tarawih ka masla o hukum
سوال
ہماری مسجد کے امام صاحب نے تراویح کی دوسری رکعت میں قعدہ نہیں کیا بلکہ کھڑے ہو گئے اور تیسری رکعت کے سجدے کے بعد دوبارہ کھڑے ہو گئے اور آخر میں قعدہ کر کے سلام پھیرا اور سجدہ سہو کر لیا اور اس کے بعد اعلان کیا کہ یہ دو رکعت شمار ہوں گی سوال یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے دو رکعت ہوئی یا چار؟ نیز ان میں کی جانے والی قرات کا کیا حکم ہوگا وہ قرات شمار کی جائے گی یا نہیں؟
سائل:بلال:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
تراویح کا ہر قعدہ ، نوافل کی طرح قعدۂ اخیرہ ہوتا ہے یعنی فرض، قیاساً تو اگر نوافل کا قعدہ اخیرہ کئے بغیر کھڑا ہوجائے تو حکم ہے کہ جب تک تیسری رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کرکے نماز مکمل کرلے لیکن جوں ہی تیسری رکعت کا قعدے کرے گا نماز فاسد ہوجائے گی،اگر چہ تیسری رکعت کے ساتھ ایک رکعت اور ملا کر چار پڑھ لے، لیکن شیخین رحمہ اللہ کے نزدیک استحسانا دو رکعت شمار ہوں گی۔
مبسوط سرخسی میں ہے: (رجل صلى أربع ركعات تطوعا ولم يقعد في الثانية ففي القياس لا يجزئه وهو قول محمد وزفر رحمهما الله) ؛ لأن كل شفع من التطوع صلاة على حدة تفترض القعدة في آخرها، فترك القعدة الأولى هنا كتركها في صلاة الفجر والجمعة فتفسد به الصلاة، وفي الاستحسان تجزئه وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهم الله تعالى - بالقياس على الفريضة؛ لأن حكم التطوع أخف من حكم الفريضة، ويجوز أداء الفريضة أربع ركعات بقعدة واحدة، فكذلك التطوع ألا ترى أن في التطوع يجوز الأربع بتسليمة واحدة وبتحريمة واحدة بالقياس على الفرض فكذلك في القعدة۔ ترجمہ: ایک شخص نے نفل کی چار رکعات ادا کیں اور دوسری رکعت پر قعدہ نہیں کیا تو قیاس کے مطابق یہ نماز جائز نہیں ہوگی اور یہی امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ کا قول ہے کیونکہ نفل کا ہر دوگانہ ایک الگ نماز ہے جس کے آخر میں قعدہ فرض ہے لہذا یہاں پہلا قعدہ چھوڑنا ایسا ہی ہے جیسے فجر اور جمعہ کی نماز میں اسے چھوڑ دیا جائے جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے لیکن استحسان کے مطابق یہ نماز جائز ہو جائے گی اور یہی امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ کا قول ہے انہوں نے اسے فرض نماز پر قیاس کیا گیا ہے کیونکہ نفل کا حکم فرض سے ہلکا ہوتا ہے اور جب فرض نماز چار رکعات ایک قعدہ کے ساتھ ادا کرنا ممکن ہے تو نفل میں بھی ایسا ہی ہوگا کیا آپ نہیں دیکھتے کہ نفل میں فرض پر قیاس کرتے ہوئے ایک سلام اور ایک تحریمہ کے ساتھ چار رکعات جائز ہیں تو یہی حکم قعدہ کا بھی ہوگا۔(مبسوط سرخسی، جلد 1 ص 183)
یونہی تراویح میں بھی یہی حکم ہوگا لہذا صورتِ مسئولہ میں امام کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ دو رکعت شمار ہوں گی ، جب یہ رکعات درست ہوئیں تو ان میں کی جانے والی قرات بھی شمار کی جائے گی۔
ہندیہ میں ہے: في الفتاوى ولو صلى أربعا بتسليمة ولم يقعد في الثانية ففي الاستحسان لا تفسد وهو أظهر الروايتين عن أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - وإذا لم تفسد قال محمد بن الفضل تنوب الأربع عن تسليمة واحدة وهو الصحيح، كذا في السراج الوهاج، وهكذا في فتاوى قاضي خان.وعن أبي بكر الإسكاف أنه سئل عن رجل قام إلى الثالثة في التراويح ولم يقعد في الثانية قال: إن تذكر في القيام ينبغي أن يعود ويقعد ويسلم وإن تذكر بعدما سجد للثالثة فإن أضاف إليها ركعة أخرى كانت هذه الأربع عن تسليمة واحدة۔ ترجمہ: فتاویٰ میں ہے کہ اگر کسی نے ایک سلام کے ساتھ چار رکعات پڑھیں اور دوسری رکعت میں قعدہ نہیں کیا تو استحسان کے مطابق نماز فاسد نہیں ہوگی اور امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ سے یہی ظاہر الروایت ہے اور جب نماز فاسد نہیں ہوئی تو محمد بن الفضل فرماتے ہیں کہ یہ چاروں رکعات ایک سلام کے قائم مقام ہوں گی اور یہی صحیح ہے جیسا کہ سراج الوہاج اور فتاویٰ قاضی خان میں ہے اور ابوبکر اسکاف سے مروی ہے کہ ان سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تراویح میں دوسری رکعت پر قعدہ کیے بغیر تیسری کے لیے کھڑا ہو گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر قیام کے دوران یاد آ جائے تو اسے چاہیے کہ لوٹ آئے اور قعدہ کر کے سلام پھیر دے اور اگر تیسری رکعت کا سجدہ کرنے کے بعد یاد آئے اور اس نے اس کے ساتھ چوتھی رکعت بھی ملا لی تو یہ چاروں رکعات ایک سلام کےساتھ (یعنی دو رکعت)شمار ہوں گی۔ (فتاوٰی ہندیہ، کتاب الصلوۃ، الفصل التاسع، باب التراویح، جلد 1 ص 118)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:26 رمضان المبارک 1447ھ/ 16 مارچ2026 ء