زوجہ، تین بیٹیاں، دو بھائی

    zauja teen betiyan do bhai

    تاریخ: 18 اپریل، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 1165

    سوال

    میرے والد مرحوم کا ایک گھر لیاقت آباد میں تھا ، انکی وفات کے بعد وہ گھر میری والدہ نے 8 لاکھ میں بیچ دیا اس میں سے انہوں نے 6 لاکھ کا ایک اور فلیٹ خریدا ۔اور بقیہ دو لاکھ میں چھ اور ملاکر دوسرا فلیٹ 8 لاکھ کا خریدا۔ پھر ایک سال بعد دوسرا فلیٹ 10لاکھ 40 ہزار کابیچ کر سرجانی میں ایک مکان 6 لاکھ خریدا،جسکی اب مارکیٹ ویلیو 15 لاکھ ہے ،اور پہلے فلیٹ کی قیمت 18 لاکھ ہے۔ اب بتائیے کہ وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی ؟ 8 لاکھ کے حساب سے ہوگی جو کہ والد کا مکان بیچا تھا اسکی قیمت کے حساب سے یا پھر موجودہ مارکیٹ ویلیو سے ہوگی؟ ہم تین بہن، دو بھائی اور ایک والدہ ہے۔

    سائل: اویس ایاز : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    وراثت کا مکان بیچ کر جو فلیٹ چھ لاکھ کا خریدا اور اسکی موجودہ قیمت 18 لاکھ ہے وہ مکمل طور پر وراثت میں تقسیم ہوگا۔اوروراثت کے مکان کی قیمت سے جو دو لاکھ روپے ملاکردوسرا فلیٹ ،مکان وغیرہ جو بھی خریدا، اس میں مال وراثت کےاور دوسرے مال کے تناسب سے تقسیم ہوگیمجلۃ الاحکام میں ہے: تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ :ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )

    تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مال وراثت کے آٹھ حصے کئے جائیں گے جس میں سے مرحوم کی زوجہ کو ایک حصہ اسی طرح ہر بیٹی کو ایک حصہ اور ہر بیٹے کو دو حصے ملیں گے ۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ :ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:25 محرم الحرام 1441 ھ/25 ستمبر 2019 ء