telegram app ke zariye kamana
سوال
ٹیلیگرام ایپ ہے اس کو ہر دو گھنٹے بعد کھول کر دیکھنا ہوتا ہے پھر اس پر ایک ایڈشیئرکرناہوتاہے جس کے ہمیں کو 2 ڈالر ملتے ہیں اور جب ڈالر 1000 تک پہنچ جائے تو پھر آپ نکال سکتے ہیں، تو کیا ایسا کرنا شرعا درست ہےجبکہ ایڈزکمرشل ہوتے ہیں جن میں موسیقی، تصاویر(جو عام طور پر خواتین کی ہوتی ہیں )اور کچھ ایڈز جانور و دیگر چیزوں کے بھی آتے ہیں ؟
سائل: علی: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سوال میں کاروبار کی جو صورت بیان کی گئی وہ جائز نہیں ہےاس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہ ایک قسم کا اجارہ ہےاور اجارہ منفعتِ مقصودہ پر ہوتا ہے جبکہ یہاں منفعت کا حصول مقصود نہیں ہےاور دوسری وجہ یہ ہے کہ جس طرح کے ایڈز آئینگے ان کی اکثریت غیر شرعی ہے جس کی وجہ سے غیر شرعی کاموں میں ملوث ہوکر پیسہ کمانا اور ان کی ترویج واشاعت کرناہوگا جو کہ ناجائز وحرام ہیں لہذا اس طریقے سے پیسے کمانا جائز نہیں ہے ۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ شرعا اجارہ ایسی منفعت پر کرنا جا ئز ہے جو عرف میں مقصود ہو جب کہ یہاں ان ایڈز کا کھولنا اور ان کو دیکھنا مقصود نہیں ہوتا جس کی وجہ سے یہ اجارہ باطل ہے ،اور اکاؤنٹ کھولنے کے بعد بھی وہ آپ سے ایڈز پر کلک کرنے کا اجارہ (یعنی اجارۃ العمل )کرتے ہیں لیکن جن ایڈز پرکلک کر کے کھولناہوگا ،ان میں غیر شرعی امور ہونگے تو ان خرابیوں کی وجہ سے یہ عقد باطل بھی ہے اور فاسد بھی ہے لہذااس طریقے سے کام کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:أَنَّ الْإِجَارَةَ نَوْعَانِ إجَارَةٌ عَلَى الْمَنَافِعِ، وَإِجَارَةٌ عَلَى الْأَعْمَالِ۔ترجمہ:اجارہ کی دو قسمیں ہیں ایک اجارۃالمنفعت (یعنی کسی چیزکو باقی رکھ کرعوض کے ساتھ اس سے نفع اٹھا نا )اور ایک اجارۃ الاعمال ہے (عوض کے بدلے اپنی خدمات پیش کرنا )۔( بدائع الصنائع،کتاب الاجارۃ ، فصل فی رکن الاجارۃ ،ج:4ص:174،طبع:دارالکتب العلمیۃ)
تنویر الابصار مع الدر المختارمیں ہے:وَشَرْعًا تَمْلِيكُ نَفْعٍ مَقْصُودٍ مِنْ الْعَيْنِ بِعِوَضٍ حَتَّى لَوْ اسْتَأْجَرَ ثِيَابًا أَوْ أَوَانِي لِيَتَجَمَّلَ بِهَا أَوْ دَابَّةً لِيَجْنُبَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ أَوْ دَارًا لَا لِيَسْكُنَهَا أَوْ عَبْدًا أَوْ دَرَاهِمَ أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ لَا لِيَسْتَعْمِلَهُ بَلْ لِيَظُنَّ النَّاسُ أَنَّهُ لَهُ فَالْإِجَارَةُ فَاسِدَةٌ فِي الْكُلِّ، وَلَا أَجْرَ لَهُ لِأَنَّهَا مَنْفَعَةٌ غَيْرُ مَقْصُودَةٍ مِنْ الْعَيْنِ۔ترجمہ:شرعا اجارہ کی تعریف یہ ہے کہ کسی بھی شی کی منفعتِ مقصودہ کاعوض کے ساتھ مالک بنانا ،تو اگر کسی شخص نے کپڑوں کو،یا برتنوں کو اجارہ پر لیا تاکہ ان کے ذریعے زینت حاصل کرے ،یا جانور کو اجارہ پر لیا تاکہ اپنے سامنے اس کو (باندھ کے )رکھے ،یا گھر کواجارہ پر لیا رہنے کے لیئے نہیں (بلکہ دکھانے کے لیئے )یا غلام، یا دراھم،یا اس کے علاوہ کچھ بھی اجارہ پرلیا استعمال کے لیئے نہیں بلکہ اس لیے کہ لوگ سمجھیں یہ اسی کے ہیں تو ان تمام صورتوں میں اجارہ فاسد (یعنی باطل)ہے اور اس کے لیئے کوئی اجرت نہیں ہوگی کیوں کہ یہ ایسی منفعت ہے جو شئی سے مقصود نہیں ہے ۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب الاجارۃ ،ج: 6،ص:4،طبع:دارالفکر )
اسی میں ایک اور مقام پر ہے:لَا تَصِحُّ الْإِجَارَةُ لِأَجْلِ الْمَعَاصِي مِثْلُ الْغِنَاءِ وَالنَّوْحِ وَالْمَلَاهِي۔ترجمہ:گناہ کے کاموں پر اجارہ کرنا جائز نہیں ہے جیسا کہ گانا گانے ،نوحہ کرنے اور لھوو لعب کے کاموں پر اجارہ کرنا ۔(المرجع السابق، کتاب الاجارۃ ،مطلب الاجارۃ علی المعاصی،ج: 6،ص55، طبع : دارالفکر )
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15 ربیع الاول 1447ھ/ 09 ستمبر2025 ء