جائز نہیں ہے۔
شرطِ فاسد ، عقد یعنی سودے کو فاسد کردیتی ہے ، درمختار میں ہے: الاصل الجامع فی فساد العقد شرط لایقتضیہ العقد ولایلائمہ وفیہ نفع لاحد ہما ترجمہ: فساد عقد میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ وہ شرط ایسی ہو جس کا تقاضہ عقد نہیں کرتا اورنہ ہی وہ عقد کے ملائم ہے اور اس میں عاقدین میں سے کسی کا نفع ہو ۔(رد المحتار علی الدر المختار ، جلد:5،ص:84،دارالفکر بیروت)
اسی طرح فتاوی تاتارخانیہ میں ہے: وان کان الشرط شرطا لم یعرف ورودالشرع بجوازہ فی صورۃ وھو لیس بمتعارف، ان کان لاحد المتعاقدین فیہ منفعۃ۔۔۔فالعقد فاسد ۔ترجمہ: اگر شرط ایسی ہو جو شریعت میں جائز نہ ہو اور نہ ہی لوگوں کے درمیان وہ معروف ہو ، اگر اس میں کسی ایک (یعنی فروخت کنندہ یا خریدار) کا فائدہ ہو، تو عقد فاسد ہوتا ہے۔(فتاوی تاتار خانیہ، جلد8، صفحہ410، ھند)
پھر ہدایہ میں ہے:كل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع۔ترجمہ:ہر وہ شرط کہ عقد جسکا تقاضہ نہ کرے اور اس شرط کی وجہ سے عاقدین میں سے کسی ایک کایا معقود علیہ کا فائدہ ہورہا ہو تو ایسی شرط بیع کو فاسد کردے گی۔مثلا یہ شرط لگانا کہ مشتری ، غلامِ مبیع کو نہ بیچےگا۔(الہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد جلد 3 ص 48۔ بیروت)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:وکل شرط فاسد فھو یفسد البیع وکل بیع فاسد حرام واجب الفسخ علی کل من العاقدین فان لم یفسخا اثما جمیعا وفسخ القاضی بالجبر۔ ترجمہ: جو شرط فاسد ہو وہ بیع کو فاسد کردیتی ہے اور ہر فاسد بیع حرام ہے جس کا فسخ کرنا بائع اور مشتری میں سے ہر ایک پر واجب ہے اگر وہ فسخ نہ کریں تو دونوں گنہگار ہوں گے اور قاضی جبراً اس بیع کو فسخ کرائے۔ (فتاویٰ رضویہ،کتاب البیوع، ج17، ص ، 160،رضا فاؤنڈیشن لاہور )
یہ تو خالصتاً حکم شرع تھا جبکہ ہماری معلومات کے مطابق اس طرح کی اسکیمیں یا تو فراڈ ہوتی ہیں یا محض پیسے بٹورنے کا ایک حیلہ بایں طور کہ بلڈر اولاً تو کم قیمت والی دکان دگنی قیمت میں فروخت کرتا ہے مثلا جس دکان کی قیمت 50 لاکھ ہوتی ہے اسے1 کروڑ میں فروخت کردیتا ہے بعد ازاں ایک ہی دکان متعدد افراد کو فروخت کردیتا ہے اور ہر ایک سے ایڈوانس کی مد میں رقم لیتا ہے اور اگلے تین سال کا کرایہ ایڈوانس اداکردیتاہے جس کے بعد خریدار تین سال تک بلڈر سے کوئی تقاضا نہیں کرتے اور ہر ماہ اس دکان کی قسط اداکرتے رہتے ہیں تین سال مکمل ہونے پر بلڈر کسی نہ کسی طرح حیلہ کرکے دکان واپس خرید لیتا ہے یعنی خریدار 50 لاکھ والی دکان ایک کروڑ میں خریدتا ہے اگر چہ اقساط میں جبکہ اس دکان میں بلڈر اسکی اصل قیمت 50 لاکھ اور کرائے کی مد میں 18 لاکھ ادا کرنے کے باوجود 32 لاکھ نفع لیتا ہے اور ایسا کئی افراد کے ساتھ کرتا ہے جو کہ سراسر دھوکہ ، فریب اور خیانت ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 جمادی الثانی 1446ھ/ 16 دسمبر 2024 ء